۔۔۔۔۔۔۔
والدین بچے کے پہلے استاد ہوتے ہیں انکی زبان اور عمل سے ادا هونے والے الفاظ بچے پر انمٹ نقوش چھوڑتے هیں۔ہمارے ہاں اس شعبے پر سرے سے بات هی نهیں کی جاتی۔کرنا تو دور کی بات۔
پیرنٹنگ کا پہلا اصول بچے کو سننا ہے۔وہ کیا چاہتا؟یہ جاننا آپ کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔لہذا یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب آپ بچوں سے بات چیت کریں گے۔بچوں سے کھیلنا،ان کا بوسہ لینا، ان سے باتیں کرنا پرلطف هوتا هے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جو لوگ ڈپریشن کے مریض ہیں اگر وه بچوں کے ساتھ کھیلیں تو ان کا ڈپریشن کافی حد تک دور هوسکتا هے۔واصف علی واصف بھی ڈپریشن سے بچاؤ کے لیے بچوں کے ساتھ کھیلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بچوں سے بات چیت کیسے کی جاۓ؟
بچوں کو نصیحت نهیں کرنی بلکه بات کرنی هے۔دوستانہ ماحول میں۔نا کہ ڈانٹ ڈپٹ سے کام لینا ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے جب ہم بچوں سے چیخ کر بات کرتے هیں تو وه خوف سے اپنے کان بند کر لیتے هیں۔آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب کوئی بچے پر ڈانٹ رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار کہہ رہا ہوتا تمہیں سنائی نہیں دے رهی میری بات؟اور یھ باپ سچ که اسے واقع کچه بھی سنائی نہہں دے رها هوتا۔
ہمارے ہاں المیه یه هے که بچوں کے والدین سب کچھ مهیا کرتے هیں سواۓ ماں کے۔۔۔ماں جو تربیت کر سکتی هے وه دنیا کا ماهر سے ماهر بھی نهیں کرسکتا۔گھرداری اور سسرالی جھنجھٹوں نے بچوں سے ان کی مائیں چھین لین ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
حدیث مبارکہ ہے تم میں سے ہر ایک رعیت ہے اس سے اسکے بارے سوال ہوگا۔لہذا اس ضدیث کہ رو سے مائیں اللہ کے سامنے اپنے بچوں کے معاملات کی جواب دہ ہیں۔یہ بہت اہم فریضہ ہے۔ماں کی عدم توجہی بچوں کو ساری عمر کے لیے زہنی پراگندگی کا شکار کر دیتی ہے۔ایسے بچے کبھی زہنی طور پر یکسو نہیں هوتے۔کبھی زندگی میں بڑے کام نهیں کرتے۔یہ ماں ہوتی ہے جو اپنے بچے کے اندر سکون کا پہلا بیج بوتی ہے۔یہ ماں ہی ہوتی ہے جو بے سکونی اور عدم اطمینان کے دوزخ میں دھکیلتی هے۔
اپنے بچوں سے باتیں کریں۔یه ان کا پهلا حق هے۔بات چیت ہہ وہ عمل ہے جس بچے کی شخصیت کھلتی ہے۔بات چیت کی اہمیت کا ندازہ اس بات سے لگائیں که بچے کی زهانت کااندازه آس بات پر هوتا هے که اس نے اپنے بچپن میں کتنے الفاظ ابنے دماغ میں سٹور کیے۔Thirty million words gapاس تھیوری کا نام ہے۔جس کے بارے میں بهت کم لوگوں کو علم هے۔یہ تھیوری 2003 میں مکمل ہوئی ۔اس تھیوری میں امریکہ کے بہت سے خاندانوں پر ریسرچ کی گئی۔تین گروپس تشکیل دیے گیے۔۔پہلا گروپ وائٹ کالر جو اپر کلاس کہلاتا ہے۔دوسرا گروپ جو اپنے ہاتھوں سے کام کرتے هیں اور تیسرا گروپ جو اپنی روزی روٹی کے لیے دوںسروں کا محتاج هوتا هے۔ان تینوں گروپس کے مطالعے سے پته چلا یاگیا که آخر وائٹ کالر جابز والے باقی دو گروپس سے آگے کیوں هیں؟ان میں ایسی کیاخوبی پائی جاتی ہے؟بڑی حیران کن وجہ سامنے آئی وہ یہ کہ وائٹ کالر والے اپنے بچپن کے پہلے تین سالوں میں اپنے والدین سے کهانیاں سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں انکے دماغ میں ساڑھے چارکروڑ الفاظ پر مشتمل الفاظ ووکیبلری موجود هے۔جبکہ ورکنگ کلاس نے ڈھائی کروڑ ورڈز سنے۔جبکہ دوسروں پر انحصار کرنے والی گلاس نے صرف ڈیڑھ کروڑ الفاظ سنے۔تو باقی ساڑھے چار کروڑاور ڈیڑھ کروڑ والی کلاس کے درمیان تین کروڑ الفاظ کا فرق ہے۔اس لیے اسے تھرٹی ملین ورڈز گیپ تھیوری کا نام دیا جاتا ہے۔اس ریسرچ کے آنے کے بعد ا س پہ بہت سے کمپین چلائیں گیں۔ترقی یافتہ ممالک میں سکولوں کو اس کے فوائد بتائیں گے۔جس کے نتائج بھی آنا شروع ہوگے۔وہ بچے جو اپنے پہلے ہزار دنوں میں زیاده سے زیاده الفاظ سنتے هیں وه جلدی ریڈنگ شروع کر دیتے هیں۔اگر دماغ کی ساخت دیکھی جاۓ تو بچے پہلے تین سالوں میں اپنا انٹلیکچوئل برین مکمل کرتے ہیں۔اور بہت زیادہ سیکھ چکے ہوتے ہیں۔اس کے بعد سیکھنے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔حالانکہ وہ ان تین سالوں میں گھر میں هوتے هیں ۔اگر غور کریں تو چونکہ اپر کلاس کی ماؤں پر زیادہ ذمه داریاں نهیں هوتیں۔کام کاج کے لیے ملازم موجود ہوتے ہیں۔اس لہے وہ اپنے بچوں کو زیادہ وقت دے پاتیں هیں اور زیاده سے زیاده الفاظ بولتیں هیں جو انکے آئی کیو لیول کی بلندی کاسبب بنتا ہے۔ایسے بچوں کے دماغ کے نیورانز جو باریک باریک تاریں ہوتیں ان کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ یعنی سیلز کا ایک دوسرے کے ساتھ کنیکشن ہوتا ہے۔جتنا فاصلہ کم ہوتا ہے اتنا کنیکشن زیادہ۔۔اور اتنا ہی ایسے بچے زہادہ سیکھنے والے ہوتے ہیں۔
خدارا بچوں کے پہلے تین سال آپ کے ہاتھ میں ہونے کا مطلب ہے ان کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔سکول کالج اسی ع
بنیاد پر عمارت تعمیر کرتے ہیں۔جتنی بنیاد مضبوط پوگی اتنی ہی عمارت بھی مضبوط ہوگی۔
بچے کا سوال کرنا اسکے زہین ہونے کی نشانی ہے۔ان سوالوں کے جوابات ان کے لیول پر آکر دیں انکو کبھی نظرانداز مت کریں۔ماؤں کو بتایا جاے انکی ٹریننگ کی جاے یہ شوہر حضرات کا فرض ہے۔اس فرض میں کوتاہی انکےمستقبل سے کوتاہی ہے۔
اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں۔دینی عقائد اور عبادات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باتیں کریں۔وہ رہسپانس دیں یا نا دیں انکا دماغ ان باتوں کو لفظوں کو محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔نماز کی مثال لے لیجے۔ہمارے ہاں نماز کا رٹا لگانا اور طریقہ بتانے کو ہی نماز سمجھا جاتا ہے۔جبکہ نماز اللہ رب العزت سے بندے کی ملاقات ہے۔جب تک نماز اس لیول تک نہیں پہنچتی اس کے سیکھنے ک عمل جاری رہنا چاہیے۔ پہلے تین سالوں میں نماز کی روح بچوں کے اندر اتار دیں۔الفاظ سے بھی اور عمل۔سے بھی۔۔۔
کونسے الفاظ بولیں؟
بچوں سے کس طرح کے الفاظ بولنے چاہیے یہ بڑا اہم موضوع ہے۔سندھ میں ایک روایت ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے وہ یہ کہ جب کسی درخت کوگرانا ہوتا ہے تو اسے علی بالصبح گاوں والے اکٹھے هو کر طعنے اور کوسنے دیتے هیں۔اور چند ہی دنوں میں درخت خوس بخود گر جاتا ہے۔بچوں کا بھی یہی معاملہ ہے جس طرح کے لفظ آپ بولیں گے اسی طرع انکی شخصیت بنتیں چلیں جائیں گی۔ امید ،یقین اور ولولے سے بھر پور الفاظ بولیں۔
۔۔۔۔۔۔
434