ساجدہ بتول
گیدڑ کی جب شامت آتی ہے وہ شہر کا رخ کرتا ہے لیکن ہماری جب شامت آٸی ہم واٹس ایپ کو سدھارے ۔ بعض اوقات کوٸی رنگین غلطی سنگین ہو جایا کرتی ہے
راٸٹر لوگ کہانیاں کچھ اتنی سستی سے لکھتے ہیں کہ پورے تیس دن بعد ایک کہانی لکھ پاتے ہیں ، ادھر ہماری چستی تیزی اور طراری دیکھیے کہ ہم صرف سات آٹھ ماہ کے بعد ہی ایک کہانی لکھ لیا کرتے ہیں ، اب اتنی زیادہ کہانیوں کے بعد ہم اتنی محبت کے مستحق کہاں تھے کہ کوٸی ہم سے ہمارے متعلق اتنے سوالات کرتا کہ ہم ہڑبڑا جاتے ، اس کا فیصلہ تو آپ کو ہی کرنا ہے ۔ ہم تو بس آج اپنی داستان غم سنانے چلے ہیں
ہوا یہ کہ واٹس ایپ گروپس میں کام کی وجہ سے ہمارا نمبر میلوں دور تک جا پہنچا تھا ۔ اب ادھر کسی گروپ میں ہم کوٸی چیز شٸیر کرتے ، ادھر اس کے اوپر ہمارا نام ہمارے ہونے کی شکایت داغ دیتا ۔ بس ان گروپس کی پرانی ، نٸی غرض سبھی ہی محبت کرنے والی لڑکیوں نے ہم سے رابطے کرنا شروع کر دیے وہ بھی بغیر کسی اضافی چارجز کے
ان چارجز کی قیمت ہمیں خود ہی بننا پڑ گیا ۔ کیونکہ ہماری ان انجانی لاڈلیوں کے میسجز فقط سوالات پر مشتمل ہوتے ۔ کہاں رہتی ہیں ، علاوہ تحریر کیا مصروفیت ہے ، کب پیدا ہوٸیں ، کہاں پیدا ہوٸیں
بس یہ نہیں پوچھا کہ کیوں پیدا ہوٸیں
اب اتنے کم لوگوں کو اتنے کم جوابات دینا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا جبکہ سوالات بھی کم و بیش ایک جیسے ۔ ایک ہی کیسٹ بار بار ریواٸنڈ کرتے ہمیں لگ پتہ گیا اور ہم اپنے آپ سے کہہ بیٹھے ”ہور لکھ کہانیاں“
خیر! آج اس مشکل کا حل اپنے قدموں ہی چل کے ہمارے غریب خانے آ بیٹھا
حل تھا انٹرویو ۔۔۔ ایک ہمارا اپنا انٹرویو جو آج سے دو سال قبل محترمہ ام التراب نے ہم سے چھینا اوہ سوری لیا تھا ۔ بس یہ بیچارہ ہمیں اپنے ہی ایک چیزیں محفوظ کرنے والے تنہا گروپ میں نظر آ گیا
اس انٹرویو کی جو پرانی ترین بات تھی وہ یہ تھی کہ اس میں ہمارے اجداد تک کا ذکر تھا اور نٸی نکور بات یہ تھی کہ ہمارے اس گروپ کا ذکر تھا جس میں ہم بیچارے کہانی لکھنے کی تربیت دیا کرتے تھے
غلطی بس یہ ہوٸی کہ ہم نے سوچا ، یہ اتنے زیادہ جوابات جو ہم روزانہ بغیر کسی فیس کے دے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ اب جو بھی ہم سے ہمارا پوچھے ہم نٸے جوابات لکھنے کی بجاٸے اسے اپنا یہ انٹرویو ہی پکڑا دیں ۔
قارٸین! ابھی تو ہم نے اس کی ورقی نقل بھی فوٹو اسٹیٹ نہ کرواٸی تھی کہ اسے فولڈ کر کے ہر جگہ بغل میں دابے دابے پھریں اور جہاں کہیں کوٸی ہم سے ہمارے متعلق سوالات کرے ہم یہی انٹرویو نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا دیں ، یہ تو ابھی سوچا ہی تھا ۔ خیر اس کار خیر کا پہلا قدم اور ہمارے مسٸلے کی شفایابی یہ تھی کہ ام التراب کے اس کارنامے کو گروپس میں ڈال دیں ، لوگوں کے ذہنوں میں مچلتے سوالوں کو کچھ قرار آٸے ، دماغوں کی کھرچن کم ہو ، موباٸلوں کو کچھ آرام ملے اور ہمیں بھی ایک ایک کو یہ نہ بتانا پڑے کہ ہم کیا کیوں کب اور کتنے ہیں
بس آٸی جو شامت ، انٹرویو ایک ساتھ کٸی گروپس میں فارورڈ کر دیا ، پھر جو میسجز کی برسات شروع ہوٸی ہے وہ تو پچھلے میسجز کو بھی مات دے گٸی ۔ اب اس انٹرویو کو پڑھ کر سب لوگوں کو مسٸلہ ایک ہی ہو گیا ہے کہ انٹرویو میں ذکر کردہ گروپ میں انہیں ایڈ کر لیا جاٸے
یعنی اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔ ہمارا دو کلو کا سر جھک گیا اور موباٸل رک گیا ۔ اب ہینگ ہی کیے دے رہا ہے
لہٰذہ ہماری ماٶ! بہنو! باجیو! آپیو! آنٹیو اور دادیو! ہم اپنا سر کھجاتے ہوٸے اپنی موٹی زبان سے آپ کو یہ رنجیدہ سنجیدہ اور بیہودہ خبر سنانے پہ مجبور ہیں کہ اس اردو ادب کی تو ہم کٸی بار فاتحہ بھی پڑھ چکے ،
آپ بس ایک بار ہمارے ساتھ پڑھ لیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون
ہم اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں وہ گروپ داغ مفارقت دے چکا ۔ نہ وہ ہے نہ اسے چلانے والے ہم اس میں باقی ہیں نہ ہی اس میں کام کرنے والی ہماری نادر و نایاب اخوات راٸٹرز اب اس کے لیے پاٸی جاتی ہیں ، امید کرتے ہیں اب سوالات کی یہ بوچھاڑ کم ہو گی تا کہ ہمارے سیدھے سادے موباٸل کو شفا ملے اور اگر نصیب میں ہو تو ہمیں بھی سوالات سے رہاٸی ملے ، وہ رہاٸی جسے پانے کے لیے یہ بیوقوف راستہ اپنایا تھا
اپنا خیال رکھیے گا ، کیونکہ ہر کسی کو اپنا خیال خود ہی رکھنا چاہیے
والسلام
ساجدہ بتول