415

آنکھیں

تحریر شئیر کریں

آنکھیں دنیا کی وہ نعمت جسے کوئی اندھا ہی جان سکتا ۔ایک ایسی تحریر

ایک دوست زمیندار کے ڈیرے پر ایک نابینا حافظ جی سے ملنا ھوا جو زمیندار کی والدہ ماجدہ کی قبر پہ روزانہ تلاوت کی خدمت پہ مامور ھیں. گپ شپ کے دوران میں نے حافظ جی کا تفصیلی تعارف حاصل کیا تو معلوم ھوا کہ شہر کے نواح میں چند ایکڑ زمین کے مالک ھیں. بیوی، دو بیٹوں اورایک بیٹی کے ساتھ ذاتی مکان میں مقیم ھیں اور والدہ زندہ ہیں تا حال

باتوں ہی باتوں حاجی صاحب سے پوچھ بیٹھا رنگ کا مطلب جانتے؟بولے میرے لیے تو یہ لفظ ہے ہاں دنیا والوں کے لیے یہ لفظ مطلب رکھتا ہے۔رنگوں سے پھولوں سے بھری دنیا جس میں وہ اللہ کے دیے ہوۓ نور آنکھوں کی مدد سے چیزوں میں فرق کر سکتے ہیں۔

میں نے کہا حافظ جی کاش آپ دیکھ سکتے یہ دنیا کتنی خوبصورت ھے. نہر کے کنارے سڑک اور درختوں کی قطار دور تک اور پھر اس کا موڑ کتنے بھلے لگتے ھیں. بہار میں پھول، سبزہ، طلوع وغروب کا منظر. چاندنی اور ستارے کیسے لگتے ھیں.

میں نے پوچھا حافظ جی اگر تمہاری زمین اور مکان لے لیا جائے اور کچھ دیر کیلئے آنکھوں کو بینائی دے دی جائے تو کیسا ھے؟ کتنی دیر کی بینائی چاھو گے اور کیا کیا دیکھنا چاھو گے؟

حافظ جی گویا ھوئے مرشد مجھے یقین ھے کہ آپ کی دعا سے اللہ میری بینائی بحال کرسکتا ھے لیکن مجھے نابینا رکھنے میں ضرور اسکی کوئی حکمت ھے اور میں اس پہ راضی ھوں. مجھ پہ اللہ کا بڑا کرم ھے میں تھک کر گھر جاؤں تو میری بیوی میرے پاوں دھو کر کچھ دیر تک انہیں نیم گرم پانی میں رکھتی ھے، پھر خشک کرکے مجھے لٹاتی ھے اور میرا جسم دباتی ھے، میں پانی مانگوں تو تین تین کٹورے آجاتے ھیں بیٹے کہتے ھیں پہلے ھم لائے ھیں اور بیٹی کہتی ھے میں لائی ھوں. بیٹی میرے سینے پہ لیٹ کر میری اندھی آنکھیں چومتی ھے اور میری ماں نے مجھے بہت محبت سے پالا ھے اور ھر گھڑی دعائیں دیتی رھتی ھے.

مرشد مجھے پھر بھی سودا منظور ھے میرا سب کچھ لے کر مجھے بینا کردیں مجھےکہیں نہیں جانا مجھے کوئی منطر اور رنگ نہیں دیکھنے… ھاں میں کچھ دیر کیلئے اپنی ماں کا چہرہ دیکھنا چاھتا ھوں، اپنی خدمت شعار بیوی، بیٹوں اور اندھی انکھوں کو چومنے والی بیٹی کو دیکھنا چاھتا ھوں… صرف ایک بار…..

فاشکروا یااولی الابصار…
بینائی والو شکر کرو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں