گاؤں کے کنارے ایک ویران گودام تھا، جس کے بارے میں گاؤں والے عجیب و غریب کہانیاں سناتے تھے۔ یہ گودام ہمیشہ سیاہ چھاؤں میں ڈوبا رہتا، اور اس کے دروازے پر ہمیشہ ایک بوسیدہ تالا لٹکتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ گودام کچھ عرصے تک ایک مشہور کاروباری خاندان کا تھا، جو بعد میں غمگین حالات کی وجہ سے غائب ہوگیا تھا۔ کئی سالوں سے اس گودام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہاں کچھ گمشدہ لوگ آخرکار واپس نہیں آئے۔
ایک رات، گاؤں کے چار نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گودام کے راز کو فاش کریں گے۔ ان میں عامر، فہد، زبیر اور دانش شامل تھے۔ ان سب نے سنا تھا کہ گودام میں رات کے وقت عجیب و غریب آوازیں آتی ہیں اور کبھی کبھار وہاں روشنی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی ہمت بڑھانے کے لیے، عامر نے کہا، “یہ سب محض افواہیں ہیں، ہم خود جا کر دیکھیں گے۔”
گودام کے قریب پہنچنے پر، ماحول کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ ایک سرد ہوائیں چل رہی تھیں، اور رات کا سناٹا دل میں خوف پیدا کر رہا تھا۔ گودام کا دروازہ بند تھا، لیکن یہ اتنا پرانا تھا کہ بس ایک دھکا دینے سے ہی کھل گیا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک زوردار آواز آئی جیسے کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔
انھوں نے اندر قدم رکھا، اور ٹارچ کی روشنی میں گودام کی چٹانی دیواروں اور خالی جگہوں کو دیکھا۔ ہر طرف غبار چھایا ہوا تھا، اور وہاں کا ماحول کسی بھوتیہ جگہ کی مانند تھا۔ ایک کمرے میں قدم رکھتے ہی، ان سب نے ایک خوفناک بو محسوس کی، جو جلی ہوئی چیز کی تھی۔ فہد نے کہا، “یہ بو کسی جلی ہوئی لاش کی سی لگتی ہے۔”
سب نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے قدم بڑھائے۔ گودام کے اندر ایک کمرہ تھا جس کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ وہاں ایک جلی ہوئی لاش پڑی تھی۔ چہرہ مکمل طور پر جھلسا ہوا تھا اور جسم کا بیشتر حصہ راکھ میں بدل چکا تھا۔ کوئی بھی پہچان نہیں پا رہا تھا کہ یہ کس کی لاش تھی۔
زبیر کی زبان سے صرف اتنا نکلا، “یہ کیا ہے؟ یہ کس کی لاش ہے؟” وہ خوف سے لرز رہا تھا۔ دانش نے لاش کے قریب جا کر اس کا معائنہ کیا اور کہا، “یہ کوئی حادثہ نہیں، یہ لاش جان بوجھ کر جلائی گئی ہے۔”
اسی دوران، گودام کے دوسرے کمرے میں ایک باریك سایہ حرکت کرتا دکھائی دیا۔ سب نے فوراً ٹارچ کی روشنی اس طرف ڈالی، لیکن وہاں کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ فہد نے کہا، “ہمیں یہاں سے فوراً نکلنا چاہیے، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔”
عامر نے کہا، “نہیں، ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ یہ لاش کس کی ہے اور یہاں کیا ہو رہا ہے۔” اسی دوران، ایک پرانی کتاب کمرے کے کونے سے نظر آئی، جس پر خون کے دھبے تھے۔ کتاب کھولتے ہی ان سب کو ایک ایسا راز پتہ چلا جس نے ان کے ہوش اڑا دیے۔ کتاب میں کئی گاؤں والوں کے نام درج تھے، اور ان کے ساتھ ایک تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس گودام میں غائب ہو چکے تھے، اور ہر نام کے ساتھ ایک دن کی تاریخ درج تھی۔ سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ ان میں ان چاروں کے نام بھی تھے، اور ان کے ساتھ کل کی تاریخ درج تھی۔
کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے، اچانک ایک خوفناک آواز آئی، “تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟” ان کی ساری ہوش اڑ گئے، اور جیسے ہی ٹارچ کی روشنی دوبارہ آئی، لاش غائب ہو چکی تھی۔
یہ نوجوان گودام سے تیز قدموں سے باہر نکلے اور گاؤں واپس آئے۔ اگلے دن، گاؤں کے بزرگوں سے بات کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ گودام ایک بار ایک غمگین واقعے کا حصہ رہا تھا۔ ایک کاروباری خاندان کی بیٹی کو یہاں جلا دیا گیا تھا، اور تب سے یہ گودام پراسرار طور پر تباہ ہو چکا تھا۔
یہ سوال آج تک باقی ہے، کہ جلی ہوئی لاش کس کی تھی؟ اور وہ نام کتاب میں کیوں درج تھے؟ یہ راز ہمیشہ کے لیے حل نہ ہو سکا۔
جلی ہوئی لاش کس کی تھی؟