تحریر : لبنٰی جمشید
بچے ہمارے معاشرےکا اہم حصہ ہیں۔ ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ِکھلتی ہوئی کلکاری صحن میں نہ گونجے تو دل اداس سا ہو جاتا ہے۔ گھر اور معاشرے کی رونق بچوں اور ان کی شرارتوں سے ہے لیکن جہاں ہم بچوں کو اتنی اہمیت دیتے ہیں وہیں دوسری جانب دیکھا جاۓ تو ہم ان کی جسمانی و مالی ضروریات بھی پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ اس سب کے علاوہ بھی ایک ضرورت ایسی ہے جس پر ہمارا فوکس بہت کم ہے وہ ہے بچوں کی ذہنی تسکین کی ضرورت۔ بڑوں کی طرح بچوں کو بھی ذہنی تسکین چاہیے ہوتی ہے اور اس کی مثال اس طرح دی جاتی ہے کہ ماضی قریب جب بچہ چھوٹا ہوتا تھا تو اکثر دادی نانی اسے اپنے پاس لٹا کر مختلف کہانیاں سنایا کرتیں تھیں اور وہ بچہ اپنے ذہن میں ایک تسلسل سا قائم کر لیتا ۔ ان کہانیوں کی آڈیو تو چل رہی ہوتی ہے لیکن اس کے ذہن میں ایک طرح کی ویڈیو بھی چلتی گئی کہ اس طرح ہوا ہو گا۔۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ نانی دادیوں کی مصروفیات اور طرح کی ہو گئی اور آج کا بچہ ان کہانیوں کی بجاۓ مختلف ملکی غیر ملکی چینلز کے کارٹونز کہانیوں موٹو پتلو, رڈرا, شیوا, ہنومان , ننجا , ایکسا, لارڈ اور ٹام جیری میں پناہ لیتا ہے۔ باوجود اس کے آج کا بچہ فرسٹریشن کا شکار ہے کہ اس کی ذہنی تسکین کے لیے یہ میٹیریل ناکافی ہے اور یہ بجائے مثبت تفریح کے بچوں کو ان کے کلچر و ادب سے بھی دور لیتا جا رہا ہے۔ اسی ذہنی کمی کو پورا کرنے کے لیے بچوں کا ادب تخلیق کیا جاتا ہے۔
ادب اطفال کی تعریف
ادب کی وہ قسم جو بچوں کی ذہنی ضروریات اور دلچسبی کو مد نظر رکھتے ہوۓ خاطر تخلیق ہو, بچوں کا ادب یا ادب اطفال کہلاتی ہے۔ اس میں بچوں کی ہپسند, ذوق, دلچسبی , فہم , شوق, ادراک, جذبات و احساسات کا خیال رکھا کیا ہو۔ عام طور پر بچے متلن مزاج ہوتے ہیں۔انہیں ہر چیز میں ورائٹی چاہیے ہوتی ہے۔اس لیے ان کے لیے جو چیز بھی تخلیق ہو اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ وہ سدا بہار ہو۔ وہ اسے جب بھی پڑھے اس کو ہر بار تفریح کے ساتھ فکر و عمل کا پیغام ملے۔
ادب اطفال کی تاریخ
ڈاکٹر سید اسرار الحق نے تاریخ کے حوالے س ایک کتاب ” بچوں کے ادب کی تاریخ“ تخلیق کی ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کی ادب کی تاریخ کا سرا برصغیر کے دور میں 1857 کی جنگ آذادی سے پہلے کا جڑا ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی خلیفہ ہارون الرشید اور اورنگزیب اپنی اولاد کی تربیت کے لیے اعلی پاۓ کا ادب تخلیق کرواتے تھے۔
باقاعدہ طور پر مصنف نے امیر خسرو کو بچوں کے ادب کا پہلا مصنف قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں مختلف علماۓ ادب کے اقوال کا حوالی دیا گیا ہے اس کے علاوہ محمد قلی علامہ اقبالؒ ، اسماعیل میرٹھی، صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، محسن احسان, اور دیگر نام شامل ہیں جنہوں نے ادب اطفال میں گراں قدر حصہ مختص کیا۔ مرزا غالب نے بھی ابتدا میں بچوں کے لیے نظمیں تخلیق کیں ۔ ایک نظم کا کچھ حصہ یوں ہے
کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق
اسے پڑھنے کے ہم قائل نہیں
جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا
اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں
نظیر اکبر آبادی کی نظموں میں ’’ریچھ کا بچہ، بلبلوں کی لڑائی، ہنس، طفیلی نامہ، پتنگ بازی، کبوتر بازی، بلدیو جی کا میلہ‘‘ وغیرہ ملتی ہیں اسی طرح ان کا ایک مجموعہ شاعری ’’تل کے لڈو‘‘ بھی بچوں کے لیے ہے.
امتیاز علی تاج , حجاب امتیاز اور قراة العین حیدر کے نام بھی سر فہرست ہیں وہ ”تہذیب نسواں اور ”پھول“ میں مضامین لکھا کرتیں تھیں۔ اس کے علاوہ عطا الحق قاسمی کی بھی ادب اطفال میں کراں قدر خدمات ہیں۔
اگر دیکھا جاۓ تو ذیادہ تر نظمی ادب ہمیں تایخ کی کتابوں سے ملتا ہے یا پھر چند اصلاحی مضامین۔۔ اس کے علاوہ مختلف مافوق الفطرت کہانیاں تخلیق کی گئیں جن میں الف لیلی, علی بابا چالیس چور, سندباد وغیرہ شامل ہیں۔
جدید دور میں ادب اطفال کے مسائل
اگر ہم آج کے بچے کی بات کریں تو اس کی ذہنی استعداد ماضی کے بچوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہم آج کے دور کے بچوں کو کمپیوٹر کی پیداوار کہتے ہیں۔ اسے یہ ماورائی کہانیاں بالکل بھی اس طرح متاثر نہیں کرتیں ہیں جیسا کہ زمانہ قدیم کے بچوں کے لیے سبق آموز ہوا کرتی تھیں۔ ان کو آج کے دور کے مطابق سائنسی تجربات پر مبنی حقیقی کہانیاں چاہییں۔ اجسام فلکی اور سیاروں کے بارے میں ناولز ان کے ذہن کی ضرورت ہیں۔ اسلامی ہیروز اور ان کے کارنامے ان کو متاثر کرتے ہیں۔ ادب میں ہر وہ چیز جس میں انفرادیت اور زمانے کی دوڑ کے ساتھ مقابلہ ہوتا نظر آۓ آج کا بچہ ایسا ادب پڑھنے کا متمنی ہے۔
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے کے لیے بہت کم نام سامنے آتے ہیں۔ شروع شروع میں تو مشہور ہونے کے چکر میں مصنف بچوں کی چند کہانیاں تخلیق تو کر لیتا ہے مگر پھر اس کے بعد جب اس کا ادب کی دنیا میں ایک نام پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی ادبی شہرت کی وجہ کوبھول چکا ہوتا ہے اور دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھتا۔ اس ضمن میں نامی و گرامی مصنفین کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ بچوں کا ادب لکھنے سے وہ پزیرائی حاصل نہیں ہوتی, ہمارا معاشرہ بچوں کے ادیب کو ان معنوں میں اہمیت نہیں دیتا اور ملکی سطح کی بات چھوڑیں یہاں پر انٹرنیشل ایوارڈ بھی آج تک بچوں ک ادیب کے لیے مختص نہیں کیا گیا۔ اس طح ادب اطفال کی اہمیت کئی درجے کم ہو کر رہ گئی ہے۔
موجودہ دور کےادیب اطفال
اس وقت پاکستان میں پینتیس سے زیادہ بچوں کے ادبی مجموعے و رسائل شائع ہو رہے ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر بچوں کے آن لائن مختلف مضامین و رسائل اور ادبی عملی مشقیں موجود ہیں۔
چار سال قبل مشہور مصنفہ عمیرہ احمد نے ”الف نگر “ کے نام سے بچوں کا ایک ادبی پلیٹ فارم شروع کیا جس کے ذیر پرست مصنفہ کی لکھی مختلف ادبی کتابوں کے علاوہ مختلف مصنفین کی بھی ادب اطفال کے حوالے سے کتب پبلش کی جاتیں ہیں اور صحتمند سرگرمیاں منعقد ہوتیں ہیں۔
ڈاکٹر افضل حمید (جی سی یونیورسٹی فیصل آباد) وغیرہ نے بچوں کے ادب پر مقالہ لکھا ہے اور بہت سے دیگر سکالرز کو بھی اس جانب راغب کر رہے ہیں جس سے ادب اطفال میں نئی جان آنا شروع ہو گئی ہے۔
انڈیا سے ڈاکٹر خوشحال زیدی، ڈاکٹر اظہر حیات، ڈاکٹر اسرارالحق وغیرہ نے اپنی تحقیقات میں بچوں کے ادب کو موضوع بنایا ہے.
اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو بین القوامی ادب سے بھی روشناس کروایا جاۓ اور اس سلسلے میں مغربی ادب اطفال کے تراجم بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچے ہمارا مستقل ہیں اور معاشرے میں ایک جڑ کی حثیت رکھتے ہیں اگر ہمیں درخت کو تروتازہ رکھنا ہے تو جڑوں کی آبیاری میعاری ادب کی تفریح سے کرنی ہو گی تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں جاۓ۔