یوم پاکستان کا پیغام اہل پاکستان کے نام
ثوبیہ عمار جھنگ
یوم پاکستان کیا ہے
دنوں کی تقسیم تو بے شک خدا کی ہے لیکن ہر دن گزرکر کچھ انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کا دن بھی ایسا ہی دن ہے۔
ہر سال 23 مارچ اپنے جلو میں اس عظیم دن کی یاد لیے چلا آتا ہے جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمان زبان اور رنگ و نسل کے فرق کو مٹائے صرف ایک کلمہ کی بنیاد پر منٹو پارک میں اکٹھے ہوئے اور اپنے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔
یوم پاکستان کی اہمیت
علامہ محمد اقبال خدا انہیں غریقِ رحمت کرے جیسے دانشور اور دوراندیش رہنما نے مسلمانوں کے سامنے ایک الگ وطن کا مطالبہ مع نقشہ رکھا۔
خواب تھا اقبال کا اور قائد کی لگن
اور پھر دیکھنے والی آنکھ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ برصغیر کے لاکھوں مسلمان قائد محترم کے ساتھ ڈٹ گئے، اڑ گئے، پھر وہ کٹ گئے لیکن اپنے مطالبے سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے۔ ایک طویل جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور بالآخر سات حرفی لفظ ”پاکستان“ اپنے وجود کے ساتھ دنیا عالم کے نقشے پر ابھرا۔
آج 75 سال پون صدی بعد 23 مارچ کا دن ایک کرب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ زخم زخم چند خاندانوں کے لیے تر نوالہ بنا ہوا پاکستان جہاں کے لوگ روز جیتے اور روز مرتے ہیں کیا اسی لیے حاصل کیا تھا کہ چند نااہلوں کی وجہ سے اس کا صفحۂ ہستی پر قائم رہنا ہی مشکل ہو جائے؟
ابھی بھی وقت ہے اس سوئی قوم کو جگایا جائے جو دکھوں کو اپنا نصیب سمجھ کر فرار کی راہ اختیار کیے آنکھیں بند کیے بے عمل بیٹھے ہیں۔
خدارا اٹھیے اور 23 مارچ کے پیغام کو عام کیجئے۔ علامہ اقبال جن کےافکار اس وطن کی بنیاد بنے فرماتے ہیں
”میں زندگی بھر کے مطالعے کے بعد اسلام کو بطور ایک عالمگیر حقیقت کے دیکھنے کی استعداد حاصل کر چکا ہوں لہذا جب بھی مسلمانان ہند کے لیے کوئی سیاسی راہ عمل متعین کروں گا تو وہ اسلام ہی کے اصولوں سے ماخوذ اور مستنبط ہو گی۔“
بالآخر 23 مارچ 1940 کے اجتماع میں انہوں نے مشہور زمانہ دو قومی نظریہ بیان کرتے ہوئے فرمایا
”ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے. اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے۔“
مزید فرمایا
”میں ہندوستان اور اسلام کی فلاح بہبود کے لیے ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے ہماری ملت کو مستقبل قریب میں ایک آزادانہ راہ عمل اختیار کرنی پڑے گی وہ راہ عمل جو ایک مقصد پر مرکوز ہو۔“
آج بھی ہمارے بحرانوں سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اسلام کا نفاذ۔
پاکستان صرف اور صرف اسلام کے لیے بنا ہے
تو پاکستانیوں کی نجات بھی کسی اور چیز میں نہیں بلکہ صرف اسلام میں ہے۔
اٹھیے اورقدم تیز کیجئے نفاذ اسلام کے لیے، اللہ کے نظام کے لیے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ بن کے ابھرے گا۔ ان شاءاللہ
یوم پاکستان کا پیغام