477

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

خزانے کی تلاش کی دسویں قسط ملاجظ کیجیے۔

قسط 10

قُرآن جلانے کی تاریخ مٶخّر کیا ہوٸی ، حَسَن اور اُس کے ساتھیوں میں خُوشی کی لہر دوڑ گٸی ۔ انہیں اپنا منصُوبہ پایہِ تکمیل کو پہنچتا دکھاٸی دینے لگا ۔ ان سب نے اپنی کوششیں تیز کر دیں ۔
سن شاٸن کے متعلّقہ ہال کی چابی تو وہ حاصِل کر ہی چکے تھے ، اب اگلا مرحلہ بریف کیسوں کی خریداری کا تھا ۔
اُنہیں 1500 فُل ساٸز کے بریف کیس خریدنا تھے ، جو کوٸی آسان کام اگرچہ نہ تھا ۔۔۔ مگر خریدنے والے بھی آخر پانچ سو افراد تھے ۔ لہٰذہ جلد ہی یہ مرحلہ طے پا گیا ۔
اگلا مرحلہ گاڑیوں کی خرید کا تھا ۔ اِس کے لیے اُن سب نے کٸی دن سے کوشش شروع کر رکھی تھی ۔ آخر یہ کام مکمل ہوا ۔
اِس سے اگلا کام اس معاملے کی اہم ترین کڑی بلکہ مُہر تھی اور بہت ہی مُشکل کام تھا ۔ اِس کے لیے اُن کو 21 سِتمبر کی رات کا اِنتظار کرنا تھا ۔ 20 ستمبر کو ان سب انجینٸرز کو فارغ کر دیا گیا ۔ اور وہ رات ہونے کا اِنتظار کرنے لگے ۔


20 اور 21 ستمبر کی درمیانی رات دو بجے پچاس گاڑیاں سن شاٸن کے قریب آ کر رکیں ۔ محافظ گہری نیند سو رہے تھے ۔ مگر وہ پانچ سو افراد جُونہی ان کے قریب پہنچے ، اُن کی آنکھ کھل گٸی ۔ بلکہ آنکھیں ہی کھل گٸیں ۔ سامنے اِتنے زیادہ لوگوں کو دیکھ کر ان کے دماغ بھک سے اڑ گٸے ۔ پہلے تو وہ گھبراٸے ، پھر جلد ہی سنبھل گٸے ۔
”تم لوگ کون ہو اور کِدھر چلے آ رہے ہو ؟ کوٸی آگے نہ بڑھے ۔“ ایک پہریدار گرجا ۔
مگر وہ لوگ تیزی سے قریب آ گٸے اور لگے ان محافظوں کے سروں پہ راٸفلوں کے دستوں سے وار کرنے ۔
”کوٸی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے ، ورنہ میں گولی چلا دوں گا ۔“ اچانک ایک محافظ چلایا ۔ اس نے اُن کی طرف راٸفل تان لی تھی ۔
”بیٹا تمہارے پاس اگر اسلحہ ہے تو نہتے ہم بھی نہیں ہیں“ حَسَن نے مسکراتے ہوٸے کہا ۔
اچانک ایک زور دار اور گرج دار آواز گُونجی ”خبردار“
محافظوں کے ساتھ ساتھ اُن پانچ سو افراد نے بھی چونک کر اس آواز کی جانب دیکھا اور پھر سب اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گٸے ۔ اُن کے اُوپر کے سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ گٸے ۔ رنگ فق ہو گٸے ۔
خزانے کی تلاش جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں