421

امت کی ماؤں کو جاگنا ہوگا

تحریر شئیر کریں

امت کی ماؤں کو جاگنا ہوگا ۔ویلنٹائن ڈے پہ خصوصی تحریر!

ہر کامیاب مرد کے پیچھے اگر ایک عورت ہوتی ہے تو ہر عورت کی بربادی کے پیچھے بھی ایک عورت ملے گی۔ساس بہو کے روپ میں ہو نند بھاوج کے روپ میں،عورت ہی عورت کی دشمن بنی اس معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہے۔رہی سہی کسر ڈراموں نے پوری کر دی ہے۔

معاشرے کے دو مضبوط ستون جو عادات ورواج کو کم اور زیادہ کرنےمیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جی ہاں وہ ہے میڈیا اور عورت۔۔۔دونوں کی لگامیں قابو میں کر کے معاشروں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔امت کی ماؤں کو جاگنا ہوگا غفلت اور سسستی کی نیند سے

یہ بھی پڑھیے

ماؤں کو بدلنے کی ضرورت ہے

حیا معاشرے کی اہم ضرورت

،

بات ہو رہی ہے ماؤں کے کردار کی ۔۔۔جب مائیں اپنی آنکھیں کھلیں رکھتیں تھیں تو بیٹیوں کی عصمتیں بھی محفوظ تھیں۔اب ماؤں نے اپنی آنکھیں بند کر کے ان پہ ماڈرن ازم کی عینک لگا رکھی ہے۔اس عینک سے انھیں ہر چیز بنی سنوری نظر انی چاہیے چاہے وہ اپنی بیٹیاں ہوں یا بیگانوں کی۔۔۔ماں نجانے کہاں جا چھپی ہے بس بیوٹیشن بنی اپنی بیٹیوں کے بناوسنگھارمیں مصروف ہیں۔بڑے فخر سے بے پردہ سجی سجائی بیٹیاں صبح گھروں سے نکالتیں ہیں۔اور نا جانےکون سے ہاضمے کی چورن کھاتیں ہیں جس سے ان کی روح میں کوئی درد اور فکر جاگتا ہی نہیں۔بے ضمیری کی انتہا اسی کو کہتے ہیں۔بے حیائی کی ابتداء بھی یہی سے ہوتی ہے۔نبی کریمﷺ فرما گے “جب حیا نا رہے تو جو مرضی کرو”جبھی یہ حال ہو گیا ہے اس معاشرے میں دودھ پیتی بچی سے لے کر ستر سال کی بوڑھی عورت تک درندوں سے محفوظ نہیں۔وجہ ماؤں نے اپنا کردار چھوڑ کر بیوٹیشن کا کردار ادا کر نا شروع کر دیا ہے۔

اولادکی محبت فتنہ کیوں ہے؟بڑا قابل غور سوال ہے۔جس کا جواب ہر ماں کو تلاشنا ہوگا۔ورنہ یہی اولاد کل روز محشر گریبان پکڑے کھڑی ہوگی۔کاش ہماری مائیں جاگ جائیں۔کاش اے کاش اس امت کی مائیں جاگ جائیں۔وقت بازی پلٹنے کو ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں