کیا گوگل پر بیماری کا علاج سرچ کرنا درست ہے؟
گوگل سرچ انجن اب ہر مسئلے کا حل بتاتا نظر آتا ہے۔کوئی ہنر سیکھنا ہو یا کسی بیماری کا علاج دریافت کرنا سب کچھ سیکنڈز میں آپ کے سامنے آن موجود ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا گوگل پہ علاج سرچ کرنا ٹھیک ہے؟
ماہرین کے مطا بق گوگل سے عمومی سرچ ٹھیک ہے مگر صحت کے حوالے سے سرچ ٹھیک نہیں۔اس سے آپ کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔گوگل پہ کبھی کبھی آپ کی معمولی بیماری کی علامت بڑی بیماری کی صورت میں شو کر سکتی ہے۔اور یہ بھی ہو سکتا جو دوائی گوگل بتاۓ وہ سراسر غلط ہو ۔اس لیے اس حوالے سے ڈاکٹر سے ہوچھے بغیر کبھی دوائی مت کھائیں
زندگی بہت قیمتی ہے۔صحت پہ ہی ہماری زندگی کا دارو مدار ہے۔گوگل اور یوٹیوب پہ ایسے چینلز کی بھرمار ہے جو ٹوٹکے بتا بتا کر دماغ کھا رہے ہوتے ہیں۔مگر ہمیں کبھی کبھی دیکھا دیکھی چیز استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ممکن ہے ایک ٹوٹکہ کسی ایک کے لیے مفید ہو مگر دوسرے کے لیے نقصان دہ۔۔ یہ فیصلہ ڈاکٹر یا مستند حکیم کرتا ہے کہ کونسی چیز آپ کے لیے کب اور کتنی فائدہ مند ہے۔اس وقت گوگل پہ سب سے زیادہ جو چیز سرچ کی جارہی ہے وہ صحت ایشوز ہی ہیں ۔لہذا مستند معلومات تک رسائی گوگل کے لیے اتنی ہی مشکل ہے جتنا کہ خالص دودھ ہمارے معاشرے سے ملنا مشکل ہے۔
لیذا ایسی ویب سائیٹس ایسے ویڈیوز چینلز سے پرہیز کرنا چاہیے جو سستی دوکان کھولے غلط معلومات بیچ رہے ہیں۔زیادہ کلک زیادہ پیسے یہی ان کا سط سے بڑا ہتھیار ہے۔صحیح معلومات کے لیے کسی مستند اور جان پہچان والے بندے سے اپنی صحت کے حساب سے معلومات لی جا سکتیں ہیں مگر خالی گوگل پہ ھروسہ مت کریں۔