ناول نگار: روبینہ شاہین
پہلی قسط — “آخری سورج”

برف کے سفید مُلمل میں لپٹے امریکی شہر Utqiagvik میں آج خاموشی بھی سانس لیتی محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ مقامی لوگ جانتے تھے کہ سورج اگلے چونسٹھ دنوں تک نہیں لوٹے گا۔ سورج افق پر بہت نیچے جھکا ہوا تھا— جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر آخری قدم رکھ کر رُک گیا ہو۔ پاکستان کے نرم موسموں سے آیا ریسرچر احمد لکڑی کے گھر کی دہلیز پر کھڑا سوچ رہا تھا: “کیا واقعی انسان بغیر سورج کے جی سکتا ہے؟” اس کے ملک میں راتیں صبح کا یقین ساتھ لاتی تھیں، مگر یہاں راتیں جیتنے والی تھیں۔
اسی بےچینی میں ایلا دروازے پر آئی، اس کے ہاتھ میں گرم کافی کا مگ تھا اور اس نے مسکرا کر اسے ‘ویلکم ٹو ڈارک ڈے’ پارٹی میں چلنے کی دعوت دی۔ احمد نے گھنے بادلوں کی طرف دیکھا جہاں سورج آخری بار چھپنے والا تھا۔ دل میں گھبراہٹ کے باوجود اس نے چلنے کا فیصلہ کیا، جس پر ایلا نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ جشن ضروری ہوتا ہے— یہاں تاریکی سے ڈرنے والوں کا دل وہ خود مضبوط کرتے ہیں۔
جب دونوں برف میں دھنسے راستے پر چلتے ہوئے کمیونٹی ہال پہنچے، تو وہ دور سے ایک روشن جزیرے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ اندر کا گرم ماحول احمد کو ڈھانپ گیا۔ بچے کھیل رہے تھے اور بوڑھے لکڑی کے چولہے کے پاس بیٹھے پچھلی تاریکیوں کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ ایلا نے بتایا: “یہی ہماری طاقت ہے۔ ہم تاریکی کو جشن بنا دیتے ہیں تاکہ وہ ہمیں کبھی کمزور نہ کر سکے۔” احمد نے مشاہدہ کیا؛ یہ لوگ خوفزدہ نہیں تھے، بلکہ تاریکی کا سامنا کرنے کی تربیت یافتہ نسل تھی۔
احمد نے اپنے لیے گرم سوپ لیا اور کونے میں جا بیٹھا۔ ایک لمحے کو اسے لگا جیسے وہ کسی دوسرے سیارے پر آ گیا ہو، لیکن اگلے ہی لمحے یہ بھی لگا کہ شاید یہی وہ جگہ تھی جہاں اسے اپنے آپ سے ملنا تھا۔ باہر سورج کی آخری کرن افق میں گم ہو چکی تھی۔ Utqiagvik میں، امریکہ کے اس انتہائی شمالی شہر میں، لمبی رات شروع ہو چکی تھی جو پورے دو ماہ تک برقرار رہنے والی تھی۔ اور اس طرح احمد کی زندگی کا پہلا حقیقی امتحان بھی شروع ہو گیا۔
اندھیرے کے مکین
جاری ہے
اندھیرے کے مکین قسط 1