زمانہ قدیم کے ایک وسیع و عریض جنگل میں انواع و اقسام کے جانور بستے تھے۔ ان پر حکومت کرتا تھا ایک سفید پر والا زبردست عقاب، جو اپنے اونچے محل میں بیٹھ کر اعلان کرتا کہ یہاں “عوام کی مرضی” سے فیصلے ہوتے ہیں۔
کانچ کا وہ محل سمندر پار بسا تھا، جہاں دن رات شیشہ گروں کے دستے اس محل کو نئی نئی چمک دیتے رہتے تھے تاکہ عام جانور سمجھیں کہ ان پر حکومت “شفاف اور منصف” ہے۔
مگر اس محل کی راہداریوں میں باز نیتن کاہو کا پیغام جب بھی آتا، عقاب کے “سینیٹ” کے بندر اور طوطے فوراً ایک نیا قانون بنا دیتے — بغیر اس بات کی پروا کہ جنگل کے شیر، ہرن، بکریاں یا پرندے اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
ایک دن چالاک لومڑی نے عقاب کو مخاطب کر کے کہا:
“اے عقاب! تو دن رات دعویٰ کرتا ہے کہ اس جنگل میں عوام کی حکومت ہے، مگر بتا، اس نئی جنگ کا مطالبہ کس نے کیا؟ جنگل کے پرندے، درندے، یا چرندے؟ یا باز نیتن کاہو کے خفیہ اشاروں پر تیرے بندر ہی یہ طبلِ جنگ بجاتے ہیں؟”
عقاب نے ناگواری سے کہا:
“اے لومڑی! وقت کے تقاضے یہی ہیں۔ دشمن قریب آ رہا ہے، اور ہمیں پہلے وار کرنا ہے۔ میرے بازوؤں کے نیچے جو قانون ساز بندر بیٹھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ جنگ ضروری ہے۔”
لومڑی نے ہنستے ہوئے کہا:
“جنگ کی کہانی تو برسوں سے سن رہے ہیں۔ یوکرائن کے کبوتر بھی نہ چاہتے تھے کہ روسی ریچھ سے بھڑیں، مگر ان کے شہزادے زیلی سنکی اور سامراجی طوطے صبح شام یہی راگ الاپتے ہیں کہ ‘جنگ ہی امن کی ضمانت ہے’۔ ادھر ایران کے ریچھ کے بارے میں تو بیس برس سے سنتے آئے ہیں کہ ‘ابھی ابھی ایٹمی ڈنک نکلنے کو ہے’۔ مگر اصل مسئلہ تو کچھ اور ہے: ایران کی زمین کے نیچے چھپے خزانے، تیل، گیس، سونا، چاندی اور انمول معدنیات۔ اور اس کا سب سے بڑا جرم یہ کہ وہ سامراجی عقابوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کرتا ہے۔”
یہ گفتگو سن کر ایک شیر، جو قریب بیٹھا تھا، بھی بول پڑا:
“عقاب بھائی! اس بار تو ایران کا ریچھ عجب چالاکی سے میدان میں آیا۔ پہلے حملے کو سہہ کر اس نے ایسی چال چلی کہ جنگ کا دائرہ عارضی طور پر رک گیا۔ عرب کے تاجر اونٹ، جو اپنی سنہری دولت کے نخرے میں مست تھے، اب لرزاں ہیں کہ اگر یہ آگ بھڑک اٹھی تو ان کی راہوں پر بھی خزانے کے در بند ہو جائیں گے۔”
ریچھ نے گرج دار آواز میں کہا:
“یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ محض ایک وقفہ ہے۔ سامراجی عقاب پھر نئے پر تول رہا ہے، اور جب لوٹے گا تو اپنے طوطوں، بندروں اور زرخرید ریچھوں کے لشکر کے ساتھ۔ ادھر عرب کے تاجر پھر اپنی محفلوں میں مست ہو جائیں گے، غافل کہ طوفان پھر آ سکتا ہے۔”
لومڑی نے افسردہ نگاہوں سے سرزمین قدس کی طرف دیکھا اور کہا:
“وہاں انسانیت سسک رہی ہے۔ ہر صبح وہاں بچوں کی چیخیں، ماؤں کی آہیں اور اجڑے آشیانوں کی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ اور کسی طرف سے امید کا کوئی در نہیں کھلتا۔ جنگل کے بادشاہ ہوں یا بیرونی عقاب، سب نے آنکھیں موند لی ہیں۔”
عقاب اب خاموش تھا۔ اس کے پر بھی بوجھل تھے۔
لومڑی بولی:
“ابھی انسانیت کے امتحان باقی ہیں۔ جب تک یہ کانچ کے محل چمکتے رہیں گے، جب تک طوطے جھوٹ بولتے رہیں گے، جب تک طمع کے شکنجے میں دنیا جکڑی رہے گی — یہ جنگیں ختم نہ ہوں گی۔”
اور جنگل کے سب باشعور جانور جان گئے کہ اصل امن ان کے اپنے بیدار ضمیر سے ہی آئے گا، نہ کہ عقاب کے قانون ساز محلوں سے۔
حکایتِ “عقاب، لومڑی اور کانچ کے محل”