432

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

خزانے کی تلاش کی چھٹی قسط ملاحظہ کیجے۔

قسط 6

حَسن کی بات تھی ہی ایسی کہ سعید اچھلتا نہ تو اور کیا کرتا!!
”مگر خدشہ ہے کہ یہ پلان طوالت اختیار کر جاٸے گا جبکہ ہمارے پاس وقت کم ہے ۔“ سعید نے کہا
”ہاں وقت کم ہے مگر ہم سب اگر مِل جاٸیں تو بہت کُچھ ہو سکتا ہے ۔“ حسن نے کہا
”اب پانچ سو افراد اکٹھے ہوٸے تو مشکُوک ہو جاٸیں گے ہم دس دس ساتھیوں کی میٹنگ رکھتے ہیں اور ابھی سے کام شُروع ۔ “سعید کی آنکھوں میں روشنی بھر گٸی ۔۔۔
اِس سے بے خبر کہ ان سے کُچھ فاصلے پہ ایک چہرہ تاریک پڑ گیا تھا
”ایک بات یاد رکھنا کہ یہ زندگی اور موت کا کھیل ہے ۔“ حسن بولا
”زندگی اور موت ؟؟؟ “تاریک چہرے والے نے سوچا ۔۔ ”کیا یہ اِتنے بہادر ہیں!!“
پھر اس نے بے بسی سے سر داٸیں باٸیں گھمایا ۔ اس کے چہرے پہ کشمکش کا جال بَن گیا ۔ وہ اُن کی ساری گفتگو سن چکا تھا ۔۔۔ اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ کب وہ دونوں وہاں سے رخصت ہو گٸے !!
وہ تیزی سے وہاں سے نکلا اور ایک ٹیکسی پکڑ کے اپنے گھر کو روانہ ہوا ۔ اُس کا بھی وقت کم تھا اور مقابلہ سخت!


اُسی دم ایک آٸیڈیا زابیل کے ذہن پہ بجلی کی طرح کوندا ۔ اُس نے ان دونوں کو دیکھتے ہوٸے ایک طرف اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے ہاتھ اوپر کر کے دروازے کے قریب لگے سوٸچ بورڈ سے ٹچ کیا ۔
”تین “
ایک دم ہو جانے والے گھپ اندھیرے کی ساٸیں ساٸیں میں سُناٸی دیا اور کنڈی کھلنے کی آواز بھی کھٹاک سے گونجی ۔نقاب پوش فورا دروازہ دھکیل کے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ ایک لمحے کو تو اس کا سر چکرا گیا ۔ دُوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا اور جیب میں ہاتھ ڈالا جو باہر آیا تو اُس میں ایک ننھی ٹارچ تھی ۔ اُس نے انگوٹھے سے اُس کا بٹن دبایا تو مدھم سی روشنی پھیل گٸی ۔ اب وہ وقت ضایع کیے بغیر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھ رہا تھا مگر کہیں کِسی اِنسان کا وجود محسوس نہ ہو رہا تھا ۔ آخر اُس نے بھی اوپر ہاتھ بڑھایا اور ہال جگمگا اٹھا ۔ اُس نے چاروں طرف نظر دوڑاٸی اور دھک سے رہ گیا ۔


وہ دھمکی آمیز فون سننے کے بعد کُچھ دیر تو برنیٹ اور زابیل مشورہ کرتے رہے کہ کیا کِیا جاٸے ، جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو دونوں اپنے اپنے طور پہ سوچنے کا کہہ کر اپنی اپنی راہ ہو لیے
فوری طور پہ قرآن کے نسخوں کو دیکھنا خطرناک تھا لہٰذہ وہ وہاں سے نکل آٸے ۔
برنیٹ وہاں سے سیدھا اپنی کوٹھی پہ پہنچا تھا ۔ حسن اُس کو اپنے بیڈ روم میں ہی مل گیا ۔ آج اس کا ارادہ حسن کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کا تھا ”کیا مصروفیات ہیں آج کل تُمہاری ؟“
اُس نے چھوٹتے ہی پوچھا
”کُچھ خاص نہیں “ حسن نے پورے اعتماد سے جواب دیا تھا ۔
”میری بات پہ کُچھ غور کِیا ؟“
برنیٹ نے اُس کی آنکھوں میں جھانکا ۔
”یس سر!“ حسن ہلکے سے مُسکرا دیا ۔
”کیا غور کِیا!“
حَسَن کو اِس سوال کی توقّع نہ تھی ۔ اُس کی سمجھ میں نہ آ سکا کہ یہ سوال ہے یا طنز ؟ دل ہی دل میں وہ یہ سوچ کے لرز گیا کہ کہِیں برنیٹ کو اُس کی خُفیہ سرگرمیوں کی خبر ہو تو نہیں چکی ؟لیکن پھر اسے اپنی نِیم شب کی آہیں یاد آٸِیں تو وہ یہ یقِین کیے بغیر نہ رہ سکا کہ اللہ اُس کا اور اُس کے ساتھیوں کا ضرور ساتھ دے گا ۔
”یہی ناں! 20 ستمبر کو قرآن جلانے کی تاریخ طَے ہو چکی ہے اور مُجھے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔“ اُس نے الفاظ بہت سوچ سمجھ کر ادا کیے تھے۔
”ویری گڈ!!“ برنیٹ کی خُوشی کی انتہا نہ رہی ۔ ”دیکھو! اگر تُم میرا پورا ساتھ دو گے تو میں تُمہیں ترقّی دلوا دوں گا ۔“
”سر! میں تو کام کرنے کے لیے ذہنی طور پہ مکمّل تیّار ہوں ۔“ حَسَن نے مُسکراتے ہوٸے ایک اور سچ بولا ۔
”تُم جیسے مُخلص نوجوانوں کی ہی ہمیں ضرورت ہے ۔“ برنیٹ نے اس کی کمر تھپکی ”ورنہ چند نام نہاد مُسلمانوں نے خواہ مخواہ ہی سب مسلمز کو بدنام کر رکھا ہے ۔ نجانے کیُوں؟؟“
برنیٹ ذہنی طور پہ شاید ایک بار پھر اُلجھ گیا تھا
”سر! آپ زیادہ سوچا نہ کریں ۔“ حَسَن نے دوستانہ انداز میں کہا ۔
”ہاں!“ برنیٹ نے نجانے کیُوں ایک آہ بھری ”ویسے میں نے ایک عجیب بات سُنی ہے “
”عجیب بات ؟؟؟“ حَسَن چونک گیا ۔

خزانے کی تلاش جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں