کیا تھے وہ پاندان
نصرت یوسف
پاندان کے نام سے کسی زندہ سلامت انسان کی
تحریر کو لگتا ہے ادیب کے کسی”حاسد مرید”نے ادیب کی گود سے نکال کر ہر جگہ پھرا دیا، اب ایک عمدہ تخلیق الفاظ بازار میں لاولد کھڑی کبھی ادھر تو کبھی ادھر جارہی ہے لیکن ولدیت سے محروم.
ہم نے بھی اسے دلچسپی سے پڑھا اور خدا جانتا ہے اس لیے دلچسپی سے پڑھا کہ ہم بھی دادی جان اور نانی اماں کے پاندان کے دیدار اور پندار دونوں ہی سے فیض پاۓ.
گو نانی اماں دہلی میں تھیں قلعہ معلیٰ کے آس پاس علاقہ چاندنی چوک میں لیکن انکا پاندان اپنی وضع سے اتنا کیا اتنا بھی شاہی نہ لگتا تھا جو دادی جان کا تھا.
وجہہ جو بھی ہو ہمیں دونوں پاندانوں سے خاص دلچسپی تھی.. نانی اماں کے پاندان میں وقت کی تبدیلیاں تھیں جو ہمارے لیے دلکش حال تھیں، انکے پاندان کی ایک ڈبی ایسی بھی تھی جو ڈھکن والی تھی، اس میں سکے بھرے رہتے تھے، چھوٹے بڑے ہندوستانی کرنسی کے کھنکھناتے سکے جسے وہ بوقت ضرورت نوکر کو فوری ضرورت کی شۓ خریدنے کے لیے سہولت سے دے دیتیں.. ہمیں اس پاندان میں سب سے دلچسپ وہی موسیقی پیدا کرتی ڈبی لگتی جو اس مالیت کا سکہ بھی رکھتی جس سے لمکا آجاتی، سائکل رکشہ کے کرایہ ادا ہوجاتا اور بھی بہت سے کام ممکن تھے.
نانی اماں بہت محنتی نفیس خاتون تھیں، انکا پاندان بھی اب سوچو تو ایک ایسی شخصیت کا لگتا ہے جسکو ڈھیروں کام کے ساتھ اپنا شوق بھی برقرار رکھنا ہو.
نہ تام نہ جھام بس کام اور نۓ تخلیقی کام.
ہمارے بچپن تک کچھ ستر اور اسی کی دہائی میں ہم نے اپنے ملک پاکستان کا کوئی ایسا سکہ نہ دیکھا جو سموسہ اور آٹھ آنے والی کہانی کتاب سوا ہماری دلچسپی کی کچھ چیز خرید سکتا ہو. ان سب کے لیے پیپر کرنسی ہوتی.
اور پیپر کرنسی ہماری احتیاط پسند شاہی انداز والی دادی جان کو پکڑنے سے سخت کراہت اس وقت آتی جب انکے ہاتھ دھلے دھلاۓ صاف ہوں اور انکو لینی یا دینی ہو..
خیر یہ اپنی جگہ دلچسپ موضوع ہے خصوصاً 2020 کے کووڈ جرثومے آمد بعد.
ہم پاندان کی جانب آتے ہیں.. دادی جان کا پاندان ہمیں بہت ہی وزنی لگتا جس کو ہر کچھ عرصہ بعد قلعی کی حاجت ہوتی.. کتھے، چونے کی کلیوں کو خالی کیا جاتا، چھالیہ کاٹنے کا بھاری سروتہ دھار لگوایا جاتا، اور جب پاندان جو ہمیں viking کے خزانے کے صندوق کا کوئ چھوٹا موٹا سا رشتدار لگتا قلعی ہوکر جھل مل ہو کر آتا تو کتنی دیر سفید براق کپڑوں میں سرمئ مائل کٹورا سی آنکھوں والی دادی اور پاندان دونوں ہی ہمیں ایک ساتھ ایک ہی جیسے خوبصورت لگتے.
سانچی پان کے پتوں کو نفاست سے توڑ کر انہوں نے علیحدہ نم کپڑے میں لپیٹا ہوتا، جو ایک ٹوکری میں پاندان کے ساتھ علیحدہ رکھے ہوتے، کوئ مہمان آتا اور ماشاءاللہ خوب بڑا کنبہ اور ہر محبت بھرے دلوں کے ساتھ مہمان آتے بھی بہت تھے، دادی جان فورا خاطر داری پاندان سے شروع کردیتیں.. نوکر چاکر نہ تھے، نہ کسی کو وقت بے وقت تکلیف دینے والا مزاج، آۓ گۓ کی مہمان نوازی عمدہ درجہ کے پان سے شروع ہوکر کٹی ہوئ املی کی چیا پھانک نے پر ختم بھی ہو جاتی.
سانچی پان ختم ہونے سے قبل ہی میرے والد اماں کے پاندان کی ٹوکری جھانک کر اندازہ کرلیا کرتے تھے کہ پان کوٹہ مہیا کرنے کا وقت ہو چلا ہے،اور اتوار کی صبح جب وہ زنبیل اٹھاۓ ہفتہ بھر کی گوشت ترکاری لانے جاتے تو سب سے بڑی اولاد ہونے ناطے ہم بھی پاپا کے ساتھ ہوتے.. سانچی پان خریدتے، کاغڈ میں لپٹے سانچی پان دادی جان دھاگا کھول کر کہتیں، “دھو کر، پانی، جھاڑ کر لانا”
جھل مل کرتا پاندان پھر سے مہمان داری کے لیے تیار ہو جاتا.
پاندان اور دادی جان سے بہت مانوس اور الفت کے باوجود انکی اولاد میں پان کی اجنبیت برقرار رہی، جسے انہوں نے رہنے دیا، ہاں چھالیہ اور چیا پھانکنا پھر بھی مانوس ہوگیا.
دادی جان کی وفات میرے اسکول ختم ہونے سے قبل ہوگئ تھی.. اس گھر میں میرا پھر کبھی دل لگ ہی نہ سکا اور نہ میرے والد کا.. جلد ہم وہاں سے منتقل ہوگئے. چاندنی جیسے پاندان اور مٹی کے مرتبان والی دنیا کا باب پھر کبھی ہماری زندگی میں آج تک کھلا ہی نہیں.
اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، الأحياء منهم و الأموات.