ایف آئی آر
تحریر : لبنٰی جمشید
انہوں نے ایک نظر ایف آئی آر کی عارضی کاپی پر ڈالی اور دوسری ان آٹھ ملزموں پر جنہیں اس میں نامزد کیا گیا تھا۔.۔۔۔۔۔
یہ کہانی تین دن قبل شروع ہوئی جب ڈاکٹر محمد عارف کسی ریفرینس کے ذریعے ڈی ایس پی آفس جا پہنچے تھے۔
”وہ میری بیٹیوں کو قتل کی دھمکی دیتے ہیں .ایک نہیں پورے آٹھ الگ الگ موبائل نمبرز سے لیکن آج ایک لینڈلائن نمبر بھی شامل ہو گیا ہے“ خوف اور پریشانی سے ان کے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔
”آپ بے فکر رہیے ڈاکٹر صاحب لینڈ لائن سے مجرم پکڑا ہی جاۓ گا ہم ایف آئی آر درج کرتے ہیں“ ڈی ایس پی صاحبہ نے یقین دہانی کرانے کے ساتھ متعلقہ تھانے کے عملہ کو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تعاون کا حکم صادر کیا اور ایک ضروری میٹنگ کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
اگلی صبح وہ آفس کے لیے نکل ہی رہی تھیں کہ قریبی تھانہ کے انچارج ملنے آگئے۔ ان کے ہاتھ میں ڈاکٹر عارف کی جانب سے ایک کمپلین کاپی تھی , جس میں ان کے ہی گھر کے لینڈ لائن نمبر کو نامزد کیا گیا تھا۔ یہ کیسا مذاق تھا, گھر میں ان دونوں ماں بیٹے کے علاوہ تھا ہی کون۔ باذل ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا وہ کیسے مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہو سکتا ہے؟
”پھر آخر کون ہے جس نے ان کا نمبر اتنی چالاکی سے استعمال کیا کہ وہ بے خبری میں ماری گئیں؟“ ۔ دفتر میں بھی سارا دن دھیان اسی ایف آئی آر کی کاپی کی جانب رہا تھا۔
”اب بتاؤ بالکل سچ سچ کہ ڈاکٹر عارف کی بیٹیوں کو دھمکیاں دینے کی وجہ کیا تھی“
ڈی ایس پی صاحبہ آٹھ ملزموں سے اقرار جرم مانگ رہی تھیں جنہیں صرف دوسرے دن ہی گرفتار کیا جاچکا تھا . اب وہ ایک کرخت ڈی ایس پی کے سامنے تھر تھر کانپ رہ تھے۔
ہمیں معاف کر دیں یہ سب نوید کے کہنے پر ہوا۔ ان سب نے گینگ کے سربراہ کی نشاندہی کی اور اسے مورد الزام ٹہرا دیا۔ یہ اپنی نوعیت کاپہلا کیس تھا جس کے تمام مجرمان ایک ہی دن میں گرفتار ہوۓ اور وجہ ڈی ایس صاحبہ کے ذاتی نمبر کا استعمال تھا۔
اس دن گھر جا کر ڈی ایس پی صاحبہ نے شکایت کاپی میں موجود تمام نمبرز اپنے موبائل میں محفوظ کیے تھے اور جیسے ہی نمبر محفوظ ہوتا اس کے وٹس ایپ اور فیس بک کی ڈیٹیل بھی آ جاتی۔ ڈی ایس پی صاحبہ کا مختلف رنگ بدلتا چہرہ اب غصے کی شدت سے دہک رہا تھا۔ ان کو انتہائی محتاط قدم اٹھانا تھا۔ کیس کی تہہ تک تو وہ پہنچ ہی چکی تھیں بس پردہ اٹھنا باقی تھا۔
تمام ملزمان کی موجودگی میں ڈاکٹر عارف نے ڈی ایس پی آفس قدم رکھا اور وہ بھول گئے کہ انہیں اب کیا کرنا تھا۔ جھکے چہروں میں ایک شناسا چہرہ بھی تھا مگر کیوں, کیسے جیسے سوالات گردش دوام تھے۔
وہ تمام ملزمان نک سک سے تیار کوئی پارٹی اٹینڈ کرے آۓ تھے شاید اور دھر لیے گے ۔ کاش وہ وہاں نہ آۓ ہوتے مگر اب تیر تو کمان میں واپس آنے سے رہا۔
”ان کی بیٹیوں نے ہماری دادی کی جان لینے کی کوشش کی تھی اس کا بدلہ ہم نے دھمکیاں دے کر لے لیا۔ نوید نے مدہم آواز میں بالآخر اقرار کیا۔
کس طرح جان لینا چاہی؟”ڈاکٹر عارف نے سوال نوید سے پوچھا جو ان کے سامنے والے گھر کا رہائشی تھا۔
”اپنے گھر کے باہر کا حصہ روزانہ دھوتےہوۓ پانی کا جو تالاب بناتیں ہیں محترمہ میری دادی وہاں گر کے ٹانگ تڑوا بیٹھی تھیں۔ ملزم نوید رو رہا تھا۔
ڈاکٹر عارف نے سر پکڑ لیا جبکہ ڈی ایس پی صاحبہ اب بھی حیران نظروں سے تیرہ چودہ برس کے ان اٹھ ملزمان کو دیکھ رہی تھیں جن میں ایک ان کا بیٹا بھی شامل تھا۔
ایف آئی آر