190

حکایتِ آئینے کی قید

تحریر شئیر کریں

جنگل کے بیچوں بیچ ایک چمکتا ہوا اسٹیج تھا، جہاں روز نئی روشنی، نیا شور، نیا چہرہ، اور نیا کردار آتا۔ وہ جو سب سے روشن تھی، سب سے خوبصورت، سب سے مقبول — اس کا نام تھا شیفا۔

شیفا دراصل ایک نرم دل ہرنی تھی، جو چھوٹی سی بستی سے آئی تھی۔ خواب لے کر، امنگیں لے کر، کہ وہ سب کے دلوں پر راج کرے گی۔ اور کیسا راج کیا! جنگل کے ہر پرندے، ہر درندے نے اس کے رقص، اس کے انداز، اور اس کی مسکراہٹ پر فدا ہو کر تالیاں بجائیں۔

مگر اس روشنی کے پیچھے ایک اندھیرا بھی تھا۔

ہر دن اسے بتایا جاتا:

> “تمہاری آنکھوں کے نیچے حلقے آ رہے ہیں، کچھ کرو۔”
“تمہاری جلد ڈھیلی ہو رہی ہے، فِلر لگاؤ۔”
“تمہارا وزن بڑھ رہا ہے، نئی اداکارائیں آ رہی ہیں!”

شیفا اب “شیفا” نہیں رہی تھی — وہ ایک پروجیکٹ بن چکی تھی، جسے “پرفیکٹ” دکھنا تھا، چاہے اس کے اندر کچھ بھی ٹوٹتا رہے۔

وہ مسکراتی تھی، سوشل میڈیا پر لائکس لیتی تھی، مگر رات کے وقت تنہا آئینے کے سامنے کہتی تھی:

> “میں کہاں ہوں؟ میرا اصل چہرہ کہاں گیا؟”

ایک دن، خاموشی سے خبر پھیلی:
“شیفالی شرما — موت کا شکار بن گئیں۔”

کسی نے لکھا: “ڈپریشن!”
کسی نے کہا: “ادویات کا زیادہ استعمال!”
کسی نے صرف افسوس کیا اور اگلے دن نئی اداکارہ پر نظریں جما لیں۔

لیکن ایک بوڑھی چڑیا، جو برسوں سے شیفا کو دور سے دیکھتی آئی تھی، جنگل کے بچوں سے بولی:

> “وہ مر گئی؟ نہیں… وہ تو بس مصنوعی دنیا کے دباؤ سے آزاد ہوئی۔”

—

نصیحت:
شیفالی جیسی اداکارائیں نہ صرف اپنا چہرہ، بلکہ اپنی پہچان، اپنی نیند، اپنا سکون قربان کر دیتی ہیں — صرف اس دنیا کی چمک میں زندہ رہنے کے لیے۔
ان کا بوجھ ہم نہیں سمجھ سکتے۔
مگر ان کے زخم سے سیکھ سکتے ہیں۔

خوبصورتی وہی ہے، جو سکون دے، جو فطری ہو، اور جو نقش چھوڑے، پردے نہیں۔

#شیفالی_شرما
#حقیقی_خوبصورتی
#قلیلہ_و_دمنہ_جدید_حکایات
#روبینہ_شاہین
#خود_سے_محبت
#صنعتی_دباؤ_کی_قید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں