352

کیا بیٹیاں اس لیے پیدا کی جاتیں کہ سرعام لوٹ لیں جائیں؟

تحریر شئیر کریں


۔۔۔۔
جب عزتیں سرعام لوٹی لیں جائیں تو ہر نکتے پہ بات ہوتی ہے سواۓ ایک نکتے کے جو اس طرح کے کیسز میں بنیادی سبب ہوتا وہ یہ کہ جب پتہ ہے کہ درندے سرعام پھرتے اس ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے ۔پولیس خاموشی تماشائی اور کبھی کبھی خود اس طرح کے کیسز میں ملوث ہوتی ہے تو پھر کس پاگل نے کہا کہ اکیلی عورت سفر کرے۔نبی کریم ﷺ کے واضح فرمان ہیں کہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نا کرے۔اگر اس عورت کا شوہر ساتھ ہوتا تو میرا نہیں خیال کوئی یہ جرات کرتا۔دوسری اہم بات رات کا سفر ہے۔رات جس میں شر پوشیدہ ہوتا ہے۔شیطان صفت لوگ اپنے رذیل مقاصد پورے کرنے کے لیے چوکس ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں شام کے بعد عورت کا اکیلی گھر سے نکلنا معیوب بات نہیں حالانکہ یہ شرعی اور معاشرتی نقط نظر سے معیوب ہے۔پر جدید دور کے فتنوں میں ایک فتنہ یہ بھی ہے کہ اب اسطرح کے احکامات کو بوسیدہ اور دقیانوسی کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے۔اور پھر کوئی بیٹی بہن اور بیوی اس حادثے کا شہکار ہوتی ہے۔رات ہونے والا حادثہ بہت سے اہم پہلووں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے بارے میں زبان کنگ ہوتیں ہیں۔بلا ل قطب پاکستان کے مشہور مذہبی سکالر ہیں ٹی وی شو میں بات کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ہماری فیملی ایک پڑھی لکھی فیملی ہے۔مگر مجال ہے کبھی شام کے بعد ہمارے گھروں میں عورت باہر جاۓ۔بہت سے مذہبی اور دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔کیا بیٹیاں اس لیے پیدا کی جاتیں ہیں کہ سرعام لوٹ لی جائیں؟کیا عزتوں کے رکھوالے اپنی ذمہ داریاں پوری کر پا رہے ہیں۔یہ سوال ہر مرد کو خود سے کرنا چاهیے؟صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پہ مدعا ڈال کر چپ نہین رہ سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں