حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے جوانی رہےتیری بے داغ
زعیمہ روشن
٫٫علامہ اقبال کا یہ شعر صرف ایک شاعری کی صنف میں نہیں آتا بلکہ انکا یہ شعر آیک دعا ہے نوجوان کے لیے انکا یہ شعر اس فکر کی عکاسی کرتا ہے کے انکی سوچ کتنی دور تک تھی اپنے لوگوں کے لیے ۔۔۔۔
انسان کو دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنے کے لیے جن باتوں کی پیروی کرنا ضروری ہے ان میں سے ایک حیا بھی ہے۔۔ قرآن پاک میں صورت الانعام (آیت نمبر 151) میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ باری تعالیٰ ہے ٫٫اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاو،خواہ وہ چھپی ہوئی ہوں یا ظاہر ،،
تو اس لیے اپنی تنہائیاں پاک رکھیں ،اور حیا کا دامن تھامے رکھے کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے احادیث مبارکہ میں آتا ہے کے
،کے جب تم حیا نہ کرو تو جوچاہو کرو،(مسلم)
ویسے تو حیا کرنا تمام مسلمان مرد عورت کے لیے بہت ضروری ہے
لیکن عورت کا تعلق حیا سےزیادہ ہے ،ایک مسلمان گھرانے کی عورت جب باپردہ ہو کے پوری عزت کے ساتھ گھر سے نکلتی ہے تو وہ شرم و حیاء والی پاک دامن عورت کہلاتی ہے اور کامیابی اور عزت اسکا مقدر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ورنہ زمانے میں رسوائی ہی ملتی ہے کیونکہ یہ دنیا ایسی ہے کے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑ تی تو دنیا کو موقع مت دیں کے وہ آپکی جوانی کو داغدار کریں ۔اپنے خدا کو راضی کریں’کیونکہ دنیا صرف وہ دیکھتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہے اس بے فیض زمانے کے پیچھے بھاگنا بند کر دیں جتنا آپ دنیا کو اپنے اوپر ہیوی کریں’گیں اتنا ہی اپکو یہ دنیا تھکاے گی ۔۔۔قران وسنت کے مطابق زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کے تمام امت مسلمہ کو حضرت عثمان غنی کی طرح شرم و حیا والا بنائے اور دین کو سہی معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین