159

اندھیرے کے مکین: قسط 17

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

کلیدی الفاظ (Keywords): اندھیرے کے مکین، قدیم مسجد الاسکا، اسلامی تاریخ، احمد اور مایا، توحید، حیا اور جدیدیت، معجزہ، سائنسی تعصب۔
تمہید: حق کی جستجو اور وقت کا سفر

الاسکا کی منجمد وادیاں صرف برف کا ڈھیر نہیں بلکہ ان میں انسانی عزم اور ایمانی استقامت کی داستانیں پیوست ہیں۔ جب دنیا مادیت کے خول میں بند ہو کر حقائق سے آنکھیں چرانے لگتی ہے، تو قدرت بعض نفوس کو چن لیتی ہے جو مصلحتوں کے بت توڑ کر سچائی کا پرچم بلند کرتے ہیں۔ احمد، مایا اور فاطمہ کا سفر اب ایک ایسی منزل کی طرف تھا جہاں تاریخ کے اوراق کو ایک نیا رنگ ملنے والا تھا۔

طوفان کی دستک اور عزمِ صمیم
یونیورسٹی کی معطلی کا نوٹس احمد کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک مہمیز ثابت ہوا۔ ڈاکٹر ملر کی سازشوں نے احمد کے یقین کو مزید پختہ کر دیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جب باطل لرزنے لگتا ہے تو وہ کردار کشی اور پابندیوں کا سہارا لیتا ہے۔

“احمد! باہر کا درجہ حرارت منفی چالیس تک گر چکا ہے،” فاطمہ نے برفانی جوتے پہنتے ہوئے کہا۔ “کیا اس موسم میں شمال کی طرف جانا خودکشی نہیں؟”
احمد نے اپنے بیگ کی زپ بند کی اور کھڑکی سے باہر چھائی ہوئی دھند کو دیکھا۔ “فاطمہ، خودکشی وہ ہوتی ہے جب انسان اپنے ضمیر کو مردہ کر کے باطل کے سامنے سر جھکا دے۔ یہ سفر تو زندگی کی تلاش کا سفر ہے۔ عبداللہ نے لکھا تھا کہ اس مسجد کی بنیادیں ‘اخلاص’ پر رکھی گئی ہیں، اور اخلاص کو طوفان نہیں مٹایا کرتے۔”

مایا، جو اب تک خاموش کھڑی تھی، آگے بڑھی۔ اس کے چہرے پر اپنے اسلاف کی جرأت کی جھلک تھی۔ “میں ساتھ چلوں گی۔ میرے قبیلے کی روایات کہتی ہیں کہ جب ستارے والے مسافر کی نشانی ملے گی، تو برف اپنی سختی چھوڑ دے گی۔”

برفانی صحرا میں سفر اور روحانی مکالمہ
تینوں مسافر ایک چھوٹی سنو موبائل پر سوار ہو کر اس مقام کی طرف روانہ ہوئے جسے عبداللہ نے ‘نیلی روشنی والے غار’ سے شمال کی طرف اشارہ کیا تھا۔ راستے میں برفانی ہوائیں کسی تازیانے کی طرح چہروں پر لگ رہی تھیں، مگر ان کے دلوں میں موجود ایمان کی تپش انہیں ہمت دے رہی تھی۔

مایا نے بلند آواز میں احمد سے پوچھا، “احمد! تم نے کل یونیورسٹی میں کہا تھا کہ جدیدیت ‘حیا’ سے ڈرتی ہے۔ اس کا اس مسجد سے کیا تعلق ہے؟”
احمد نے مفلر کو درست کرتے ہوئے جواب دیا، “مایا! حیا صرف لباس کا نام نہیں، یہ روح کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اپنی حدود کا احساس دلاتی ہے۔ جدید مغربی تہذیب انسان کو ‘خدا’ بنانا چاہتی ہے، جہاں کوئی حد نہ ہو، کوئی شرم نہ ہو۔ جبکہ وہ قدیم مسجد، جو ہم ڈھونڈ رہے ہیں، وہ ‘بندگی’ کی علامت ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ کائنات کا ایک مالک ہے جس کے سامنے سر جھکانا ہی اصل آزادی ہے۔ ڈاکٹر ملر جیسے لوگ اس لیے ڈرتے ہیں کیونکہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہاں کی قدیم تہذیب اسلام کے اخلاقی اصولوں پر قائم تھی، تو ان کا ‘آزاد خیال’ معاشرہ بے نقاب ہو جائے گا۔”

فاطمہ نے لقمہ دیا، “بالکل! یہ لوگ عورت کی نمائش کو ترقی کہتے ہیں، جبکہ اسلام اسے تکریم دیتا ہے۔ الاسکا کی ان قدیم عورتوں کا حجاب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حیا انسانی فطرت کا حصہ ہے، نہ کہ کسی خاص خطے کی روایت۔”

قدیم مسجد کی دریافت: ایک معجزاتی منظر
تین گھنٹے کی کٹھن مسافت کے بعد، وہ ایک ایسی ڈھلوان پر پہنچے جو بظاہر ایک برفانی تودہ معلوم ہوتی تھی۔ احمد نے نقشے کا موازنہ کیا اور ایک خاص جگہ پر کھدائی شروع کرنے کا اشارہ کیا۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد، جب برف کی تہیں ہٹیں، تو نیچے سے لکڑی کے سیاہ ستون نمودار ہوئے۔

یہ کوئی عام لکڑی نہیں تھی، بلکہ دیودار کی وہ قسم تھی جو صدیوں تک منجمد رہنے کے باوجود اپنی اصلی حالت میں تھی۔ جیسے جیسے برف ہٹتی گئی، ایک چھوٹی سی مستطیل عمارت سامنے آئی۔ اس کے داخلے پر لکڑی کے تختے پر کندہ وہ الفاظ تھے جنہیں دیکھ کر احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے:
“لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله”

یہ رسم الخط ‘کوفی’ اور مقامی ‘انیوٹ’ علامات کا ایک حسین امتزاج تھا۔ اندر کا منظر تو اور بھی حیران کن تھا۔ مسجد کے عین وسط میں ایک چھوٹی سی محراب تھی جس کا رخ قبلہ کی جانب تھا۔ دیواروں پر جانوروں کی کھالوں کے ٹکڑے تھے جن پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔

“سبحان اللہ!” فاطمہ پکار اٹھی۔ “صدیاں گزر گئیں، مگر اللہ کا نام ان وادیوں میں گونج رہا ہے۔”
ڈاکٹر ملر کا تعاقب اور سائنسی شکست
ابھی وہ اس دریافت کے سحر میں ہی تھے کہ اچانک دور سے ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی۔ ڈاکٹر ملر اور اس کی ٹیم، جو احمد کا خفیہ طور پر پیچھا کر رہی تھی، وہاں پہنچ گئی۔ ملر کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی، مگر جیسے ہی اس نے اس قدیم ڈھانچے کو دیکھا، اس کے رنگ اڑ گئے۔

“یہ ناممکن ہے!” ملر چلایا۔ “یہ لکڑی حالیہ دور کی ہوگی۔ تم لوگوں نے یہ سب یہاں خود بنایا ہے۔”
احمد نے اطمینان سے ایک قدیم چراغ اٹھایا جو مٹی تلے دبا ہوا تھا۔ “ڈاکٹر ملر! یہ چراغ اور اس کے اندر موجود تیل کی باقیات کاربن ڈیٹنگ کے لیے تیار ہیں۔ اور ذرا اس محراب کو دیکھئے، اس کی تعمیر کا انداز وہ ہے جو گیارہویں صدی کے اندلس اور شمالی افریقہ میں رائج تھا۔ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ میں نے راتوں رات گیارہ سو سال پرانی تعمیراتی ٹیکنالوجی یہاں کھڑی کر دی؟”

ڈاکٹر ملر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے ساتھ آئے ہوئے دو ایماندار محققین نے جب ان کتبات کو دیکھا، تو انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ لبرل ازم کے پردے میں چھپا تعصب آج سائنسی شواہد کے سامنے ڈھیر ہو چکا تھا۔
ضمیر کی دستک اور مایا کا فیصلہ

مسجد کے اندر کی خاموشی میں مایا ایک کونے میں کھڑی ان لکڑی کے ستونوں کو چھو رہی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے آباؤ اجداد کی روحیں اسے پکار رہی ہوں۔ اس نے فاطمہ کی طرف دیکھا جو مسجد کے ایک کونے میں سجدہ ریز تھی۔
“احمد،” مایا نے دھیمی آواز میں کہا، “میں نے پوری زندگی اس آزادی کی تلاش میں گزاری جو مجھے میری یونیورسٹی اور مغربی معاشرے نے سکھائی تھی۔ مگر آج اس قدیم، سادہ اور خاموش مسجد میں مجھے جو سکون مل رہا ہے، وہ مجھے کہیں نہیں ملا۔ یہ جگہ مجھے بتاتی ہے کہ میں کون ہوں۔”

احمد نے جواب دیا، “مایا، حق کبھی مرتا نہیں، وہ صرف برف تلے دب جاتا ہے۔ جب ایمان کی گرمی ملتی ہے، تو وہ دوبارہ جی اٹھتا ہے۔ یہ مسجد صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ایک اشارہ ہے۔”

اختتام: حق کا سورج طلوع ہو کر رہے گا
ڈاکٹر ملر کی جھوٹی رپورٹیں اب بے معنی ہو چکی تھیں۔ احمد کے پاس اب ویڈیو شواہد اور وہ قدیم نسخہ تھا جو پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچانے والا تھا۔ مگر احمد کے لیے اصل کامیابی یونیورسٹی کی بحالی نہیں تھی، بلکہ ان گمشدہ روحوں تک حق کا پیغام پہنچانا تھا جو صدیوں سے اندھیرے کے مکین بنے ہوئے تھے۔

آخر میں، احمد نے مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر اذان دی: “اللہ اکبر! اللہ اکبر!”
وہ آواز برفانی چوٹیوں سے ٹکرا کر پوری وادی میں پھیل گئی۔ مایا نے اپنی چادر سے سر ڈھانپ لیا، اور فاطمہ کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ اندھیرا چھٹ رہا تھا، اور حق کا سورج الاسکا کی ان منجمد فضاؤں میں طلوع ہو رہا تھا۔

Ye be parhey

پیشاب کا آسان علاج

اگلی قسط میں دیکھئے:
کیا ڈاکٹر ملر اپنی شکست تسلیم کر لے گا؟ اور مایا کی زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلی اسے کس نئے امتحان میں ڈالے گی؟ کیا احمد اس قدیم مسجد کو دنیا کے لیے ایک مرکزِ ہدایت بنا پائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں