کرہ ارض سے برف تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔گلومل وارمنگ سے جہاں ماحولیاتی آلودگی ایک مسئلہ ہے تو دوسری طرف برف کا تیزی سے پگھلنا اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔گلومل وارمنگ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں برف پگھلنے میں پینسٹھ فیصد تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔1994 سے لے کر 2017ء تک آٹھائیس ٹریلین ٹن برف پگھل چکی ہے۔ماہرین نے اتنی تیزی سے برف کے پگھلنے کو آبی حیات اور کرہ ارض کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے برف پگھلتی رہی تو سمندروں کی سطح مزید سترہ فیصد تک بڑھ جائیگی۔جس سے بڑے بڑے سیلاب آ کر تباہی مچا سکتے ہیں۔
ڈینش کے مطابق اس سب کی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک عام انسان اس صورت حال میں اپنا کردار کیسے ادا کرے کہ گلوبل وارمنگ میں کمی آ سکے؟
ایک عام انسان تھوڑا نہیں بہت کچھ کر سکتا ہے۔بقول اقبال ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
یہ زمین ہمارا گھر ہے۔جس پر ہماری حیات کا دارومدار ہے۔ہر وہ کام جو اس زمین کے لیے نقصان دہ ہے وہ مت کریں۔
درختوں کی بڑی مقدار میں کٹائی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں وہی درجہ حرارت بھی بڑھا ہے۔اگر ہر پاکستانی اپنے طور پر درخت لگانا شروع کر دے۔صحن نہیں تو نا سہی کھڑکیوں میں ،چھتوں پہ جہاں بھی جگہ میسر ا ۓ بیل کی صورت میں گملوں میں سبزیاں اور خوشنما پھول اگا سکتے ہیں جو سبزیاں بھی دیں گے اور ساتھ میں درجہ حرارت بھی کم کریں گے۔یہ بہت بڑی انویسٹمینٹ ہوگی حضرت انسان کی جو وہ اپنی دھرتی ماں کے لیے کرے گا۔
دوسری اهم بات یہ کہ پڑول اور دیگر گیسز جب جلتیں ہیں تو ان سے اٹھنے والے دھویں سے درجہ حرارت بھی بڑھتا ہے اور اوزون لیئر کو بھی نقصان پہنچتا ہے ایسے میں ہر فرد چھوٹے موٹے کاموں کے لیے گاڑی یا بائیک کی جگہ سائیکل استعمال کرے اور پیدل چلنے کو ترجیح دے۔صحت بھی اچھی رہے گی اور ماحول بھی۔۔
یہ وہ اقدام ہیں جو ہم اپنے طور پر ماحول سے گلوبل وارمنگ کا خطر ہ کم کرنے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔