188

حکایتِ بھیڑیا، شغال، گدھ، عقاب اور فاختہ

تحریر شئیر کریں

حکایتِ بھیڑیا، شغال، گدھ، عقاب اور فاختہ
(قلیلہ و دمنہ — جدید حکایات سے انتخاب)
تحریر: روبینہ شاہین

کہتے ہیں کہ ایک وسیع جنگل میں کئی اقوام کے جانور بستے تھے۔ مشرق میں عقابوں کا قبیلہ ایران نگر تھا، جو اپنی غیرت اور خودداری کے لیے مشہور تھا۔ جنوب میں مظلوم فاختاؤں کا فلسطین نگر بسا تھا، جن کے گھونسلے کئی بار اجڑ چکے تھے۔ شمال میں ایک بھیڑیا ٹرمپ رہتا تھا، جس کے پنجے خون آلود تھے اور جس کی دوستی صحرائی گدھوں کے قبیلے “اسرائیل نگر” سے تھی۔

یہ بھیڑیا طاقت کا دلدادہ تھا۔ اس نے ابراہم معاہدہ کے ذریعے گدھوں کو فلسطین نگر کے آسمان پر حاوی کر دیا۔ مسجد اقصیٰ کے میناروں پر گدھوں کے پر پھڑپھڑانے لگے۔ معصوم فاختاؤں کے گھونسلے برباد کر دیے گئے۔ عقابوں کے گھونسلوں پر بھی نظریں گاڑ دی گئیں۔

اسی جنگل میں پاکستان نگر کا شغال حکومت کرتا تھا — چالاک، مکار اور خوشامدی۔ ان دنوں یہ ہوا چلی کہ پاکستان نگر کے شغال نے بھیڑیے کو اپنے دربار میں دعوت دی۔ دربار میں ایک نایاب لنچ کا اہتمام ہوا۔ شغال کے پہلو میں جنرل عاصم منیر نامی بوڑھا ہاتھی بھی موجود تھا، جو کسی زمانے میں جنگل کی سرحدوں کا محافظ تھا۔

لنچ کے بعد شغال نے نہایت ادب و انکسار سے اعلان کیا کہ جنگل کے سب جانور بھیڑیے ٹرمپ کو “نوبل امن انعام” کے لیے نامزد کرتے ہیں!

یہ خبر پھیلتے ہی فاختاؤں کے قبیلے میں کہرام مچ گیا۔ ان کی سردار فاختہ چٹان پر جا بیٹھی اور چیخ کر بولی:

“کیا یہ وہی بھیڑیا نہیں جو ہمارے بچوں کا قاتل ہے؟
کیا یہ وہی جس کی پشت پناہی سے گدھ ہمارے آشیانوں پر قابض ہیں؟
کیا یہ وہی جس نے عقابوں کے قبیلے پر حملے کے لیے اسلحہ فراہم کیا؟
کیا یہ وہی جس کے پنجوں سے مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال ہوا؟
اور آج شغال اس خون آشام بھیڑیے کو ‘امن کا پیامبر’ قرار دیتا ہے؟”

عقاب نگر کے سردار بھی غصے سے پر پھیلائے بولے:

“شغال کی یہ چال جنگل کے عزت دار جانوروں کے لیے شرمناک ہے!
جو باز کل تک مودی نامی لومڑی کی پشت پناہی کرتا تھا،
جو کشمیر نگر میں کبھی ثالثی کے ایک بول تک نہ بولا،
آج اس کے گیت گائے جا رہے ہیں؟”

گدھ مگر خوشی سے آسمان میں منڈلانے لگے۔
شغال مگر ریت میں نظریں چُرا کر بولا:

“یہ سب مصلحت کا تقاضا ہے۔ دنیا بدل گئی ہے۔ اب حق و باطل نہیں، فائدہ دیکھا جاتا ہے۔”

فاختہ نے آنکھیں نم کرتے ہوئے کہا:

“ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں!
ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
یہ جو غلامی اور خوشامد میں حد سے گزر جانا ہے — ہم اس کے گواہ ہیں!”

یوں فاختہ کی آواز جنگل کے طول و عرض میں گونجتی رہی —
شرمناک۔۔۔ افسوسناک۔۔۔ شرمناک۔۔۔

—حکایتِ بھیڑیا، شغال، گدھ، عقاب اور فاختہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں