دمشق کا یہ محلہ، جہاں ہر گلی کے در و دیوار نے مظلوموں کے دکھ اور شہداء کے خون کی کہانیاں سنبھال رکھی ہیں، آج ایک نئے سورج کی روشنی میں نہا رہا ہے۔ دس سال بعد، خدیجہ اپنے شوہر احمد اور دو بچوں کے ساتھ اپنے آبائی گھر واپس آ رہی ہے۔ وہ گھر جہاں خدیجہ کی آنکھیں کھلی تھیں، جہاں اس نے بچپن میں ہنسی اور جوانی میں خواب دیکھے تھے، وہی گھر جسے ایک دن راتوں رات چھوڑنا پڑا تھا، جب ظلم نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
گھر کے قریب پہنچتے ہی خدیجہ کے قدم تھم گئے۔ احمد نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں بچوں نے ماں کی طرف دیکھا، جیسے ان کے چہرے پر لکھی ہوئی تاریخ کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ خدیجہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، **”یہی وہ دروازہ ہے، جہاں سے میں نے آخری بار دیکھا تھا کہ بابا نے ہمیں الوداع کہا تھا۔”**
دروازہ کھلا تو ایک عجیب خاموشی نے ان کا استقبال کیا۔ گھر کی دیواریں پرانی اور زخموں سے بھری ہوئی لگ رہی تھیں، لیکن وہی گھر ان کے دلوں میں روشنی اور امید کا نشان تھا۔ خدیجہ نے کمرے میں قدم رکھا تو یادوں کے جھونکے اسے اپنے ماضی میں لے گئے۔ بچوں کی معصوم ہنسی، ماں کی آواز، اور والد کے قدموں کی گونج، سب کچھ ایک لمحے میں زندہ ہو گیا۔
“یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم کھانے کے وقت بیٹھا کرتے تھے،” خدیجہ نے کہا اور اپنی بیٹی کے بالوں کو سہلاتے ہوئے فرش کو دیکھا۔ احمد نے آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ جواب دیا، **”یہ صرف ایک گھر نہیں، ہماری پہچان ہے۔”**
دمشق کی تاریخ ان کے ذہن میں کسی فلم کی طرح چل رہی تھی۔ وہ دن یاد آ رہے تھے جب شہر پر پہلی بار قبضہ ہوا تھا۔ ہر گلی میں چیخ و پکار، ہر محلے میں ملبے کے ڈھیر، اور ہر دل میں خوف و ہراس تھا۔ مظلوموں کی دعائیں اور شہداء کے خون کی خوشبو ہوا میں رچی بسی تھی۔ اس کے بعد کے سال، جب انہوں نے اپنے وطن سے دور جلاوطنی کی زندگی گزاری، اپنے بچوں کو ایک اجنبی زمین پر پلتے دیکھ کر دل گرفتہ ہوتے رہے۔
لیکن آج کا دن مختلف تھا۔ آج وہ فتح کا دن تھا۔ دمشق نے ظلم کے اندھیروں سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ شہر کی ہر گلی میں آزادی کے نعرے گونج رہے تھے، اور ہر طرف رب کے شکرانے کے سجدے کیے جا رہے تھے۔
خدیجہ نے گھر کے اندر قرآن مجید رکھا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے: **”یا رب، تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں ہمارے گھر اور ہماری سرزمین واپس دی۔ ان قربانیوں کو قبول فرما جو تیرے نام پر دی گئیں۔”
ان لمحوں میں، خدیجہ اور احمد نے محسوس کیا کہ وہ صرف ایک گھر نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ کو اپنے ساتھ جیتے جاگتے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی واپسی دمشق کی فتح کی داستان کا ایک چھوٹا سا حصہ تھی، لیکن ان کے دلوں میں یہ داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔
**فتح دمشق** نہ صرف زمین کی فتح ہے بلکہ دلوں اور روحوں کی آزادی کا دن بھی ہے۔ یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل ہو، رب کا انصاف ہمیشہ غالب آتا ہے۔