211

حکایتِ تہران کا عقاب اور تل ابیب کا گدھ

تحریر شئیر کریں

(قلیلہ و دمنہ — جدید حکایات سے انتخاب)
تحریر: روبینہ شاہین

۔…

کہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسیع آسمانوں میں ایک بلند چوٹی پر تہران نامی شہر میں ایک دانا، بیدار اور مضبوط پرندہ رہتا تھا جس کا نام عقاب تھا۔
وہ عقاب صرف تیز نظر اور بلند پرواز ہی نہ رکھتا تھا، بلکہ اس کے پر علم سے بُنے گئے تھے اور پنجے حکمت سے لبریز۔
دوسری جانب، سمندر کے کنارے، تل ابیب کی سرزمین پر ایک پرندہ گدھ بستہ تھا۔ وہ نہایت چالاک، موقع پرست اور درپردہ وار کرنے والا پرندہ تھا۔ اس گدھ کو اپنے حلیفوں کی چھتریوں تلے پلنے کی عادت تھی، اور وہ ہمیشہ کمزوروں کی لاشوں پر منڈلاتا تھا۔
ہوا نے خبر دی:
“اے تہران کے عقاب! تل ابیب کا پرندہ گدھ رات کے اندھیرے میں تیر برسانے کی تیاری میں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ نطنز، اصفہان یا قم کے گھونسلے لرز جائیں۔”
تہران کے عقاب نے جواب دیا
“ہم نے اپنے آسمان پر ہر پر کو پہچاننا سیکھ لیا ہے۔ جو بھی پرندہ اندھیرے میں چھپ کر آئے گا، ہم اسے ہوا میں ہی خاک کر دیں گے۔”
اور پھر، رات کو…
تل ابیب کے گدھ نے آسمان میں کالی پرچھائیاں روانہ کیں ۔۔۔
ڈرونز، کروز میزائل، اور آواز سے تیز حملے۔۔۔ جن کا ہدف ایران کی زمین پر لرزہ طاری کرنا تھا۔
لیکن تہران کے عقاب نے اپنے پر پھیلائے، اور بلند فضاؤں میں ایک نعرہ بلند کیا:
عقاب کی دعا:
“اے پروردگارِ زمین و فضا! میرے پر سلامت رکھ، کہ میں اپنے گھونسلے کی حفاظت کر سکوں۔”
اور پھر…
پہلا میزائل فضا میں ہی پاش پاش ہو گیا
دوسرا گمراہ ہو کر البرز پہاڑوں میں گر پڑا
باقی میزائل باور 373 اور خرداد 15 جیسے نگہبانوں نے تباہ کر دیے
اگلی صبح کی خبریں:
“ایران نے اسرائیل کا حملہ ناکام بنا دیا۔”
“تہران کا دفاعی نظام پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔”
—
ادھر تل ابیب میں…
گدھ (تل ابیب):
“میں نے سوچا تھا تہران سو رہا ہوگا… مگر یہ تو جاگتے میں خواب دیکھنے والے نکلے!”
ایک چھپکلی مشیر:
“اے سردار، اگلی بار اُن کے ریڈار میں خلل ڈالو، یا امریکہ سے کہیں وہ کچھ شور مچائے تاکہ تہران کی توجہ بٹے۔”
گدھ
“شاید اب جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں، پروپیگنڈے سے بھی لڑی جاتی ہیں۔
—
“ہم حملہ نہیں کرتے، لیکن حملہ روکنا ہمارا فرض ہے۔ جو پرندے دشمن کی سانس کو آسمان میں ہی سونگھ لیں، زمین ان کی پناہ میں محفوظ رہتی ہے۔”پرندے اگر چوکس ہوں تو گدھ فضا میں منڈلا تو سکتے ہیں، مگر حملہ نہیں کر سکتے۔عقل، دفاع، اور بیداری یہی قوموں کے اصل پر ہیں۔”

حکایتِ تہران کا عقاب اور تل ابیب کا گدھ

یہ بھی پڑھیے

حکایتِ تعزیتِ خاموشاں

حکایتِ بوجھل پرواز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں