آج کل زلزلے کیوں آ رہے ہیں؟ — احادیث کی روشنی میں ایک تجزیہ
حالیہ زلزلوں کی خبر:
16 اپریل 2025 کو پاکستان کے مختلف علاقوں جیسے کہ لاہور، اسلام آباد، پشاور، راولپنڈی، سوات اور چترال میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی، اور مرکز افغانستان کا ہندوکش علاقہ تھا۔ لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے، مگر الحمدللہ اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
گوگل پر ٹاپ ٹرینڈ:
“Earthquake near me” جیسے الفاظ آج کل گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام میں اس موضوع پر خوف اور تجسس دونوں موجود ہیں۔
—
احادیث کی روشنی میں زلزلے:
اسلامی تعلیمات کے مطابق زلزلے محض زمینی حرکات نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ یا آزمائش ہو سکتی ہیں۔ کچھ احادیث درج ذیل ہیں:
1. زمین کی گواہی اور حرکت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب لوگ کھلے عام گناہ کرنے لگتے ہیں اور برائی کو عام کرتے ہیں، تو زمین پر زلزلے، طوفان اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔”
(سنن ترمذی)
2. قیامت کی نشانی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زلزلے زیادہ نہ ہو جائیں۔”
(صحیح بخاری: 7121)
3. زلزلے سے ڈرنا اور اللہ کی طرف رجوع:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب زلزلہ آیا، تو آپ نے فرمایا:
“اے لوگو! یہ زلزلہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے، اگر دوبارہ آیا تو میں تمہارے درمیان نہ رہوں گا۔”
—
کیا کریں جب زلزلہ آئے؟
– استغفار کریں
– نماز، خاص طور پر نفل نماز ادا کریں
– صدقہ دیں
– گناہوں سے توبہ کریں
– زلزلے کے وقت کلمہ طیبہ اور سورۃ الزلزال کی تلاوت کریں
اللہ ہمیں اپنی نشانیوں سے غافل نہ کرے۔ زلزلے ہمیں جھنجھوڑنے آتے ہیں تاکہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور واپس اللہ کی طرف لوٹیں۔ آئیے ہم سب اپنی ذات، گھر اور معاشرے کی اصلاح کی طرف قدم بڑھائیں۔
حادثات اور زلزلوں سے بچاؤ کی جامع مسنون دعا:
اللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنَ التَّرَدِّیْ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوْذُبِكَ أَنْ یَتَخَبَّطَنِیَ الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوْذُبِكَ أَنْ أَمُوْتَ فِیْ سَبِیْلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوْذُبِكَ أَنْ أَمُوْتَ لَدَیْغًا
ترجمہ:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عمارت کے نیچے دب کر مرنے سے،
اور گرنے سے،
اور ڈوبنے، جلنے اور بڑھاپے سے،
اور اس سے کہ موت کے وقت شیطان مجھے بہکا دے،
اور اس سے کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیر کر مارا جاؤں،
اور اس سے کہ مجھے کوئی زہریلا جانور کاٹ کر مار دے۔
(مسند احمد، ابو داؤد)
—