زینب بتول
خوش تھے پیرو جواں
بازار تھے رونق بھرے
آباد تھے مہ خانے
مظلوم کی آہ سے بے خوف
لوٹ مار دھاڑ تھی
موت سے بے خبر
انساں
خودسے خدا بن بیٹھا
قہر برسا
وبا پھوٹی
زمین ہلی
وجود لرز اٹھے
معلوم ہوا
کوئی اور بھی ہے
کوئی جو شہ رگ سے بھی قریب ہے
یہ زندگی جس کی ہے
اک دنیا اور بھی هے جهاں لوٹ کر جانا هے
وه جو اصل حقیقت هے
کچھ تیاری اسکی بھی کرنی هےلوٹ آیا
اصل کی جانب
انسان
جسے ناز تھا اپنی بستی په
معلوم هوا
کچھ بھی نهیں۔۔۔۔۔سواۓ معنی کے