429

آداب سفر

تحریر شئیر کریں

: آداب سفر

مضمون نگار: بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد

یوں تو اکثر لوگ سارا سال ہی محوِ سفر رہتے ہیں۔
کوئی کاروباری اور تجارتی غرض کے لیے اندرون اور بیرونِ ملک کے پھیرے لگاتا رہتا ہے، کوئی عازمِ حج وعمرہ اور زیارات ہے، تو کوئی سیاحتی مقامات کی سیر کرنے کی غرض سے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔ اور کوئی زندگی کا بوجھ کاندھوں سے اتار کر راہی بہ عدم ہو رہا ہے۔


موسمِ گرما و سرما کی چھٹیوں اور عیدین کے موقع پر سینکڑوں افراد اپنے اہل وعیال کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد روزگار کی خاطر گاؤں دیہاتوں سے شہروں کی جانب رخ کرنے والوں کی ہوتی ہے یا پھر سال میں ایک مرتبہ اپنے رشتے داروں کے ہاں چھٹیاں گزارنے کی والوں کی۔


ریلوے اسٹیشن پر دیکھیں تو لوگ سامان سے لدے پھندے مع اہل وعیال ریل گاڑی کا انتظار کر رہے ہیں۔
کہیں بس اڈے پر مسافروں کا تانتا بندھ رہا ہے۔ ائیرپورٹ پر ملکی و غیر ملکی پروازیں مسافروں کی بڑی تعداد کو لے کر آ جا رہی ہیں۔


کوئی اپنا سفر چند گھنٹوں ، ایک دن میں ختم کر کے اپنی منزل پر پہنچ چکا ہے۔ کوئی ابھی تک سفر میں ہے۔

مسافر کی تعریف کیا ہے؟


اگر کسی کا اپنے شہر، بستی یا گاؤں سے باہر 48 میل یعنی سوا ستتر کلومیٹر دور جانے کا ارادہ ہو تو اپنے شہر یا بستی کی آبادی کی حدود سے نکلتے ہی آدمی شرعی مسافر شمار ہوتا ہے، ایسی صورت میں دورانِ سفر وہ قصر نماز پڑھے گا۔ جس جگہ سفر کا ارادہ ہے اگر وہاں کسی ایک شہر میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہیں ہے، بلکہ پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو وہاں بھی قصر نماز ادا کرے گا، یعنی چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت پڑھے گا، بشرطیکہ مقیم امام کے پیچھے نماز نہ پڑھ رہا ہو، ورنہ مقیم امام کی متابعت کی وجہ سے نماز پوری پڑھنی ہوگی۔


سنتوں کے بارے میں یہ حکم ہےکہ اگر سہولت سے پڑھ سکتا ہو تو پوری پڑھے ورنہ چھوڑ دے یاد رہے کہ فجر اور مغرب کی فرض نماز ، سنتوں اور وتر میں قصر و رخصت نہیں ہے۔


البتہ اگر کسی جگہ پندرہ یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ مسافر نہیں رہتا، بلکہ پوری نماز پڑھے گا۔
حالتِ سفر میں روزہ رکھنا ضروری نہیں، عید الاضحیٰ کے ایام میں حالتِ سفر میں ہونے کی وجہ سے مسافر پر قربانی واجب نہ ہوگی۔


کیا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے؟


حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، سفر کی وجہ سے آدمی کی نیند صحیح سے نہیں ہوتی، کھانا، پینا بھی صحیح سے نہیں ہوتا؛ لہٰذا جب آدمی ضرورت پوری کر لے تو جلد از جلد گھر واپس آئے۔“ (مشکوة شریف، ص ۳۳۸، ۳۳۹، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔


ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مرقات شرح مشکوة میں لکھتے ہیں: ”(دوزخ میں) سفر جہنم کے عذاب کی ایک قسم ہے، اور دنیا کا سفر اسی جنس سے ہے؛ اسی لیے آدمی سفر میں مختلف قسم کی تکلیفیں و پریشانیاں اٹھاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”میں اسے ضرور چڑھاؤں گا صعود پہاڑ پر،“ چناں چہ مسند احمد اور ترمذی وغیرہ میں حضرت ابو سعید خدری اللہ عنہ سے روایت ہے: ”صعود جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے، جس پر کافر شخص ستر سال میں چڑھے گا اور ستر سال میں اترے گا اور اسی طرح ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ اور لوگوں کی زبان پر جو مشہور ہے کہ سفر جہنم کا ایک ٹکڑا ہے تو یہ روایت بالمعنی معلوم ہوتی ہے ورنہ اس کے الفاظ ثابت نہیں۔


تنہا سفر کرنے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے نقصانات کو اس طرح جانتے جیسا کہ میں جانتا ہوں، تو کوئی مسافر رات میں تنہا سفر نہ کرتا۔“


واضح رہے کہ نقصانات سے ” دینی اور دنیاوی نقصانات ” مراد ہیں، چنانچہ دینی نقصان تو یہ ہے کہ تنہائی کی وجہ سے نماز کی جماعت میسر نہیں ہوتی اور دنیوی نقصان یہ ہے کہ کوئی غم خوار و مددگار نہیں ہوتا کہ اگر کوئی ضرورت یا ناگہانی حادثہ پیش آجائے تو اس سے مدد مل سکے۔ ” سوار ” اور ” رات” کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ سوار کو پیادہ کی بہ نسبت زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے خصوصاً رات میں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ ضرورت کے وقت یا کسی مصلحت کے تحت (جیسے جاسوسی وغیرہ ) کے لیے اکیلے سفر کرنا جائز ہے۔


حدیث شریف میں ممانعت عام حالات کے اعتبار سے ہے۔
اسی طرح اگر راستہ پُرامن ہو، کوئی ڈر و خوف و اندیشہ نہ ہو اور اکیلے سفر کی ضرورت پیش آجائے تو اکیلے سفر کرنا جائز ہے، لیکن اگر راستہ پُر امن نہ ہو اور کوئی ڈر و خوف ہو تو اکیلے سفر سے حتی الامکان طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔


خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث شریف میں اکیلے سفر کی ممانعت کا تعلق آداب اور مستحبات کے ساتھ ہے، جواز اور عدم جواز کے ساتھ نہیں ہے۔ یعنی سفر کے آداب میں سے ہے کہ آدمی تنہا سفر نہ کرے، کیونکہ اس میں وحشت ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے تو اگر آدمی کے ساتھ سفر میں ساتھی ہوگا، تو اس سے مدد مل سکے گی۔


رحمتہ اللعالمین محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر شفیق و مہربان ہیں اور ہر چیز میں اپنی امت کی راحت کا خیال رکھتے ہیں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے کو منع فرمایا۔
سفر کرنے سے پہلے، دوران سفر اور منزل پر پہنچنے کی

دعائیں:


سفر پر روانہ ہونے سے پہلے سوار جب اپنا پہلا قدم سواری پر رکھے تو بِسْمِ اللّٰهِ پڑھے، جب اوپر چڑھ جائے توالْحَمْدُ لِلّٰهِ پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ


اس کے بعد تین مرتبہ اَللّٰهُ اَكبَرُ اور تین مرتبہ الْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ


بعض روایات میں سواری پر سوار ہونے کے بعد اس دعا کے پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ

واپسی کے سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یہ اضافہ بھی فرماتے تھے:

آئِبُونَ، تَائِبُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔
فقط واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں