ارھم ا؛یقین 267

ارھم الیقین افسانہ

تحریر شئیر کریں

اندھیری رات، طوفانی ہوائیں، اور سمندر کی بے رحم لہریں۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری کائنات شور مچا رہی ہو، جیسے کسی بڑی حقیقت کا پردہ چاک ہونے والا ہو۔ احمد کشتی کے کنارے بیٹھا، پانی کی گہرائیوں کو تکتا رہا۔ کشتی ہچکولے کھا رہی تھی، اور احمد کا دل بھی اسی طرح خوف کے جھکڑوں میں ڈول رہا تھا۔

کیا قسمت میں یہی تھا؟ کیا واقعی سب ختم ہونے والا تھا؟

دنیاوی اسباب سب کہہ رہے تھے کہ ہار مان لو۔ منجدھار میں پھنسی کشتی، پیچھے جلتے شہر کی سرخ روشنی، اور سامنے بے کراں سمندر۔۔۔ بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ احمد کے ساتھ چند اور لوگ بھی تھے، سب کے چہرے خوف سے زرد تھے۔ ان میں سب سے بڑی عمر کا شخص، بابا عبداللہ، بے حد پر سکون تھا۔

“بیٹا، اَرْهَمُ الْيَقِينْ، کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟” بابا عبداللہ نے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

“یقین؟ ہاں، اللہ پر یقین ہی تو ہے،” احمد نے لرزتی آواز میں کہا۔

“نہیں، بیٹا! یہ وہ یقین ہے جو آگ کو جلنے نہیں دیتا، پانی کو ڈبونے نہیں دیتا، اور مچھلی کے پیٹ میں انسان کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ یہ وہ یقین ہے جو موسیٰؑ کے لیے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ جو ابراہیمؑ کے لیے آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔ تم اس یقین پر ہو؟”

احمد خاموش ہوگیا۔ ایمان تھا، لیکن ایسا یقین۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا۔

“دیکھو بیٹا، دنیا کے اسباب کو ہم جتنا مرضی جوڑ لیں، اگر اللہ کا حکم نہیں ہوگا، تو کچھ نہیں ہوگا۔ اگر اُس نے چاہا تو ہم اس طوفان سے بچ جائیں گے، اور اگر اُس نے چاہا کہ ہماری آزمائش یہی ہے، تو ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ مگر ایک بات یاد رکھنا، ہمیں اللہ کی قدرت پر اس طرح یقین رکھنا ہوگا جیسے ہم سانس لینے پر رکھتے ہیں۔”

احمد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جو صبح تک دنیاوی اسباب پر بھروسہ کیے بیٹھا تھا، آج اس طوفان کے بیچ میں اللہ کی قدرت کو محسوس کر رہا تھا۔

اچانک ایک بڑی لہر آئی، کشتی پوری طرح ڈول گئی۔ سب نے شور مچایا، چیخ و پکار ہونے لگی۔ بابا عبداللہ نے ایک گہری سانس لی اور بلند آواز میں کہا، “لَا تَخَافُوا، إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا!” (مت ڈرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے!)

اسی لمحے، حیرت انگیز طور پر، ایک بڑی موج کشتی کو اٹھا کر کنارے کی طرف دھکیلنے لگی۔ احمد نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔ چند لمحوں میں کشتی کنارے پر پہنچ چکی تھی۔ احمد حیران رہ گیا، دنیاوی اسباب کے مطابق وہ ڈوبنے والے تھے، مگر “اَرْهَمُ الْيَقِينْ” نے انہیں بچا لیا تھا۔

زمین پر قدم رکھتے ہی احمد نے ایک لمبی سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “اب میں سمجھا، یقین کیا ہوتا ہے۔۔۔”

ارھم الیقین افسانہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں