کیا دنیا کی زندگی کھیل تماشہ ہے؟
انسانی زندگی مقصد سے عبارت ہے۔بے مقصد کام وقت کا ضیاع ہی نہیں انسانیت کا زوال بھی ہے۔گزشتہ دنوں منہاج ہونیورسٹی سے کسی نے پیشانی سے اخروٹ توڑنے کی تاریخ رقم کی جسے بہت سراہا گیا اور گنیز بک میں جگہ بھی دے دی گئ۔۔اسی طرح قرون اولی کے خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں بھی ایک نوجوان نے نے سوئی کے ناکے سے دوسری سوئی گزارنے کے فن کا مظاہرہ کیا تو اسے سزا سے نوازا گیا کہ یہ وقت اور صلاحیتوں کاضیاع ہے۔
گزشتہ دہائیوں سے منفرد دکھنے کا جو جنون نئ نسل کے سر پہ سوار ہوا ہے۔اس نے مقصدیت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔نام رکھنے سے لے کر فن کا مظاہرہ کرنے تک ہر چیز میں انفرادیت ہونی چاہیے ۔یہ جنون ہے پاگل پن ہے۔جس میں عصر حاضر گرفتار ہوچکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ زوال ایک دن میں نہیں آیا کرتا بالکل اسی طرح جس طرح عروج ایک دن کی بات نہیں۔دونوں کے لیے محنت کرنا پڑتی ۔انسانیت جس تیزی سے زوال کی طرف رواں دواں ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کمائی بھی ایک دن کی نہیں اس کے پیچھے پون صدی کی کہانی پوشیدہ ہے۔یم پاکستانی اپنی روایات اور تہذیب وتمدن کو چھوڑ کر جس راستے کی طرف رواں دواں ہے اس کی منزل صرف تباہی ہے۔جو ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔قرآن آب حیات ہے جو قوموں کوتہذیبوں کو ابدیت کا سبق سکھاتا ہے۔امر ہونے کے گن بتاتا ہے۔جس قوم نے اس کتاب کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا وہ تاریخ میں امر ہوگی ۔اس کتاب میں لکھا ہے۔ زندگی کھیل تماشہ نہیں ہے۔اور ہم سے کوتاہی یہ ہوئی کہ ہم نے اسے کھیل تماشے کی جا بنا لیا۔
امتحان کی تیاری نہ کرنے والا طالب علم کمرہ امتحان میں ہمیشہ پریشان ہوتا ہے اور رزلٹ کے دن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑھتا ہے
بالکل اسی طرح اگر آج ہم نے اپنے ایمان کی پرواہ نہ کی تو موت کے وقت ہمیں انتہائی پریشان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخرت کی تمام منزلیں ہمارے لیے حسرت اور ناکامی کا پیغام لے کر آئیں گی
جاگ جائیں آج وقت ہے خواہشات نفس کی محبت اور
لوگوں کو خوش کرنے کا جنون لوگوں کا ڈر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ اور مال و اسباب کے دکھاوے نے ہمیں دین سے بہت دور کر دیا ہے
خود کا حساب کریں اس سے پہلے کہ رب آپ کا حساب کرے کیونکہ موت کے وقت وہی سرخرو ہو گا جس نے پھونک پھونک کر قدم رکھا ہو گا.
بے مقصدیت ،فراغت،ناموری کی تمنا سب اسی کے شاخسانے ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم مقصد والی زندگی عطا کرے۔آمین