افسانہ بند دریچے
وہ ہر رات سونے سے پہلے دریچے کے پاس آ کر رک جاتی تھی۔
یہ دریچہ اس کے کمرے کی دیوار میں ایک تنگ سا شگاف تھا، جس کے پار نہ کوئی منظر دکھائی دیتا تھا نہ کوئی راستہ—بس ایک گہرا سا اندھیرا، جس میں وہ برسوں سے اپنی خواہشیں پھینکتی آ رہی تھی۔
دریچے کے ساتھ ٹیک لگائے اس کی انگلیاں کانپتی تھیں، جیسے کسی جرم کی گواہ ہوں۔
وہ جانتی تھی، اس کے اندر جو کچھ ہے، اگر کبھی باہر نکل آیا تو سب کچھ بدل جائے گا۔
اسی خوف نے اسے برسوں سے خاموش رکھا تھا۔
جب بھی دل کسی بات پر زور سے دھڑکتا، وہ دریچے کے پاس آ کر آہستہ سے کہتی:
“ابھی نہیں… ابھی نہیں”
اور پھر اپنے ایک خواب کو، ایک جملے کو، ایک چاہت کو
اسی اندھیرے میں دھکیل دیتی۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس دریچے کے نیچے
خوابوں کا ایک ڈھیر جمع ہو گیا تھا
جن پر کسی نے کبھی روشنی نہیں ڈالی۔
—
بچپن میں وہ بہت بولتی تھی۔
اتنا کہ اس کی آواز گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تھی۔
اس کی ماں اکثر کہتیں:
“لڑکیوں کو اتنا بولنا اچھا نہیں لگتا”
پہلے اس نے آواز کم کی۔
پھر سوال۔
پھر ہنسی۔
اور ایک دن… خواہش بھی۔
اس دن اسے پہلی بار احساس ہوا
کہ خاموشی بھی سکھائی جاتی ہے
—
اسے یاد ہے
جب وہ پہلی بار اسکول کی لائبریری میں گئی تھی۔
کتابوں کی خوشبو،
کاغذ کی سرسراہٹ،
اور لفظوں کا جادو—
سب کچھ اسے اپنے اندر کھینچتا محسوس ہوا تھا۔
وہ چاہتی تھی
کہ لفظ اس کے ہوں
کہ کہانیاں اس کے دل سے نکلیں
کہ اس کا نام کسی صفحے پر لکھا ہو
مگر گھر آ کر اس نے کتاب بیگ سے نکالی
تو باپ کی آواز آئی:
“یہ سب فضول شوق ہیں
کام کی چیز سیکھو”
اس رات
اس نے اپنی پہلی کہانی پھاڑی
اور دریچے کے اندھیرے میں پھینک دی۔
—
وقت گزرتا گیا۔
وہ بڑی ہوتی گئی
اور دریچے کے پیچھے اندھیرا گہرا۔
اس کی شادی طے ہوئی
تو سب نے کہا:
“قسمت والی ہے”
مگر کسی نے یہ نہ پوچھا
کہ اس کی قسمت میں وہ خود کہاں ہے۔
شوہر اچھا تھا
برا نہیں تھا
بس… سوال نہیں کرتا تھا
اور وہ
جو ساری زندگی سوال پوچھنے سے ڈرتی رہی
اس خاموشی کو ہی سکون سمجھ بیٹھی۔
—
پھر ایک دن
کسی نے اس سے کہا:
“تم بہت اچھا لکھتی ہو”
یہ جملہ
اس کے اندر کہیں دفن کسی بیج پر پڑی پہلی بوند تھا۔
اس رات
وہ دیر تک دریچے کے پاس بیٹھی رہی
اندر کچھ زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا
اس نے ہمت کر کے
دریچے میں جھانکا
وہاں اندھیرا نہیں تھا
وہاں
اس کی کہانیاں تھیں
اس کی ہنسی
اس کی آواز
اس کے سوال
اور وہ لڑکی
جو کبھی بہت بولتی تھی
سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے
جیسے برسوں سے اس لمحے کے منتظر ہوں۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
مگر یہ آنسو
دفن کرنے والے نہیں تھے
یہ آنسو
زندہ کرنے والے تھے۔
اس نے پہلی بار
دریچہ بند نہیں کیا
اور آہستہ سے کہا:
“ابھی… ابھی ہی”
کچھ دریچے اندھیرے کے نہیں ہوتے
وہ صرف ہماری ہمت کے منتظر ہوتے ہیں۔
—
