219

آخری روزہ

تحریر شئیر کریں

آخری روزہ

گرد کے بوجھ تلے دبی گلیاں، زرد دیواروں پر دھوپ کیلرزتی لکیریں، اور ہوا میں معلق ایک بوسیدہ سی خاموشی۔ رمضان کا آخری روزہ تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے سورج کی کرنیں مٹی کی سوندھی باس میں تحلیل ہو رہی تھیں۔

حیات اماں کے سامنے بیٹھی تھی، نظریں جھکی ہوئیں، مگر اندر کہیں اضطراب کی ایک ہلکی سی لکیر ابھری ہوئی۔ اماں نے کچن میں کچھ چمچوں کی کھنک سنائی دی، پھر ایک تھالی میں کھجوریں اور پانی کا گلاس رکھا۔

“لے بیٹی، روزہ افطار کر لے۔”

حیات نے سر اٹھایا، اماں کی آنکھوں میں ایک انجانی چمک تھی، جیسے وہ کوئی پرانی یاد دہرا رہی ہوں۔ وہ روزہ کھولنے ہی والی تھی کہ باہر گلی میں کسی کی سسکی گونجی۔ اس کے ہاتھ ٹھٹک گئے۔

دروازے پر جا کر جھانکا تو ایک چھوٹی بچی، میلے کپڑوں میں لپٹی، دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔ حیات نے اماں کی طرف دیکھا، اماں نے ایک نظر بچی پر ڈالی، پھر کھجوروں کی پلیٹ آگے بڑھا دی۔

حیات نے ایک لمحے کو سوچا، پھر کھجور بچی کے ہاتھ میں تھما دی۔ بچی نے لرزتے ہاتھوں سے کھجور لی اور ایک ہی نوالے میں چبا گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے کسی نے صدیوں کا اندھیرا مٹا دیا ہو۔

اذان کی آواز فضا میں گھل چکی تھی، مگر حیات کی روح کی پیاس کچھ اور طرح سے بجھ چکی تھی۔ آج کا آخری روزہ ایک انوکھے رنگ میں افطار ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں