پیرینٹنگ ٹپس جو بچوں کو آپ کی بات ماننے په مجبور کر دے گے۔۔۔۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے اکثر علاقوں میں طعنہ زئی کی رسم بہت عام ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب انہوں نے کوئی درخت کاٹنا ہو تو درانتی یا کسی اوزار کا استعمال نہیں کرتے بلکہ اکٹھے ہو کر اس کو کو طعنے و کوسنے دیتے رہتے ہیں ۔ کچھ دنوں بعد وہ سوکھ کر جڑ سے ہی اکھڑ جاتا ہے۔
بالکل ایسا ہی سلوک ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ ہم ان کی صلاحیتوں کو اسی طرح طعنے دے کر زنگ آلود کر دیتے ہیں۔ نتیجتاََ وہ ناکام سے ناکام تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری 60% آبادی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل ہے۔ ان کو والدین کا اعتماد ہی حاصل نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایڈیسن تھامس کو تو سب جانتے ہیں بلب کا موجد تھا اس کے علاوہ برقی و کیمیائی بہت سی ایجادات کا سہرا بھی اس کے سر ہے۔ لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ بچپن میں اس کی ماں کو سکول بلا کر بتایا جاتا ہے کہ آپ کا بیٹا کند زہن ہے, اس کو سکول سے نکالا جا رہا ہے۔ وہ ایک ماں ہی تھی جس نے اپنے بیٹے کو اعتماد کی ڈور تھماتے غلط بیانی کی کہ اس کے استاد کے خیال میں ایڈیسن اتنا زہین ہے کہ کوئی استاد اس کے میعار کا نہیں اس لیے اب ماں ہی اسے پڑھاۓ گی ۔ یہ ایک ماں کا اعتماد ہی تھا جس کے بل بوتے پر ایک بیٹے نے پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ حوصلہ افزائی اور سراہنے کی اہمیت کس قدر بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اس کلچر کو فروغ دہنے کی ضرورت کس قدر ہے۔
ایک حدیث مبارکہ ہے ” تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اسے اپنے مالک کے سامنے جوابدہ ہونا ہے“ بلاشبہ بچے والدین کے پاس اللہ کی امانت ہیں اور اس امانت کا خیال رکھنا والدین کا فرض ہے۔ کل کو انہوں نے اپنے رب کے حضور اعمال کی جوابدہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ آج ہم بچوں کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔
جذبات و احساسات کو سمجھنا
والدین اور بچوں کو ایک دوسرے سے جو مشترکہ شکایت ہے وہ یہ کہ دونوں ایک دوسرے کے جذبات و احساسات سے لاتعلق رہتے ہیں ۔ والدین اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ بچہ کیا سوچتا اور چاہتا ہے اور اولاد ماں باپ کی خواہشات اور امیدوں کے برخلاف اپنی من مانی کرتی ہے۔
ہم ایک چھوٹے بچے کی مثال لیتے ہیں جس کا کھلونا ٹوٹ چکا ہے اور وہ رو رہا ہے, جبکہ باقی گھر والے اس کے رونے پر ہنس رہے ہیں اور معمولی بات سمجھتے ہوۓ اس کو تنبیہہ کر رہے ہیں کہ کھلونا ٹوٹنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس کھلونے کی اہمیت کا اندازہ اس بچے کے علاوہ دوسرا نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ایک خاتون خانہ کے لیے قیمتی گلاس یا کسی اور برتن کا ٹوٹ جانا۔ بجاۓ ہنسنے کے اس کے کھلنونے کے ساتھ وابستگی کو سمجھنے اور اسے مناسب الفاظ میں تسلی دینے کی ضرورت ہے۔
ہم اکثر اوقات یہ بھی دیکھتے ہیں کہ نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے بعد اس سے بڑا بچہ جہاں ایک ننھے کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے وہیں جیلیسی کےجذبات بھی جنم لیتے ہیں اور ان جذبات کو اکثر اوقات بڑھاوا ہمارے وہ رویے دیتے ہیں جو محض بچے کو چھیڑنے کی غرض سے ہم چھوٹے بچے سے پیار جتاتے ہیں۔ ہم تو ایسی صورتحال کو انجواۓ کر رہے ہوتے ہیں مگر اس بچے کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جو ہم سے شفقت کی توقع لیے ہوتا ہے۔ ماں اس کے لیے اس کی کل کائینات ہے , وہ اس میں شراکت داری بھی برداشت کرے اور رویے بھی۔ اس سے اس کے اندر منفی جذبات پروان چڑھیں گے۔ اس لیے بچوں کے احساسات کو سمجھتے ہوۓ ان سے مشفقانہ اور مثالی رویہ اپنائیں۔
غور سے بات سننا
بچے کی بات غور اور تسلی سے سننا اور سمجھنا کی قدر اہم ہے اس کا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں افطاری کی تیاری میں مصروف تھی۔ میں نے اپنی بیٹی کو دادی سے یہ کہتےسنا کہ ماما میری باتوں کو بالکل بھی نہیں سنتیں ان کو جب بھی کوئی بات کہتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہیں ابھی ٹائم نہیں بعد میں بتانا۔ دادو یہ بعد کب آۓ گا؟۔۔ اس کی اس بات نے فوراََ میر ے اندر خطرے کی گھنٹے بجا دی ۔ میں نے سب کاموں کو چھوڑ کر اسے سنا اور اس کا مسئلہ حل کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے اندر یقین پختہ ہو جاتا کہ ماں کو اس کے مسائل کی پرواہ نہیں ہے۔ میں نے آئیندہ کے لیے عہد کیا کہ مصروفیات سے قطع نظر مجھے اپنے بچوں کی ہر بات سننے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہے تاکہ ہمارے درمیان روابط کی خلیج حائل نہ ہو سکے۔
میٹنگ کی ضرورت و اہمیت
بچے سے اگر کوئی غلط کام ہو جاتا ہے تو اس کو ڈانٹ ڈپٹ کے بجاۓ گفت وشنید کا طریقہ اختیار کریں۔ اس سے ون ٹو ون میٹینگ کریں اور وہ موقف جاننے کی کوشش کریں جس کی بنا۶ پر بچے نے غلط حرکت کی ہے اس کی بنیاد تک پہنچ کر اس کے اندر کے محرک کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
!!..How to talk so kids will listen & listen so kids will talk
یہ ایک بہت مشہور کتاب کا نام ہے جس کا دنیا کی سو زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔ مصنف کا کہنا ہے کہ میٹنگ اور ڈانٹ ڈپٹ میں فرق ہوتا ہے۔
- ڈانٹ دوسرے لوگوں کے سامنے ہوتی ہے جب کہ میٹنگ تنہائی میں ہوتی ہے۔
*میٹنگ میں مشترکہ بات چیت سے مسئلے کا حل ڈھونڈا جاتا ہے جبکہ ڈانٹ میں فیصلہ ٹھونسا جاتا ہے۔
*میٹنگ خوداعتمادی میں اضافہ کرتی ہے جبکہ ڈانٹ خود اعتمادی کو کمزور کر کے رکھ دیتی ہے۔
*میٹنگ سے بچے والدین کے قریب آتے ہیں جب کہ ڈانٹ سے دور چلے جاتے ہیں۔
اپنےبچوں کو دل سے قریب رکھیں اور بات چیت سے ان کے ایگریشن کو کم کریں۔
انتخاب کا حق
بچے پر رعب جمانے اور اپنی بات مسلط کرنے کے بجاۓ اگر اس کو انتخاب کا حق اور اعتما دیا جاۓ تو اس کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
مثال کے طور پر زروا اپنا پسندیدہ سوٹ پہننا چاہتی ہے مگر والدہ اپنی مرضی سے آرام دہ ڈریس نکالتی ہیں۔ ایسی صورت میں بچے کا اشتعال انگیز ہونا بنتا ہے. بہتر ہے کہ بچے کے انتخاب کو ترجیح دی جاۓ۔
بچہ کسی وقت کھیلنا چاہتا ہے مگر والدین زبردستی پڑھنے کے لیے بٹھا دیتے ہیں. بچہ کہنانا مانے تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ کچھ دیر انہیں کھیلنے دیں مگر یہ ضرور بتادیں کہ پڑھائی کتنی ضروری ہے۔
زبردستی کسی بات کو منوایا تو جا سکتا ہے مگر زبردستی کے کام میں نکھار نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
نصیحت کاطریقہ کار
بچوں کو ہر وقت کی بے جا نصیحتیں بھی اریٹیٹ کرتیں ہیں رفتہ رفتہ وہ ان پر کان دھرنا چھوڑ دیتا ہے۔ خاص طور پر اگر ہم کسی کے سامنے اسے نصیحت کریں تب بھی وہ شرمندگی محسوس کرے گا۔ بہتر طریقہ کار یہی ہے کہ نصیحت کا ایسا انداز اپنا جاۓ کہ بچے کو محسوس نہ ہو سکے کہ اسے نصیحت کی جا رہی ہے۔ والدین کو اپنا رویہ اس طرح کا رکھنا چاہیے کہ اولاد ان کی اپنی ذات سے نصیحت لے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نماز پنچگانہ ادا کرتے ہو تو بچے یقیناََ اسے فالو کریں گے اگر نہیں کرتے تو اس صورت میں آپ اپنی اور گھر کے باقی افراد کی مثال دے کر سمجھا سکتے ہو۔آپ کی بات کو وہ سنے گا انور عمل بھی کرے گا۔
بالفرض آپ نماز ادا نہیں کرتے تو وہ آپ کی نصیحت کو بھی ایک کان سے سن کر دوسریےسے نکال باہر کرے گا۔ والدین کے قول و فعل کا تضاد بچے کی شخصیت پر برے اثرات چھوڑتا ہے۔
بچے کے ساتھ طنزیہ لہجہ ہر گز استعمال نہ کریں۔ اگر طنزیہ رویہ رکھا جاۓ تو انتقام کے جذبات جنم لیتے ہیں۔
تقریر نہیں تحریر
اگر اولاد آپ کی نصیحتوں پر عمل نہیں کر رہی اور باوجود آپ کے بار بار یاد دہانی کے وہی غلطی دہرائی جا رہی ہے تو آپ کو چاہیے کہ تحریری رویہ اختیار کریں۔ گھر میں جگہ جگہ do اور dont کے سٹیکرچسپاں کریں۔ مختلف دعاؤں اور چھوٹی آیات کے سٹیکرڑ کمرے کے داخلی اور خارجی راستوں پر لگائیں تا کہ بچہ آتے جاتے انہیں پڑھے اور ذہن نشین کر لے۔ اس ک علاوہ اگر بچے کمرے سے باہر نکلتے پنکھا, ٹی وی , لائٹ بند نہیں کرتے تو سوئچ کے ساتھ کاغذ چسپاں کرکے اسپر ان کے لیے وارننگ لکھی جاۓ۔۔ والدین کو چاہیے کہ مہینے میں کم از کم ایک بار بچوں کو خط لکھیں اور انہیں بتائیں کہ ان میں کون کون سی خوبیاں ہیں اور کیا خامیاں ہیں اور ان کو کس طرح سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی کارآمد طریقہ عمل ہے۔
غلطی کا اعتراف اور معافی کی عادت ڈالیں
بچوں کی مثال کمہار کی اس مٹی سے دی جا سکتی ہے۔ جیسے وہ کچا برتن بناتا ہے اگر اس کی مرضی کا نہیں ہے تو اسے توڑ کر کسی بھی صورت میں ڈھال لے گا ۔۔ اگر وہ پک کر تیار ہو جاتا ہے تو پھر اس کو دوبارہ توڑ کر بنانا ممکن نہیں۔
بچے کا ذہن بھی اوائل عمری میں اس کچے برتن کی مانند ہوتا ہے جسے ہمکسی بھی طرح سے موڑ کر ایک شاہکار بنا سکتے ہیں ۔اس لیے ان کو شروع سے ہی مثبت رجحان کی طرف راغب کریں۔ وہ اگر غلطی کریں بھی تو ان کے اندر اسے چھپانے کی بجائے اعتراف کرنے اور معافی مانگنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ یہ صلاحیت والدین ہی اپنے بچے کے اندر ڈیولیپ کر سکتے ہیں۔
تعریف موٹیویٹ کرتی ہے
بچے کے کام کی تعریف اس کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ مذید اپنے کام میں نکھار لاتا ہے۔ بچے کو ہر وہ چیز سکھانی چاہیے جو اس کی زندگی میں کبھی بھی کام آۓ تو وہ اسے احسن طریقے سے انجام دے ۔ بچوں کے مختلف پراجیکٹس کی چھوٹے چھوٹے لفظوں میں تعریفیں ان کے اعتماد میں اضافہ کرتیں ہیں ۔ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ جو کام وہ کر رہا ہے وہ کتنا مثبت اور قابل تعریف ہے اس لیے وہ اپنے اندر مذید اچھائیاں تلاش کرتا ہے۔
ٹائم ٹیبل کی پابندی
بچوں کی زندگی کو منظم رکھنے کے لیے ٹائم ٹیبل سیٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ کس وقت اٹھنا ہے۔نماز ادا رنی ہے۔ دانت برش کرنے ناشتے کا وقت, ان کے سنیکس کا وقت, پڑھائی کے اوقات, کھیلنے کا ٹائم , ان کو ایک چارٹ کی شکل میں بنا کر بچے کو دے دیا جاۓ اور سختی سے اس پر عمل کروایا جاۓ تو بچے کی زندگی کی ایک بہت اچھی روٹین سیٹ ہو جاتی ہے ۔ اس روٹین کو فالو کرتے ہوۓ اپنی زندگی منظم اور مثبت اصولوں کے تحت گزارتا ہے.
سزا کا طریقہ کار
بچوں کو سزا دینےکے طریقہ کار کی بذات خود ایک مسئلہ ہے, آخر کیسی سزا دی جاۓ کہ وہ نصیحت بھی پکڑے اور آئیندہ کے لیے غلط کام سے توبہ بھی کرے۔
ہمارے پیارے نبیﷺ بچوں کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے۔ وہ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے دیکھا جاۓ تو غلطی کرنے پر پہلے اکیلے میں سمجھانا روایت ہے ۔ اگر کوئی نہیں سمجھ رہا تو بول چال بند کر دی جاۓ پھر بھی باز نہ آۓ تو مارنے کا حکم اس طرح ہے کہ مارا جاۓ مگر چہرے پر نہیں اور نہ ہی وہ مار اپنا نشان ثبت کرے۔
پس یہی رویہ ہمیں بچوں کے ساتھ بھی رکھنا چاہیے۔ ان کے غلط اعمال کی سزا اسلامی اصولوں کی روشنی میں بہترین ہے۔
تنقید ایک زہر
عموماََ دیکھا گیا ہے کہ اکثر والدین غصے میں بچے کو غلط اور برے القاب سے پکارتے ہیں یہ بچے کی شخصیت کی توڑ پھوڑ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کتنا برا لگے اگر کوئی ہمیں سست,نالائق, بدتمیز,جھلی اور کام چور کے نام سے بلاۓ۔ ہم کس طرح توقع کریں گے کہ یہ الفاظ بچے کے ذہن پر مثبت اثرات مرتب کريں۔ قرآن میں بھی ایک دوسرے کو غلط القاب سے بلانے کو منع فرمایا ہے۔ بچے کی ماضی کی غلطیوں کو بار بار نہ دہرائیں۔ اس کے کاموں میں بار بار کی تنقید کہ یہ لکھائی بہت بری ہے, تم کچھ نہیں کر سکتے, تم سے زیادہ ڈفر اور کوئی نہیں۔ اس طرح کی باتیں اس کے اندر زہر کی طرح سرائیت کرکے اس کی شخصیت کو بھی زہریلا بنا دیتی ہیں۔ بچ کی شخصیت کا بننا اور بگڑنا ہمارے ہاتھ میں ہے لہذا ہمیں اپنے رویوں کی درستگی پر دھیان دینا ہے ۔ انٹرنیٹ پر بچوں کی تربیت کے حوالے سے سینکڑوں ویڈیوز موجود ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ موٹیویشنل سپیکرز کے بچوں کے حوالے سے سیمینارز اٹینڈ کرکے ہمیں بچوں کی تربیت کے حوالے سے خاطر خواہ رہنمائی مل سکتی ہے۔