196

افسانہ سنت کی روشنی

تحریر شئیر کریں

رات کا وقت تھا۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور آسمان پر ستارے جھلملاتے نظر آ رہے تھے۔ عائشہ اپنے آٹھ سالہ بیٹے عبداللہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ عبداللہ کے بال بکھرے ہوئے تھے، اور وہ اپنی کتابوں کے درمیان اُلجھا ہوا لگ رہا تھا۔ عائشہ نے اپنے بیٹے کے بالوں پر محبت بھرا ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، “عبداللہ، کیا ہم آپ کے بالوں کو تھوڑا سنوار لیں؟”

عبداللہ نے اپنی ماں کی طرف حیرانی سے دیکھا اور کہا، “کیوں امی؟ کیا ایسے ٹھیک نہیں ہیں؟”

عائشہ نے کنگھی اُٹھائی اور محبت بھرے لہجے میں بولی، “بیٹا، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، *’جس کے پاس بال ہوں، وہ انہیں سنوارے۔’* یہ سنت ہے۔” عبداللہ نے دلچسپی سے سر ہلایا اور عائشہ نے نرمی سے اس کے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کر دی۔

اگلے دن صبح کا وقت تھا۔ عائشہ نے عبداللہ کو مدرسے جانے کے لیے تیار کیا۔ اس کے بستے کو ٹھیک کرتے ہوئے بولی، “بیٹا، کیا آپ جانتے ہیں کہ علم حاصل کرنا کتنا بڑا کام ہے؟ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، *’جو علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔’*”

عبداللہ کے چہرے پر خوشی کی ایک جھلک آئی۔ “کیا واقعی، امی؟ پھر تو میں ہمیشہ خوشی سے مدرسے جایا کروں گا۔”

شام کے وقت عبداللہ اپنی پڑھائی سے فارغ ہوا تو وہ عائشہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ عائشہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔ عبداللہ نے پوچھا، “امی، آپ ہمیشہ اتنا مسکراتی کیوں ہیں؟”

عائشہ نے اس کے سوال پر خوش ہو کر جواب دیا، “بیٹا، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ *’اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔’* جب ہم دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں تو یہ بھی ایک نیکی ہے۔”

اسی رات عبداللہ نے اپنی امی کی مدد کرتے ہوئے کچھ کھلونے سمیٹ دیے۔ عائشہ نے خوش ہو کر اس کی تعریف کی، “ماشااللہ، عبداللہ، تم تو بہت ذمہ دار بچے ہو۔ تم نے مجھے واقعی خوش کر دیا۔”

عبداللہ نے فخر سے سینہ چوڑا کیا اور پوچھا، “امی، کیا تعریف کرنا بھی کوئی نیکی ہے؟”

عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “بالکل، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ *’اچھی بات بھی صدقہ ہے۔’*”

رات کے کھانے کے دوران عائشہ نے اپنی پلیٹ سے کچھ کھانا عبداللہ کی پلیٹ میں ڈالا۔ عبداللہ نے حیرانی سے دیکھا اور پوچھا، “امی، آپ نے اپنا کھانا مجھے کیوں دیا؟”

عائشہ نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “بیٹا، یہ بھی ایک نیکی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ *’اپنے برتن سے کوئی چیز لے کر اپنے بھائی کے برتن میں ڈالنا صدقہ ہے۔’* جب ہم دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں تو اللہ ہمیں خوشی اور برکت دیتا ہے۔”

ایک دن عبداللہ اپنی امی کے ساتھ دادی کے گھر گیا۔ دادی کی طبیعت کچھ خراب تھی، اور عائشہ نے عبداللہ سے کہا، “بیٹا، دادی کے لیے پانی لے آؤ اور ان کے سر پر ہلکی مالش کرو۔”

عبداللہ نے فوراً دادی کی خدمت شروع کی اور بعد میں پوچھا، “امی، کیا یہ بھی نیکی ہے؟”

عائشہ نے محبت سے سمجھایا، “بیٹا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ *’جو چھوٹے پر رحم اور بڑے کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔’* لہذا، بزرگوں کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری اور نیکی ہے۔”

عائشہ نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سنت نبوی سے جوڑ کر عبداللہ کی تربیت کی۔ وہ نہ صرف اسے سنتوں کے بارے میں بتاتی بلکہ ان پر عمل کر کے اسے عملی مثال بھی دیتی۔

ایک دن عبداللہ نے خوش ہو کر اپنی امی سے کہا، “امی، میں نے آج اپنے دوست کو مسکرا کر سلام کیا اور اس کی مدد کی۔ کیا یہ بھی سنت ہے؟”

عائشہ نے فخر سے کہا، “جی ہاں، میرے بیٹے، یہ سب سنتیں ہیں۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔”

عائشہ کی محبت اور سنتوں پر مبنی تربیت نے عبداللہ کو ایک بہترین انسان اور مسلمان بنانے کی بنیاد رکھ دی۔ عبداللہ اب نہ صرف خود نیکی کے کام کرتا بلکہ اپنے دوستوں اور بہن بھائیوں کو بھی سنتوں کے بارے میں بتاتا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عائشہ جیسی تربیت کرنے اور عبداللہ جیسے فرمانبردار بچے پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں