کہتے ہیں ایک جنگل تھا، خوبصورت، سرسبز، مگر… خاموش۔
وہاں ایک ہرن رہتا تھا جس کا نام نقی تھا۔ نقی اپنی چستی، بھاگنے کی طاقت، اور دل کی تیزی کے لیے جانا جاتا تھا۔
اس کا دل مضبوط تھا۔ اتنا کہ وہ روز دوڑ کر پہاڑ چڑھتا اور چشمے سے پانی لا کر کمزور جانوروں میں بانٹتا۔
پھر ایک دن، جنگل میں ایک نئی ہوا چلی — وبا کی ہوا۔
پہلے پہل تو صرف ہاتھی، بندر اور پرندے خوفزدہ ہوئے۔
پھر سب کو ایک نئی دوا دی گئی، دل کی حفاظت کے لیے۔
نقی نے وہ دوا نہ لی۔
کہا:
> “میرا دل تو فطری ہے، قدرتی ہے۔ میں دوڑتا ہوں، کھاتا پیتا ہوں، دعا بھی کرتا ہوں۔ مجھے کیا ہوگا؟”
لیکن کچھ بدلا…
دوکانیں ہر طرف کھلنے لگیں:
🍟 “فاسٹ فوڈ فارسٹ”
🍔 “ڈرنکس آف ڈیزائر”
📱 “سکرین اینڈ اسکرول کی غار”
نقی کا دن اب دعا یا دوڑ میں نہیں، سکرین پر اسکرول اور نیند میں بوجھ میں گزرنے لگا۔
پھر، ایک دن نقی کو دل کی تکلیف ہوئی۔
اس نے خود سے پوچھا:
> “نہ میں نے دوا لی، نہ زہر کھایا… پھر میرا دل کمزور کیسے ہوا؟”
تب ایک بوڑھا الو آیا، جس کا نام حکمت تھا۔
اس نے نقی سے کہا:
> “اے ہرن، تم نے دوائی سے نہیں، دھڑکن سے رشتہ توڑا ہے۔
تم نے بھاگنا چھوڑا، ہنسنا چھوڑا، دل سے جینا چھوڑا۔
تم اب خود سے ناراض ہو، اور دل تم سے خفا۔”
نقی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے کہا:
> “تو کیا میں دوبارہ بھاگ سکتا ہوں؟”
حکمت نے کہا:
> “ہاں، اگر تم دوبارہ دل سے جی لو۔
ہر دھڑکن میں شکر، ہر سانس میں سچ، ہر دن میں سادگی رکھ لو۔”
—
📌 حاصلِ حکایت:
2020 کے بعد لوگوں کے دل صرف ویکسین یا برگر سے نہیں، زندگی سے کٹنے، امید سے دور ہونے اور مسلسل تناؤ میں رہنے سے کمزور ہوئے ہیں۔
دل کی سب سے بڑی خوراک محبت، حرکت، عبادت اور مسکراہٹ ہے۔
جب ہم یہ چھوڑ دیں تو دوا بھی بےاثر ہو جاتی ہے۔