بے مثال قربانی
آج وہ بہت تھک گۓ تھے۔۔آج تیسرا دن تھا۔ وہ مسلسل اونٹوں کو قربان کر رہے تھے ۔۔ابھی انہوں نے سواں اونٹ ذبح کیا تھا ۔۔۔ انہوں نےچاروں طرف دیکھا۔خون ہی خون تھا ۔۔۔ محتاج،یتیم ،مسکین اور غریب جھولیاں پھیلا پھیلا کر دعاٸیں دے رہے تھے۔۔بستی کے سب لوگ بہت خوش تھے اور گوشت کو اپنے اپنے طریقے سے محفوظ کر رہے تھے۔۔ یہ قربانی اس لیے دی گٸ تھی کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے جواں سال بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔۔۔۔وہ بیٹا جو ضعیف العمری میں ملا تھا۔۔ایک معجزے کی صورت میں۔۔۔اب باپ کا دست و بازو تھا، باپ کا فخر و غرور تھا۔۔اسی کی قربانی ؟؟؟۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے۔؟؟؟؟؟۔۔کیا یہ شیطان لعین کا وسوسہ تو نہیں۔۔؟؟۔۔۔تین دن سے اسی لیے قربانی کر رہے تھے۔۔
چوتھے دن وہ نئے سرے سے مضطرب تھے۔۔رات کو پھر وہی خواب اپنی پوری جزئیات کے ساتھ آیا تھا۔۔۔ذبح کرنے کی جگہ۔۔باپ اور بیٹا۔۔۔باپ کے ہاتھ میں چھری۔۔۔بیٹے کا کٹتا ہوا گلا۔۔۔ابلتا خون۔۔۔خون آلود چھری۔۔۔ کٹی ہوٸی گردن کے ساتھ بیٹے کے چہرے کے نقوش۔۔۔جنہیں ہزار بار چوما تھا۔۔شک کی کوٸی گنجاٸش ہی نہ تھی۔۔یہ رب کا حکم تھا۔۔رب کی مرضی تھی۔۔بندے کی اطاعت مطلوب تھی۔۔اولاد کی قربانی۔۔۔کیسا کڑا امتحان تھا۔۔وہ بہت دیر سے یونہی بیٹھے تھے۔۔زوجہ نے پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا۔.جب بھی کوٸی نٸ مہم آتی، وہ سوچ میں گم ہو جاتے۔ یہ سوچ فرار کی سوچ نہیں بلکہ کام کی بہترین پلاننگ کے لیے ہوتی، اس لیے بار بار کی مداخلت پسند نہ کرتے تھے۔۔ ”ابا جان ۔۔کیا ہوا۔۔؟ یوں کیوں بیٹھے ہیں۔۔““۔اسماعیل علیہ السلام کو باپ کے چہرے پر تناٶ اور کشمکش صاف نظر آرہی تھی ۔۔ ابراہیم خلیل اللہ ذرا چونکے۔۔۔وہ خاموشی سے بیٹے کا چہرہ پڑھنے لگے۔۔اگر لاعلمی میں اسے مار ڈالوں۔تت ۔۔۔ تو۔۔۔۔ ”بولیے ناں ابا جان۔۔ہم منتظر ہیں۔““۔بیٹے کا رواں رواں سوالی تھا۔۔لمحوں میں فیصلہ ہوا۔۔”چلو آٶ باہر چلیں““۔۔زوجہ نے دونوں باپ بیٹے کو باہر جاتا دیکھ کر سکون کی سانس بھری اور اذکار کرنے لگیں۔۔ ”بیٹے۔۔میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔“ ۔باپ کی اس تمہید نےاسماعیل علیہ السلام کو ٹھٹھکا دیا۔۔بات یقیناً بہت بڑی تھی۔۔”یہ رب کا حکم ہے“۔۔شیر خوار بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے والا اگر کسی تردد کا شکار تھا تو یقینًا کوٸی بڑا کام ہی تھا۔”آپ کام بتاٸیے ابا جان““۔۔وہ چند ثانیے اسے دیکھتے رہے۔۔کہ اللہ کا حکم سننے کے بعد یہ کیا کریں گے۔۔اسے بتانا ہی پڑے گا۔۔۔”اس بار اللہ تعالیٰ نےتمہاری قربانی مانگی ہے۔۔تم میرے پاس اللہ کی امانت ہو۔۔اللہ جی آپ کو واپس مانگ رہے ہیں تو کیسے انکار کروں““۔اسماعیل علیہ السلام کار نبوت کی نزاکتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔۔بھری جوانی۔۔بھری امنگیں۔۔ختم ہونے والی تھیں۔۔۔وہ لحظہ بھر کو رکے۔۔مگر اس دنیا کا سب کچھ فانی ہے۔۔””اباجان مجھے منظور ہے۔۔آپ کو جو حکم ملا ہے۔۔وہ سر آنکھوں پر““۔۔ابراہیم علیہ السلام نے جہاں اطمینان کا سانس بھرا وہیں ابلیسی کارندوں میں ہلچل مچ گٸ۔جو بندہ اللہ کی طرف لپکتا ہے، وہ ان سے برداشت نہیں ہوتا اور اسے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔۔
دونوں باپ بیٹا اپنے سازوسامان کے ساتھ جانے کو تیار تھے۔۔زوجہ کو صرف یہ پتہ تھا کہ دونوں باپ بیٹا کسی دعوت میں گئے ہیں۔۔وہ دعوت کہا ں تھی اور کس کے ہاں تھی ۔۔ان کی بلا سے۔۔وہ گھر کے کاموں میں الجھی ہوٸی تھیں۔۔۔
اس علاقے کا دستور یہ تھا کہ قربانی اونچی جگہ کی جاتی تھی۔۔دونوں باپ بیٹا اپنے اپنے آنسو ایک دوسرے سے چھپاۓ باتیں کر رہے تھے۔ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوۓ تھے۔۔دھیمے اور مضبوط قدم، ثابت قدمی اور استقلال سے بڑھ رہے تھےکہ ان دونوں کو ایک بوڑھا ملا ، جو ان دونوں کو روک رہا تھا ۔۔ دونوں رک گۓ۔۔””کچھ جانتے بھی ہو کیا کرنے جا رہے ہو۔۔یہ تمہاری اولاد ہے۔۔کیسے زندہ رہو گے اس کے بغیر۔۔بیٹا تو بھاگ جا۔۔بڈھا سٹھیایا ہوا ہے۔۔دھکا دے اسے اور اپنی زندگی جی۔۔تیری زندگی تو مرضی بھی تیری““۔””ارے تو ہے کون۔۔ہمیں کیسے جانتا ہے۔۔اور یہ بکواس کیوں کر رہا ہے۔۔راستے سے ہٹ۔۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اسی کی خوشنودی چاہیئے ۔۔ راستے سے ہٹ جا““۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام غضب ناک ہو گۓ۔۔ وہ شیطان تھا اور ان دونوں کو اللہ کی بغاوت پر آمادہ کرنا چاہتا تھا۔۔وہ اپنی شیطانی طاقتوں کے استعمال سے انہیں روکنا چاہتا تھا۔۔۔اللہ کی طرف سے فوراً کمک پہنچی۔۔ایک فرشتے نے عملی مظاہرہ کر کے بتایا کہ بسم اللہ اللہ اکبر کہ کر شیطان کو کس کر پتھر مارا جاۓ ۔۔فرشتے نے اللہ کی مدد سے اس پتھر کی طاقت میں اضافہ کر دیا۔۔سات پتھر پڑے تواس کی طاقت کم ہو گٸ
۔اس جگہ کو جمرة الاولیٰ کہتے ہیں۔۔وہ لبیک اللٰھم
لبیک پڑ ھتےہوۓ آگے بڑھنے لگے تو تھوڑی دیر کے بعد پھررکنا پڑا۔شیطان پھر معصیت کے راستے کی دعوت دینے کے لیے مستعد تھا۔۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔باپ کی عقابی نظر بیک وقت بیٹے اور شیطان کی چالوں کی طرف تھی اور بیٹا باپ کے نقش قدم پر
چل رہا تھا۔”ابا جان جب آپ مجھے ذبح کے لیے لٹاٸیں گے تو الٹا لٹانا تا کہ چھری دیکھ کر میں کچھ کر نہ بیٹھوں““۔ارے ظالم ۔۔دہاٸی ہے دہائی ““۔شیطانی مکروفریب اطاعت کا ایسا روپ دیکھ کر بے چین ہو اٹھا۔۔یہاں دوسری بار شیطان کو پتھر پڑے۔۔جوں جوں منزل قریب آرہی تھی توں توں شیطانی اثر بڑھ رہا تھا۔۔اللہ کی رحمت بھی بندے پر چھاٸی تھی۔۔تیسری بار شیطان پتھر کھانے کے بعد مایوس ہو گیا۔وہ مسلسل پڑھ رہے تھے۔ان صلا تی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب اللعالمین۔ یہی دعا اللہ نے اپنی لازوال کتاب میں اپنی امت کو سمجھاٸی ہے۔۔
”بیٹی! کیا تم جانتی ہو کہ تمہارا شوہر اور بیٹا کہاں گئے ہیں“۔اماں کو یہ سوال بہت عجیب لگا۔یہ ہوتا کون ہے پوچھنے والا ۔”بابا جی، میں ان سے نہیں پوچھتی۔وہ اللہ کے کام سے گئے ہیں ۔ آپ کھانا اور پانی پئیں اور اپنا راستہ ناپیں“شیطان، جو حضرت ابراہیم کے گھر میں نقب لگانے آیا تھا، اس میں وہ بری طرح ناکام ہوا تھا۔ ”اباجان۔یہ پٹی باندھ لیں اور میں بھی یہ پٹی باندھے لیتا ہوں۔۔انشاءاللہ ہم جنت میں ملیں گے۔۔میرے لیے دعا کیجیے۔۔““۔ان کو یہ مناسب ترین لگا۔۔انھوں نے تکبیر پڑھی اور بیٹے کو الٹا لٹا کر چھری چلا دی۔۔جب پٹی اتاری تو سامنے بیٹے کی بجاۓ مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا۔ وہ کچھ حیران و پریشان کھڑے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔یہی حالت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تھی۔۔ اللہ نے انھیں کامیابی کا مژدہ سنایا۔۔اب امت میں رسم قربانی رہ گٸ ہے ،روح قربانی نہیں رہی۔۔اس روح کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔۔اس لیے اس قرآنی کہانی کو اپنے الفاظ میں پیش کیا ہے۔۔۔
تحریر ۔۔۔اسما حبیب