” جب زندگی شروع ہو گی…”
آج میں بہت خوش ہوں وہ اس لیے کہ مجھے میرا ہم خیال مل گیا ہے
جانتے ہیں وہ کون ہے؟
“جب زندگی شروع ہوگی” ناول کے رائیٹر ابو یحییٰ
جب سے میری امی اللہ جی کی مہمان ہوئی ہیں تب سے میں نے دنیا اور آخرت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے..
اب میری سوچ عام لوگوں سے نہیں ملتی.
ایسا لگتا ہے کہ یہ سب لوگ اس فانی دنیا کی گہما گہمی میں اس قدر کیسے مشغول ہیں جس نے عنقریب فنا ہو جانا ہے.
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری آئے روز ایسی باتوں سے آپ لوگ بور ہونے لگے ہیں مگر حقیقت یہی ہے جو ہم چاہ کر بھی نہیں بدل سکتے بس اس سےنظریں چرا کر زندگی جی رہے ہیں.
جیسے لوگ مجھ سے بور ہو رہے تھے دن بدن ویسے ہی میں بھی بوریت کا شکار ہو گئی تھی سب پرانی سنی سنائی اور گھسی پٹی تحاریر پڑھ پڑھ کر, جس میں صرف دنیا دنیا اور دنیا کی باتیں تھی,
میرے لئے تو اب وہ دنیا دلچسپ ہے جہاں میری امی پہنچ کر میرا انتظار کر رہی ہیں
ہر وقت ذہن میں یہ سوچتی کہ میری امی جو ہر چھوٹی چھوٹی بات مجھ سے شیئر کرتی تھی اب کس حال میں ہونگی’؟
کیسے اتنی بڑی باتیں وہ مجھے نہیں بتا پائی
عزرائیل علیہ السلام کو دیکھ کر انہوں نے کیا سوچا ہو گا؟
عالم نزع کے وقت ان کو تکلیف ہوئی ہو گی یا ان کی روح بہت نرمی سے نکالی گئی ہو گی؟
ان کو تو بہت ڈر لگتا تھا موت اور قبر سے
ایک امید اور خوف کی سی کیفیت میں دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہا کرتی تھی تو آخر ان کے ساتھ کیا کیا معاملات پیش آئے ہونگے
کیا وہ وہاں جا کر بھی مجھے اتنا ہی یاد کرتی ہونگی جتنا یہاں ذرا دیر کو بھی نظروں سے اوجھل ہو جانا برداشت نہیں کر پاتی تھی؟
اس لیے میں چاہتی تھی کہ مجھے کوئی میرے جیسا ملے جو مجھ سے اس دنیا کی باتیں کرے جب یہ خواب والی زندگی سے بیدار ہو کر ہماری اصل زندگی کا آغاز ہو گا
پھر اچانک مجھے یہ ناول مل گیا, اور ایسا لگا کہ مجھے ہم راز مل گیا۔ ابو یحییٰ نے بھی میرے جیسے درد اور غم سے گزرنے کے بعد اسے صرف میرے لیے لکھا ہے.. ابھی میں نے صرف پڑھنے کا آغاز کیا ہے مکمل پڑھنے کے بعد تبصرہ شیئر کروں گی ان شاء اللہ
✍️نگین چشتی