548

ایک پرخلوص رشتہ

تحریر شئیر کریں


تحریر :اقصیٰ اعجاز

“ایک پر خلوص رشتہ جو ازحد ضروری ہے زندگی کے لیے “


اللّه ہر کسی کو بہترین رشتوں سے نوازتا ہے لیکن آج میں جس کے بارے میں بات کروں گی وہ ہے ایک پر خلوص رشتہ جو نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔
زندگی نے ہمیشہ مجھے بھی پھولوں کی سیج پر نہیں رکھا مگر میں نے ہمیشہ کچھ پھول سنبھال کر رکھے ہیں تاکہ اگر کانٹے ملے یا دکھ ملے تو ان پھولوں کو دیکھ کر ان کی خوشبو لے کر ان کو محسوس کر کے وہ پل یاد کروں جس سے زندگی آسان ہو جائے ہر کسی کی زندگی میں پھولوں کا یہ گلدستہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے کبھی والدین رشتے دار ماموں چاچو خالہ اگر سسرال ہو تو اس میں بھی کوئی ایسا رشتہ ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ زندگی میں کوئی ایسا بھی ہو جس کا کوئی سننے والا نہ ہو بلکہ کبھی کبھی ہم خود ہی ان کو تلاش نہیں کرتے اگر کوئی ہو بھی تو ہم گنوا دیتے ہیں۔

زندگی کا یہ خلوص سے بھرا رشتہ دوستی کی شکل میں بھی ہوتا ہے سب رشتوں کی کوئی نہ کوئی فرمائش یا شرط ہوتی ہے لیکن اس خلوص بھرے رشتے کی کوئی بھی شرط نہیں ہوتی صرف وفا’ ایمانداری اور اچھی نیت ہوتی ہے میری زندگی میں اس خوبصورت پرخلوص رشتے کا نام (ماہ نور) ہے۔ الحمدللہ میرے والدین میرے احباب رشتہ دار بھی بہترین نیت سے ہر قدم پر ساتھ دیتے ہیں مگر بات پھر وہی آ گئی کہ ایک پرخلوص رشتہ ہوتا ہے

“دوستی”


ویسے میں اب کسی کو قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتی مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے مجھے خدا نے یہ موقع دیا تھا کہ میں کسی کو قائل کروں اس وقت میرے اور دوسرے فریق کی عمر میں خاصا فرق تھا اسی فرق نے ان کو مجھ سے بڑا بنایا تھا مگر ان کی بیماری کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بڑا نہیں کر پائی میں نے ان کی بے تحاشہ باتیں سن لی لیکن ان کا اتنا بھی ظرف نہیں تھا کہ وہ میری چند پل کی بات سن سکتیں وجہ ان کی بیماری ۔مگر میں اس وقت یہ کیفیت سمجھ نہ سکی اور یہ سوچ لیا کہ آئندہ میں کبھی کسی کو قائل نہیں کروں گی لیکن جب کچھ وقت گزرا تو مجھے ادراک ہوا اور میں نے خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر سوچا تو پھر مجھے علم ہوا کہ وہ اکیلا پن محسوس کرتی ہیں کسی پر اعتبار نہیں کرتی جو کہ اکثر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ان کو سننے والی کوئی دوست نہیں تھی پھر میں ان کی ماہ نور بنی۔

آسان اور خوشگوار زندگی کے راز


اگر آپ کے پاس کوئی دوست نہیں ہے تو آپ کسی کے دوست بن جائیں جیسے میں نے ان کے ساتھ کیا میں نے ان کے سامنے وہ کام کیا جو کبھی وہ کرنا چاہتی تھیں لکھنا ان کو لکھاری بننے کا شوق تھا میں لکھتی جو بھی دل کرتب اور پھر انکو سناتی اس طرح کرنے سے ان کے اندر یہ امنگ پیدا ہوئی کہ یہ کر سکتی ہے تو میں کیوں نہیں؟ وہ مجھے کہتی میں بولتی ہوں تم لکھو میں نے ایسا کیا اس طرح کرنے یہ فرق پڑا کہ وہ میرے سامنے لکھاری بنی تھیں خواہش پوری ہوئی تو جو زندگی کی رمق سے ان کا دل اچاٹ تھا وہ بحال ہوا پھر میں نے اک اور کام کیا ان کو ریڈیو سننے کا بہت شوق تھا تو موبائل میں وہ پروگرام ڈاؤن لوڈ کیے جس طرح کے وہ پروگرام سنتی تھیں

پنجابی زبان میں جن کو سن کر وہ ماضی کی بھول بھلیوں میں جاتی جہاں وہ کبھی تنہا نا تھیں یہ ان کے لئے پھولوں کا گلدستہ تھا اس کی خوشبو سے وہ آہستہ آہستہ بدلتی گئیں ہر بات میں جو مین میخ نکالا کرتی تھیں بالکل ختم کر دی کیوں کہ ان کی دلچسپی کا سامان ان کو مل چکا تھا اس عمر میں اس بیماری میں ان کی کوئی دوست نہیں تھی اور میں نے ان کی یہ کمی ختم کر دی۔میں آپ سب سے بھی یہی کہنا چاہتی ہوں کے رشتوں کی قدر کریں یقین جانے زندگی بہت ہی حسین لگنے لگے گی۔ دکھ ‘پریشانی’ اشرف المخلوقات کے ساتھ ہے اگر یہ نہ ہو تو آپ میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے آزمائش اللہ تعالی کے نیک بندوں پر ہی آتی ہے اس بات کو مان لیں دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے خود کی اصلاح کیا کریں ۔


*کوئی آپ کا دوست نہیں بنتا تو آپ کسی کے دوست بن کر دیکھیں۔
*کوئی آپ کو نہیں سنتا تو آپ کسی کو سن کر دیکھیں۔
دنیا میں بہت سے لوگ آپ کو خوشی کی طرف زندگی کی طرف قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ ہمیشہ ان میں کوئی نہ کوئی خامی نکال دیں گے اور پھر یہ بھی تعجب کریں گے کہ یہ انسان اتنا خوش کیوں ہے اتنا سکون میں کیوں ہیں اسی طرح مجھ سے بھی بہت سے لوگ سوال پوچھتے ہیں جن کا جواب یہی ہے


“ایک پرخلوص رشتہ دوستی”


اور میری زندگی کے چند اصول:
زندگی کے سفر میں اگر کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا تو راستہ بدل کر دیکھیں تبدیلی ویسے بھی کائنات کا خمیر ہے ہر چیز بدلتی ہے.
کسی سے حسد نہ کریں اگر محسوس ہو تو اس کو تعریفی نگاہ سے دیکھیں یقین جانیں آپ بہت سکون محسوس کریں گے۔
.دوست بنائیں نہیں بنا سکتے تو خود کسی کے بن جائیں اگر زندگی میں کوئی دوست ناراض ہو گیا ہے تو اس کو منا لیں۔


جب بھی مدد کی ضرورت ہو پہلے اپنی مدد آپ کرنے کی کوشش کریں پھر کسی دوسرے سے مدد مانگے۔اور جب کسی دوسرے سے مدد لیں تو اس کو ہمیشہ احسان مان کر یاد رکھیں چاہے وہ آپ سے کہے یا نہ کہے۔
آپ بھی اپنی زندگی میں چند اصول بنا لیں اور کسی کی سنیں نہ سنیں لیکن اپنے دل کی سن کر ان اصولوں پر عمل کرتے رہیں۔
اب اپنی دوست کو اجازت دیں شکریہ۔

ایک پرخلوص رشتہ بن جائیں لوگ خودبخود آپ کی کمی کو پورا کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں