علی ایک عام نوجوان تھا، لیکن اس کی زندگی ہمیشہ سے ایک عجیب سا تناؤ اور بے چینی کا شکار رہی تھی۔ دن کے وقت وہ کام، پڑھائی اور دوستوں کے ساتھ مصروف رہتا، مگر جیسے ہی رات کا وقت آتا، اس کے دل میں ایک خالی پن اور ذہنی بےچینی پیدا ہو جاتی۔ وہ اکثر سوچتا کہ یہ کیوں ہوتا ہے اور کیوں دن کے مقابلے میں رات میں جذبات اس پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
ایک رات، جب علی اپنے کمرے میں موبائل پر فضول سکرولنگ کر رہا تھا، اچانک اسے یاد آیا کہ قرآن میں سورہ فلق میں اللہ تعالیٰ نے رات کے اندھیری شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے:
“وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ”
“اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔”
علی نے سوچا، “یہ صرف اندھیری رات کی بات نہیں، بلکہ رات کے وقت انسان کی جذباتی کمزوری اور ذہنی پریشانی سے حفاظت مانگنے کا درس ہے۔”
اس نے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد کیے جب رات کو وہ بےچینی میں فیصلے کرتا، غصے میں پیغامات بھیجتا، یا فضول سکرولنگ میں اپنی قیمتی وقت ضائع کرتا۔ اسے احساس ہوا کہ رات میں انسان فطرتاً زیادہ حساس اور کمزور ہوتا ہے، اور اسی کمزوری میں برائی اور غلط فیصلے آسانی سے اثر انداز ہو جاتے ہیں۔
علی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی رات کی عادات بدل دے گا۔ اب وہ جلدی سونے کی کوشش کرتا، موبائل اور سوشل میڈیا کو محدود کرتا، اور رات کو قرآن یا اچھی کتاب پڑھنے کے ساتھ اللہ کی پناہ مانگتا۔
شروع میں یہ آسان نہیں تھا۔ پرانے عادات کے پیچھے مائل ہونے کی کئی بار کوششیں ناکام ہوئیں۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے، علی نے محسوس کیا کہ رات کے وقت جو سکون ملتا ہے، وہ دن کی مصروفیات میں کہیں نہیں ملتا۔ دل کی بےچینی کم ہوئی اور ذہنی وضاحت میں اضافہ ہوا۔
ایک دن علی نے اپنے دوست احمد سے بات کی۔ احمد نے کہا، “میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں۔ رات کے وقت دماغ اور دل حساس ہو جاتے ہیں، اسی لیے رات کی حفاظت اور دعا ضروری ہے۔”
یہ لمحہ علی کے لیے ایک بصیرت بن گیا۔ اس نے حقیقی معنوں میں سورہ فلق کی آیت کو سمجھا۔ رات کا اندھیرا اگر اللہ کی پناہ کے بغیر گزارا جائے تو ذہن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، لیکن اللہ کی پناہ میں انسان اپنی جذباتی کمزوری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ، علی کی زندگی میں یہ تبدیلی نمودار ہونے لگی۔ وہ رات کے وقت زیادہ پرسکون اور متوازن محسوس کرنے لگا۔ اس کی محنت کے نتائج بھی بہتر ہوئے، کیونکہ وہ رات کو فضول سوچ اور پریشانی کے بغیر گزار رہا تھا۔
ایک رات علی نے اپنے چھوٹے بھائی کو دیر تک جاگتے دیکھا۔ اس نے کہا، “بھائی، رات انسان کے لیے حساس وقت ہے۔ اللہ نے سورہ فلق میں ہمیں رات کے اندھیری شر سے پناہ مانگنے کا درس دیا ہے۔ جلدی سونا اور دعا کرنا زندگی کے کئی مسائل ختم کر دیتا ہے۔”
بھائی نے حیرت سے پوچھا، “واقعی؟ لیکن رات کو جاگنے میں کیا نقصان ہے؟”
علی نے وضاحت کی، “رات میں دماغ اور دل حساس ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی فطرت کے مطابق نہ چلیں تو جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، فکر بڑھ جاتی ہے اور ہم غلط فیصلے کر لیتے ہیں۔ اللہ کی پناہ اور جلد سونا سب خطرات کم کر دیتا ہے۔”
علی نے اپنی زندگی میں نیا معمول اپنایا۔ رات کو سونے سے پہلے قرآن پڑھنا، دعا کرنا، اور دل کو سکون دینا اس کا روزانہ کا حصہ بن گیا۔ وہ جان گیا کہ یہ صرف عبادت نہیں، بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے جو انسان کو رات کے اندھیری شر سے محفوظ رکھتی ہے۔
یوں علی نے سورہ فلق کی آیت کو اپنی زندگی میں اتارا، اور رات کی تاریکی میں چھپی برائی سے خود کو بچایا۔ اس کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزاریں، اللہ کی پناہ مانگیں، اور رات کو وقت پر سوئیں تو زندگی کے کئی مسائل خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
—
—