بسنت ہندو دھرم کا مذہبی تہوار: تاریخ، حقیقت اور اسلامی مؤقف

اس دن ہندو مذہبی رسومات کے تحت مختلف کھانے تیار کیے جاتے اور برہمنوں کو بطور نذرانہ پیش کیے جاتے تھے۔
بسنت کی تاریخی شہادت — ابوریحان البیرونی کی گواہی
معروف مستند مؤرخ اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی بسنت کے بارے میں لکھتے ہیں:
اسی مہینے (یعنی بیساکھ) میں استواءِ ربیعی واقع ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے،
حساب سے اس دن کا تعین کیا جاتا ہے اور پھر اسے عید کے طور پر مناتے ہیں
اور برہمنوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
یہ حوالہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ بسنت محض ثقافتی نہیں بلکہ ایک
مذہبی پس منظر رکھتا ہے۔
بسنت اور ہندو مذہبی رسومات
بہار کے آغاز پر جب کھیتوں میں سرسوں کے زرد پھول لہرانے لگتے ہیں تو:
- زرد لباس پہنا جاتا ہے
- پیلے چاول اور مخصوص کھانے پکائے جاتے ہیں
- بھنگڑا اور رقص کی محفلیں سجتی ہیں
- دیوی سرسوتی اور دیگر دیوی دیوتاؤں کو خراج پیش کیا جاتا ہے
بسنت کا فروغ اور تاریخی پس منظر
ابتدائی طور پر بسنت ایک محدود اور غیر معروف تہوار تھا جو پنجاب،
اترپردیش اور مدراس کے چند غریب ہندو طبقات تک محدود رہا۔
اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ایک واقعے کے بعد اس تہوار کو خاص فروغ ملا۔
“حقیقت رائے” نامی ایک ہندو لڑکے پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
گستاخی ثابت ہوئی جس پر اسے سزائے موت دی گئی۔
ہندوؤں نے اسے مذہبی ہیرو بنا لیا مگر اسلامی حکومت میں کھلے عام اس کی یاد
منانا ممکن نہ تھا، اس لیے اس کی سمادھی پر بسنت کا میلہ منانا شروع کر دیا گیا۔
بسنت اور مسلمانوں کی سادہ لوحی
چونکہ یہ سزا اتفاقاً بسنت پنجمی کے دن ہوئی، اس لیے اس میلے پر کسی کو شک نہ ہوا۔
وقت کے ساتھ یہ رسم اس قدر عام کر دی گئی کہ مسلمان بھی نادانستہ طور پر
اس کا حصہ بنتے چلے گئے۔
اسلامی مؤقف: بسنت کیوں ناجائز ہے؟
مندرجہ بالا حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بسنت ایک
ہندو مذہبی تہوار ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کے لیے:
- بسنت منانا
- بسنتی کپڑے پہننا
- بسنتی پکوان بنانا
- پتنگ بازی میں حصہ لینا
یہ سب خلافِ شریعت اور ناجائز ہیں۔
بسنت کے اخلاقی اور جانی نقصانات
بسنت کے نام پر منایا جانے والا یہ تہوار:
- جانی و مالی نقصان
- اخلاقی بگاڑ
- فضول خرچی
- غفلت اور گناہوں
کا سبب بنتا ہے، اور ایک ایسے شخص کی یاد سے جڑا ہوا ہے جس پر
شانِ رسالت میں گستاخی کا الزام ثابت ہوا۔
نتیجہ
زرد لباس، پتنگ اور ظاہری خوشی کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھے بغیر
اس تہوار کا حصہ بننا خود کو شفاعتِ نبوی ﷺ سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔