باب دوم: افطاری کی نبوی غذا 120

باب دوم: افطاری کی نبوی غذا

تحریر شئیر کریں

باب دوم: افطاری کی نبوی غذا

تعارف

باب دوم: افطاری کی نبوی غذا

افطار روزہ دار کے لیے وہ لمحہ ہے جب وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد حلال اور پاکیزہ غذا سے روزہ کھولتا ہے۔ یہ لمحہ دعا کی قبولیت کا لمحہ ہے، رحمت الٰہی کے نزول کا لمحہ ہے، اور شکر گزاری کا لمحہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے افطار کے حوالے سے بھی ہمیں مکمل رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی افطاری سادہ مگر جسم کی فوری ضروریات پوری کرنے والی ہوتی تھی۔ اس باب میں ہم افطاری کی انہی نبوی غذاؤں کا جائزہ لیں گے جو جسم کو صدمہ پہنچائے بغیر توانائی کی بحالی (Fast Recovery) کا ذریعہ ہیں۔

—

افطار کی اہمیت اور فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے افطار میں جلدی کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور اسے خیر و برکت قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ”
“لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1957، صحیح مسلم، حدیث: 1098)

اس حدیث میں افطار میں جلدی کرنے کو امت کی بھلائی سے مشروط کیا گیا ہے۔ یہ جلدی نہ صرف سنت کی پیروی ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا”
“اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے نزدیک سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو افطار میں سب سے زیادہ جلدی کرتے ہیں۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 700)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ افطار میں جلدی کرنا اللہ کو محبوب ہے اور امت کی بھلائی کا باعث ہے۔

—

1. کھجور سے افطار: فوری توانائی کی بحالی (Instant Recovery)

کھجور نہ صرف سحری کے لیے بہترین غذا ہے بلکہ افطار کے لیے تو یہ خاص طور پر پسندیدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کھجور سے افطار فرماتے تھے۔

حدیث میں ذکر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ”
“رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 696، سنن ابو داؤد، حدیث: 2356)

امام ترمذی نے اس حدیث کو “حسن صحیح” قرار دیا ہے۔

نیز حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ”
“جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے کہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے کرے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 2355، سنن الترمذی، حدیث: 695)

طبی حکمت

کھجور سے افطار کرنے کی طبی حکمت جدید سائنس نے صدیوں بعد دریافت کی ہے:

فوری توانائی: سارا دن بھوکا رہنے کے بعد جسم میں بلڈ شوگر کی سطح انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ دماغ کو فوری توانائی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ صرف گلوکوز پر کام کرتا ہے۔ کھجور میں موجود گلوکوز اور فرکٹوز چند منٹوں میں خون میں جذب ہو کر دماغ اور اعصاب کو متحرک کر دیتے ہیں۔

ہاضمے میں آسانی: کھجور نرم اور لطیف غذا ہے جو خالی معدے پر بوجھ نہیں ڈالتی۔ یہ نظام ہاضمہ کو آہستہ آہستہ کام شروع کرنے کا موقع دیتی ہے۔

پیاس کی شدت میں کمی: کھجور میں موجود پانی اور معدنیات جسم میں پانی کی کمی پوری کرتے ہیں۔

قبض کا خاتمہ: کھجور میں موجود فائبر آنتوں کو نرم رکھتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔

ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم اپنی کتاب “الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب” میں لکھتے ہیں:

“کھجور سے افطار کرنا انتہائی حکمت پر مبنی ہے۔ دن بھر کے فاقے کے بعد معدہ نہایت کمزور اور حساس ہو جاتا ہے۔ کھجور میں موجود سادہ شکر معدے کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے اور نظام ہاضمہ کو آہستہ آہستہ فعال کرتی ہے۔ اگر افطار میں بھاری اور چکنائی والی غذا کھائی جائے تو معدے پر صدمہ پڑتا ہے اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔”

جدید تحقیقات

امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، کھجور میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی ہے اور اسے متوازن رکھتی ہے۔ یہ کیفین اور مصنوعی انرجی ڈرنکس سے بہتر ہے کیونکہ اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔

ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق، کھجور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دل کے امراض اور کینسر سے بچاؤ میں معاون ہیں۔

اقتباس: “زاد المعاد” از امام ابن قیم

امام ابن قیم رحمہ اللہ “زاد المعاد فی ہدی خیر العباد” میں تحریر فرماتے ہیں:

“نبی کریم ﷺ کا افطار کھجوروں پر کرنا نہایت حکمت والا عمل ہے۔ کھجور میں حرارت اور لطافت ہوتی ہے جو معدے کے لیے مفید ہے۔ روزہ دار کا معدہ خالی ہونے کی وجہ سے کھجور کی حرارت اور لطافت کو بہت جلد قبول کر لیتا ہے اور اس سے جسم کو فوری توانائی ملتی ہے۔ اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرنا بھی مفید ہے کیونکہ پانی معدے اور جگر کو صاف کرتا ہے، خشکی دور کرتا ہے، اور روزہ کھولنے کے لیے بہترین ہے۔”

—

2. پانی اور نبیز: ہائیڈریشن اور سم ربائی (Hydration & Detox)

پانی زندگی ہے اور افطار کے وقت پانی پینا نہ صرف سنت ہے بلکہ جسم کی بازیابی کا ذریعہ بھی ہے۔

حدیث میں ذکر

جیسا کہ اوپر گزرا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ”
“اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 2355)

اس حدیث میں پانی کو “طَهُورٌ” یعنی پاک کرنے والا کہا گیا ہے، جو اس کی صفائی کی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔

نبیز (کھجور کا پانی)

نبیز کے بارے میں پچھلے باب میں ذکر آ چکا ہے کہ یہ رات بھر بھگوئی ہوئی کھجوروں کا پانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اسے بطور مشروب استعمال فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

“أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ، وَإِلاَّ كَرَعْنَا”
“نبی کریم ﷺ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ایک اور صحابی بھی تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس رات کا بھگوا ہوا پانی (مشکیزے میں) ہے تو (پلا دو) ورنہ ہم منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 3377)

طبی حکمت

پانی کی اہمیت:

دن بھر کے روزے کے دوران جسم میں پانی کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ افطار کے وقت پانی پینے سے:

1. گردوں کی صفائی: پانی گردوں کو صاف کرتا ہے اور پیشاب کے ذریعے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے۔
2. جسم کا درجہ حرارت: پانی جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھتا ہے۔
3. ہاضمے میں مدد: پانی کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
4. خون کی روانی: پانی خون کو پتلا رکھتا ہے اور دورانِ خون بہتر بناتا ہے۔

نبیز کے فوائد:

نبیز کا پانی سادہ پانی سے زیادہ مفید ہے کیونکہ:

· اس میں کھجور کے قدرتی اجزاء گھلے ہوتے ہیں
· یہ معدے کی تیزابیت کو ختم کرتا ہے
· آنتوں کے امراض سے بچاتا ہے
· جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے
· قدرتی الیکٹرولائٹس (پوٹاشیم، میگنیشیم) فراہم کرتا ہے

ڈاکٹر محمد علی البار اپنی کتاب “الطب النبوی” میں لکھتے ہیں:

“نبیز ایک بہترین قدرتی انرجی ڈرنک ہے۔ اس میں موجود شکر اور معدنیات جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں اور پانی کی کمی پوری کرتے ہیں۔ جدید دور کے مصنوعی انرجی ڈرنکس میں کیمیکلز اور پرزرویٹوز ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہیں، جبکہ نبیز مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ ہے۔”

اقتباس: “الطب النبوی” از ابن قیم

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“پانی تمام مشروبات کی اصل ہے اور سب سے مفید مشروب ہے۔ یہ جسم کو تر رکھتا ہے، غذائی اجزاء کو اعضاء تک پہنچاتا ہے، فضلات کو خارج کرتا ہے، اور حرارت غریزی کو معتدل رکھتا ہے۔ نبی کا پانی رات بھر بھگونے سے کھجور کی لطافت پانی میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے یہ زیادہ مفید اور زود ہضم ہو جاتا ہے۔”

—

3. ککڑی اور تازہ کھجور (Thermodynamics of Diet)

رسول اللہ ﷺ کا ایک خاص امتزاج ککڑی اور تازہ کھجور کا تھا۔ یہ نہایت لطیف اور متوازن غذا ہے۔

حدیث میں ذکر

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

“أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ”
“نبی کریم ﷺ تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھایا کرتے تھے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 5440، صحیح مسلم، حدیث: 3845)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسی ہی روایت ہے:

“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ”
“رسول اللہ ﷺ تربوز کو تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 1843)

یہاں “بطیخ” سے مراد تربوز یا خربوزہ ہے، جبکہ “قثاء” سے مراد ککڑی یا کھیرا ہے۔

طبی حکمت

یہ امتزاج طب نبوی کا شاہکار ہے۔ طبی لحاظ سے کھجور گرم اور خشک ہے جبکہ ککڑی سرد اور تر ہے۔ ان دونوں کو ملا کر کھانے سے:

1. اعتدال مزاج: کھجور کی گرم تاثیر کو ککڑی کی سردی متوازن کر دیتی ہے۔
2. جلن سے نجات: افطار کے بعد اکثر لوگوں کو سینے کی جلن ہوتی ہے، یہ امتزاج اس سے بچاتا ہے۔
3. ہاضمہ بہتر: ککڑی میں موجود پانی اور فائبر ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔
4. توانائی اور تازگی: کھجور توانائی دیتی ہے اور ککڑی تازگی۔

ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید اپنی کتاب “الطب النبوی بین العلم والإیمان” میں لکھتے ہیں:

“کھجور اور ککڑی کا امتزاج ایک مکمل غذا ہے۔ کھجور میں موجود شکر اور معدنیات جسم کو توانائی دیتے ہیں، جبکہ ککڑی میں موجود پانی اور فائبر جسم کو ہائیڈریٹ رکھتے ہیں اور ہاضمہ درست کرتے ہیں۔ یہ امتزاج افطار کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ جسم کو صدمہ پہنچائے بغیر آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتا ہے۔”

جدید تحقیقات

جدید غذائیت کے ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پھلوں اور سبزیوں کا امتزاج صحت کے لیے مفید ہے۔ ککڑی میں 96 فیصد پانی ہوتا ہے، جو افطار کے وقت جسم کی پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد کرتا ہے۔

—

4. دودھ اور شہد (کامل غذا)

دودھ اور شہد کا امتزاج بھی نبوی دسترخوان کا حصہ رہا ہے۔

حدیث میں ذکر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

“أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُعْجِبُهُ اللَّبَنُ”
“رسول اللہ ﷺ کو دودھ پسند تھا۔”
(مسند احمد، حدیث: 1883)

اور شہد کے بارے میں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ”
“اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔”
(سورۃ النحل: 69)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ”
“رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 5431)

طبی حکمت

دودھ اور شہد کا مکسچر:

· فوری توانائی فراہم کرتا ہے
· مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے
· نیند بہتر لاتی ہے
· معدے کے امراض سے بچاتا ہے
· جلد اور بالوں کے لیے مفید ہے

—

5. تربوز (ہائیڈریشن کا بہترین ذریعہ)

تربوز بھی رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ غذاؤں میں شامل تھا۔

حدیث میں ذکر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تربوز کھاتے اور فرماتے:

“هَذَا يَذْهَبُ بِالْحَرَارَةِ كَمَا يَذْهَبُ الْبَرْدُ بِالسُّخُونَةِ”
“یہ گرمی دور کرتا ہے جیسے سردی گرمی کو دور کرتی ہے۔”
(مسند احمد، حدیث: 24695)

طبی حکمت

تربوز میں 92 فیصد پانی ہوتا ہے۔ یہ افطار کے لیے بہترین ہے کیونکہ:

· جسم کی پانی کی کمی پوری کرتا ہے
· قدرتی شکر فراہم کرتا ہے
· ٹھنڈک بخشتا ہے
· گردوں کو صاف کرتا ہے

ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم لکھتے ہیں:

“تربوز افطار کے لیے بہترین پھل ہے کیونکہ یہ ہلکا، زود ہضم اور پانی سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ جسم کو فوری طور پر ہائیڈریٹ کرتا ہے اور معدے پر بوجھ نہیں ڈالتا۔”

—

افطار کے نبوی اصول

رسول اللہ ﷺ نے افطار کے حوالے سے چند اصول بیان فرمائے جو آج جدید ڈائٹ سائنس سے ہم آہنگ ہیں:

1. افطار میں جلدی

جیسا کہ اوپر گزرا، افطار میں جلدی کرنا سنت ہے اور صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ طویل فاقے کے بعد جلد از جلد معدے کو ہلکی غذا دینا ضروری ہے۔

2. مغرب کی نماز پہلے، کھانا بعد میں

رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ تھی کہ آپ پہلے ہلکی پھلکی غذا (کھجور یا پانی) سے افطار فرماتے، پھر مغرب کی نماز پڑھتے، اور اس کے بعد کھانا کھاتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ”
“رسول اللہ ﷺ نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار فرماتے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 696)

طبی حکمت: نماز پڑھنے کے دوران جسم آرام کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کو ہلکی غذا ہضم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نماز کے بعد بھوک قدرے کم ہو جاتی ہے اور انسان ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچ جاتا ہے۔

3. کم کھانا (ثلث کا قاعدہ)

افطار میں بھی رسول اللہ ﷺ نے زیادہ کھانے سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

“مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ”
“ابن آدم نے پیٹ سے بھرا ہوا برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں۔ اگر اسے زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 2380، سنن ابن ماجہ، حدیث: 3349)

طبی حکمت: افطار میں زیادہ کھانے سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے، ہاضمہ خراب ہوتا ہے، اور تراویح کی نماز ادا کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

4. سادہ اور قدرتی غذا

رسول اللہ ﷺ ہمیشہ سادہ اور قدرتی غذا کھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے پر تکلف کھانوں اور فضول خرچی سے منع فرمایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ وَلاَ مَخِيلَةٌ”
“کھاؤ پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بشرطیکہ اس میں اسراف اور تکبر نہ ہو۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 3605)

طبی حکمت: پراسیسڈ فوڈز، تلی ہوئی چیزیں اور مصنوعی ذائقے صحت کے لیے مضر ہیں۔ قدرتی غذائیں جیسے کھجور، دودھ، شہد، پھل وغیرہ نہ صرف سنت ہیں بلکہ صحت بخش بھی ہیں۔

—

افطار کی جدید ڈائٹ مینجمنٹ اور نبوی تعلیمات

آج جدید ڈائٹ سائنس میں Intermittent Fasting (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا) کو بہت مفید قرار دیا جا رہا ہے۔ رمضان کا روزہ دراصل Intermittent Fasting کی بہترین شکل ہے۔

Intermittent Fasting اور نبوی افطار

جدید تحقیق کے مطابق Intermittent Fasting کے فوائد تبھی حاصل ہوتے ہیں جب روزہ کھولتے وقت ہلکی اور متوازن غذا کھائی جائے۔ بالکل یہی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے 1400 سال پہلے دے دی تھی۔

ڈاکٹر محمد خیر الشعال اپنی کتاب “الصیام والصحۃ” میں لکھتے ہیں:

“جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ افطار کے وقت سب سے پہلے ہلکی پھلکی غذا جیسے کھجور اور پانی لینی چاہیے، پھر وقفہ کر کے باقی کھانا کھانا چاہیے۔ یہی طریقہ رسول اللہ ﷺ کا تھا کہ آپ پہلے کھجور سے افطار فرماتے، پھر نماز پڑھتے، پھر کھانا کھاتے۔”

جدید ڈائٹ پلان اور نبوی افطار

جدید ڈائٹ کا مرحلہ نبوی افطار
Step 1: Hydration پانی یا نبیز
Step 2: Quick Energy کھجور یا تازہ پھل
Step 3: Break (15-20 min) مغرب کی نماز
Step 4: Main Meal متوازن غذا (سادہ)
Step 5: Portion Control تہائی کا قاعدہ

—

افطار کی غلط عادات اور نبوی تعلیمات

آج کل افطار کے حوالے سے کچھ غلط عادات عام ہو گئی ہیں:

1. بھاری اور تلی ہوئی غذائیں

اکثر لوگ افطار میں سموسے، پکوڑے، چاٹ وغیرہ کھاتے ہیں جو تیل میں تلے ہوتے ہیں۔ یہ معدے پر بوجھ ڈالتے ہیں اور تیزابیت کا باعث بنتے ہیں۔

نبوی تعلیم: ہلکی اور قدرتی غذا جیسے کھجور، پانی، پھل سے افطار کریں۔

2. ایک ساتھ بہت زیادہ کھانا

افطار کے وقت دن بھر کی بھوک کی وجہ سے لوگ ایک ساتھ بہت زیادہ کھا لیتے ہیں۔

نبوی تعلیم: تھوڑا تھوڑا کر کے کھائیں، نماز کا وقفہ دیں، اور تہائی پیٹ کھانے کے لیے رکھیں۔

3. میٹھے مشروبات کا استعمال

کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوس اور شربتوں کا استعمال عام ہے۔

نبوی تعلیم: سادہ پانی، نبیز، دودھ، شہد جیسے قدرتی مشروبات استعمال کریں۔

4. نماز چھوڑ کر کھانے میں مشغول ہونا

بعض لوگ افطار کے بعد نماز مغرب کی بجائے کھانے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

نبوی تعلیم: پہلے ہلکی پھلکی غذا سے افطار کریں، پھر نماز پڑھیں، پھر کھانا کھائیں۔

—

افطار کے لیے نبوی ڈائٹ پلان (نمونہ)

دن 1-3 (آغاز رمضان)

· افطار: 3 کھجوریں اور پانی
· نماز مغرب
· کھانا: جو کا دلیہ، دودھ، سلاد

دن 4-10 (رمضان کی پہلی دہائی)

· افطار: تازہ کھجور اور تربوز/ککڑی
· نماز مغرب
· کھانا: دال، سبزیاں، سلاد، پھل

دن 11-20 (رمضان کی دوسری دہائی)

· افطار: کھجور اور نبیز
· نماز مغرب
· کھانا: چکن یا مچھلی، سبزیاں، دہی

دن 21-30 (رمضان کی تیسری دہائی)

· افطار: کھجور، دودھ، پھل
· نماز مغرب
· کھانا: ہلکا پھلکا سوپ، سلاد، پھل

—

خلاصہ باب

اس باب میں ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی افطاری کس قدر سادہ، متوازن اور صحت بخش تھی۔ کھجور، پانی، نبیز، ککڑی، تربوز، دودھ، شہد جیسی غذائیں نہ صرف سنت نبوی ہیں بلکہ جدید سائنس بھی ان کی افادیت کی تصدیق کرتی ہے۔

افطار میں نبوی اصولوں پر عمل کرنے سے:

· جسم کو فوری توانائی ملتی ہے
· نظام ہاضمہ درست رہتا ہے
· وزن متوازن رہتا ہے
· تراویح کی نماز میں آسانی ہوتی ہے
· صحت مند رہتے ہوئے رمضان کے روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں

—

حوالہ جات:

1. القرآن الکریم
2. صحیح البخاری
3. صحیح مسلم
4. سنن ابو داؤد
5. سنن الترمذی
6. سنن ابن ماجہ
7. مسند احمد
8. ابن قیم، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد
9. ابن قیم، الطب النبوی
10. جلال الدین سیوطی، الرحمة فی الطب والحکمة
11. ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید، الطب النبوی بین العلم والإیمان
12. ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم، الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب
13. ڈاکٹر محمد علی البار، الطب النبوی
14. ڈاکٹر محمد خیر الشعال، الصیام والصحۃ
15. American Journal of Clinical Nutrition
16. Harvard School of Public Health

—

جاری ہے… باب سوم: نبوی اصول اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں