بلندیاں کن کو ملتیں ہیں؟جانیے میکس ویل کی انقلابی تھیوری
ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے کو دباکر رکھنا چاہتا ہے۔ساس بہو کا معاملہ ہو یا ماں۔بیٹے کا،استاد شاگرد کا معاملہ۔ہو باس ملازم کا ہر جگہ یہی چیز نمایاں ملے گی۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ۔دوسرا دب کر رہے تاکہ من مانی کی جا سکے۔
میکس ویل ایک اٹیویشنل۔سپیکر ہے۔اپنے پروگرامز میں وہ اس تھیوری کو پریکٹیکلی سمجھاتا ہے۔کہتا ہے کہ جب ہم دوسرے کو دباتےہیں تو دراصل اس عمل میں جتنا ہم اگلے بندے کو دبانے میں زور خرچ کرتے وہ ہماری نا صرف۔انرجی ضائع ہوتی بلکہ۔ہم اتنا ہی خود بھی گرتے چلے جا رہے ہوتے ہیں۔
آسی طرح جب ہم کسی کو اوپر اٹھاتے ہیں تو دراصل وہ اکیلا اوپر نہیں اٹھتا ہم خود بھی اوپر اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ہمارا مقام ومرتبہ بھی بلند ہو رہا ہوتا ہے۔
مثال
میکس ویل اس تھیوری کو پریکٹیکلی اس طرح کرواتا ہے وہ ایک بندے کو سٹیج پر بلاتا ہے اور اس کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ کر دبانا شروع کردیتا یے۔مقابل جی جان والا بندہ ہے وہ۔کوشش کرتا ہے کہ نا دبے اور تن کر کھڑا رہے مگر میکس ویل کے مسلسل دبانے سے وہ۔دبنا شروع ہو جاتا ہے اور مسلسل نیچے ہوتا چلا جاتا ہے اس عمل میں غور کا مقام۔یہ کہ۔میکس ویل بھی اتنا ہی۔جھکتا چلا جاتا ہے۔بالآخر وہ۔نیچے لیٹ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
میکس ویل کی یہ تھیوری پاکستانی ماوں ساسوں بہووں اور ہر محکمے کے ہیڈ کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔جو یہ سمجھتے ہیں۔نیچے گرانے سے وہ خود اوپر اٹھ رہے ہیں۔کتنا تضاد ہے حقیقت اور گمان میں،میکس ویل کہتا ہے کہ باکمال انسان کبھی دوسرے کو نہیں دباتا بلکہ ہمیشہ اوپر اٹھانےکی کوشش کرتا یے۔اس کی یہ کوشش اسکی اپنی بلندی کا باعث بنتی چلی جاتی ہے۔
اپ بھی یقینا کسی شعبے کے ہیڈ ہوں گےزیادہ۔نا۔سہی مگر کم لوگ آپ کے بھی ماتحت ہوں گے۔اگر ایسا بھی نہیں تو یقینا۔گھر کے سربراہ ہوں گے بطور والدین کسی۔نا کسی رشتے میں اوپر کے درجے پہ۔ہوں گے۔آپ کو اگر میکس ویل کی تھیوری سمجھ آ گئ ہے تو اس کا۔شکریہ ادا کریں۔اور بلندی کے سفر پہ گامزن ہوجائیں۔میرا رب یقینا بلند لوگوں کو بلندیاں نصیب فرماتا ہے۔یقینا آپ جان ہوں گے کہ بلندیاں کن کو ملتیں ہیں؟