470

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

خزانے کی تلاش کی پانچویں قسط ملاحظ کیجیے۔
کہانی پڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشِین کر لیں کہ اس کہانی کا تعلّق کِسی خاص مُلک یا عِلاقے سے نہیں ۔ اِس میں لِکھے گٸے سبھی کِرداروں کے ناموں کے ساتھ مقامات کے نام بھی فرضی ہیں ۔ کِسی قِسم کی مُشابہت کا ہونا محض اتّفاق ہو گا ۔

قسط 5

برنیٹ تشویش سے اُسے دیکھ رہا تھا ۔
”تُم کون ہو ؟؟ “آخر زابیل نے پُوچھا
”تُمہارا دشمن “
اِس کے بعد کال کاٹ دی گٸی ۔
”کیا ہوا ہے؟؟ “برنیٹ نے پُوچھا ۔
”اندر چلو“زابِیل بولا
ایک ویران گوشے میں پہنچ کر اُس نے بتانا شروع کیا ۔۔
”وہ جو کوٸی بھی ہے ، کہتا ہے ہم خزانہ اُس کے حوالے کر دیں ، ورنہ وہ ہمیں ختم کر دے گا ۔“
”عجِیب بات ہے!“ برنیٹ بولا ۔
”یہ اچانک سے اِن نُسخوں میں خزانہ کہاں سے آ گیا ؟؟“
”کُچھ ہو گا ہی تو وہ نوجوان بھی اِس کا ذکر کر گیا اور اب یہ فون بھی ۔“
”لیکن کِس شکل میں ہو گا ؟“
”شاید سونے کی پتریاں یا ہِیرے کی “
”تو ہم دیکھ لیتے ہیں!“
”دیکھنے سے ہی تو روکا اس نے ۔ ورنہ وہ ہمیں ختم کر دے گا ۔“
”اوہ!!!“
”اب کیا کِیا جاٸے ؟؟“
”کُچھ سوچتے ہیں“


وہ دونوں باہر کی طرف دوڑے تھے مگر تب تک وہ لوگ جا چکے تھے ۔ پھولتی سانسوں کے ساتھ وہ گیٹ پہ پہنچے اور زابیل نے ایک مُحافظ کا گریبان جکڑ لیا ”ابھی اندر کِس کو بھیجا تھا ؟؟“
”سر! دو نوجوان تھے ، ہمیں تو عِیساٸی محسوس ہوٸے تھے ، کہتے تھے ، یہ بلڈنگ دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ لہٰذہ ہم نے اُنہیں اندر بھیج دیا ۔ اب تو وہ واپس بھی جا چکے ہیں ۔ “
دوسرے محافظ نے اعتماد سے بتایا ۔
اِتنا سُنتے ہی اُن دونوں نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی تھی مگر اِتنا تک ان کے ذہنوں میں نہ آ سکا کہ ان کو ڈھونڈنے سے پہلے ان کے حلیے تو جان ہی لیتے!!
کافی آگے جا کر اُن کو اِس بات کا خیال آیا تو سر تھام کر وہ دونوں واپس لوٹے تھے اور محافظوں کو تنبیہ کی تھی کہ اب وہ لوگ آٸیں تو فورًا ان کو حراست میں لینا ہے ۔ اور پھر ہمیں اطلاع دینی ہے
”سر! خیریت ؟؟“ ایک گارڈ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔
”وہ لوگ کچھ خطرناک محسوس ہوٸے ہیں “ زابیل کے لالچی ذہن نے اس سے زیادہ بتانا مناسب نہ جانا ۔ اسے ڈر تھا ، اس نے بتا دیا کہ ان نوجوانوں نے کسی خزانے اور چشمے کا ذکر کیا تھا تو پہریدار بھی اس خزانے کے پیچھے لگ جاٸیں گے ۔۔ بلکہ وہ اس پر بھی کفِ افسوس مل رہا تھا کہ برنیٹ کو بھی خزانے والی بات کی خبر ہو چکی تھی ۔ زابیل کا ذہن اس وقت کٸی منصُوبے بنا رہا تھا


وہ ایک نقاب پوش تھا
جو تیز تیز چلتا عمارت کی پچھلی جانب پہنچا تھا ۔۔۔ پاٸپ پہ قدم رکھتے ہوٸے اسے کٸی خدشوں نے ڈسا تھا مگر وہ ہمت کر کے قدم اوپر کی جانب رکھنے لگا تھا ۔۔
چھت پہ کامیابی سے پہنچنے کے بعد اس نے کچھ دیر سانس درُست کی ۔ پھر سیڑھی سے نیچے اترا اور ہال کی جانب بڑھا
ایک دم اُسے حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔ ہال کے دروازے کی نِچلی چھوٹی سی خالی جگہ سے روشنی دکھاٸی دے رہی تھی ۔۔ وہ کُچھ پریشان سا ہو گیا ۔ کوشِش اکارت جاتی نظر آٸی ۔ پھر اُس نے دروازے پہ ہاتھ رکھ کے ہلکا سا دبایا ۔ وہ اندر سے بند تھا ۔
اچانک اُسے ایک ترکیب سوجھی ۔ اس نے اوڑھی ہوٸی چادر کے اندر ہاتھ ڈالا اور جب باہر نِکالا تو اُس میں ایک پسٹل چمک رہا تھا
کسی نٸے اِرادے کی لو سے اُس کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔ اُن میں خون اتر آیا ۔ وہ اپنے ارادے پہ قابُو نہ رکھ پایا اور اندر والے کی حرکت پہ غصے سے کھولنے لگا ۔ اُسے اُس کو ٹھکانے لگانا تھا ۔ اُس کا خُون جوش مار رہا تھا


وہ ایک سیاہ ہیولہ تھا ، جِس کے پیچھے دو اور سیاہ ہیولے کورس میں چل رہے تھے ۔ نِیم شب کی اِس تاریکی میں کوٸی نہیں جانتا تھا ان ہیولوں کا اس وقت یہاں آنے کا مقصد کیا ہے ؟؟؟
تِینوں ہیولے چلتے چلتے اس عمارت کے قریب پہنچ گٸے ۔۔۔ ”ڈیڈ! آخر گیٹ سے اندر جانے میں حرج ہی کیا ہے!!!“
”تُم ابھی بچے ہو میرے بچو!“ یہ زابیل تھا ۔ ”میں پہریداروں سے بھی اس خزانے کا ذِکر نہیں کرنا چاہتا ۔۔ “
تِینوں پچھلی جانب پہنچ کر پاٸپ کے قریب گٸے اور پھر احتیاط سے قدم اُوپر کی جانب بڑھا دیے ۔
پوری احتیاط سے قدم رکھتے ہُوٸے تِینوں یَکّے بعد دیگرے چھت پہ پہنچے اور پھر سیڑھیوں کے راستے صحن میں اُتر گٸے ۔
دبے پاٶں چلتے وہ ہال تک پہنچے اور تالا کھول کر اندر داخل ہو گٸے ۔
کمرے کی اندر سے کُنڈی لگا کر تینوں نے قُرآن کے نُسخے کھول کھول کر دیکھنا شروع کر دیے ۔
اچانک کِسی کے قدموں کی چاپ سناٸی دی ۔ اُن کے کان کھڑے ہو گٸے ۔۔۔ زابیل تیزی سے دروازے تک پہنچا ۔
اور جھری سے باہر دیکھا ۔
وہ ایک نقاب پوش تھا ۔
اور اُس کے ہاتھ میں ایک پسٹل تھا ۔
”کون ہے؟ “کمیل نے سرگوشی میں پوچھا ۔
ایک نقاب پوش ۔ اور اس کے ہاتھ میں ایک پسٹل ہے “ زابیل نے بھی سرگوشی میں جواب دیا ۔
”اوہ!!“
اگلے ہی لمحے نقاب پوش نے دروازے پہ دستک دی تھی ۔۔
”کون ہو تُم ؟“ زابیل نے اپنی پُوری ہمّت مجتمع کر کے پوچھا ۔
”تُمہاری موت “ باہر سے کہا گیا ۔
”تو واپس چلی جاٶ ۔“ زابِیل اب تک سنبھل چکا تھا ۔
”کیوں جاٶُں! خزانے کا مُنہ تُمہارے لیے کھلا چھوڑ دُوں!!“
”خیر! دروازہ تو ہم نہیں کھولیں گے ۔“
” تُم میری طاقت سے واقِف نہیں ہو ۔۔ میں تین تک گِنتی گنوں گا ۔ اگر تُم نے دروازہ نہ کھولا تو میں ایک ہی لات رسید کر کے اِسے توڑ دوں گا اور تُم تینوں پہ فاٸر کھول دوں گا ۔ میرے ہاتھ میں ایک پسٹل ہے اور یہ بے آواز ہے ۔“
”بہت اچھا! اب تم بھی ہو جاو گے ۔“
”کیا ؟“
”بے آواز “ زابیل نے بظاہر اطمینان سے کہا ۔
”ہونہہ گیدڑ کی بھبکی ۔میں گنتی گن رہا ہوں ۔“
زابیل بظاہر پر اعتماد بن رہا تھا ، لیکن اندر سے کانپ رہا تھا ۔ حالت ان دونوں کی بھی مُختلف نہ تھی ۔
ادھر نقاب پوش بولا!
ایک
دو
خوف کے مارے اُن تینوں کو اپنی سانسیں رُکتی محسُوس ہُوٸیں ۔

(خزانے کی تلاش جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں