255

ایک دعا تین فائدے

تحریر شئیر کریں

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ الْاَشْيَاءِ اِلَیَّ وَاجْعَلْ خَوْفِكَ اَخْوَفَ الْاَشْيَاءِ اِلَیَّ وَاقْطَعْ عَنِّیْ حَاجَاتِ الدُّنْيَا بِالشَّوْقِ اِلَی لِقَائِكَ وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْيُنَ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ دُنْيَاهُمْ فَاَقْرِرْ عَيْنِیْ مِنْ عِبَادَتِكَ۔

ترجمہ:
اے ﷲ! اپنی محبت کو میرے لیے ہر چیز کی محبت سے بڑھا دے، مجھ میں اپنا خوف ہر چیز کے خوف سے زیادہ کر دے، دنیا کی ہر طلب پر اپنی ملاقات کا شوق غالب کر دے، اور جب تو دنیا والوں کو ان کی دنیا سے ٹھنڈک دے، تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اپنی عبادت میں رکھ دے۔

دعا کی اہمیت:

یہ دعا حضرت عبد اللہ العمریؒ سے منقول ہے، جیسا کہ “حلیة الأولیاء” میں مذکور ہے (جلد 3)۔ یہ دعا ایک مؤمن کی روحانی زندگی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں دنیاوی رغبتوں سے ہٹ کر اللہ کی محبت، اس کا خوف، اور اس کی عبادت کا شوق طلب کیا گیا ہے۔

اس دعا میں تین بڑی روحانی حقیقتوں کا اظہار ہے:

1. محبتِ الٰہی: بندہ دعا کر رہا ہے کہ اللہ کی محبت اس کے دل میں ہر تعلق سے بڑھ کر ہو جائے۔

2. خوفِ الٰہی: ایسا خوف جو اصلاح کا باعث بنے، نہ کہ مایوسی کا۔

3. لقاء اللہ کی آرزو: دنیا کی حرص و ہوس ختم ہو جائے اور بندہ اللہ کی رضا اور ملاقات کا مشتاق رہے۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دل کی ٹھنڈک اور روح کی تسکین صرف اللہ کی عبادت اور قرب میں ہے، نہ کہ دنیاوی آسائشوں میں۔

ایک دعا تین فائدے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں