311

دنیا امتحان گاہ ہے؟

تحریر شئیر کریں

دنیا امتحان گاہ ہے؟

یہ دنیا آرام گاہ نہیں ، یہ سیر گاہ نہیں ، یہ تماشا گاہ نہیں ، یہ قیام گاہ نہیں ، یہ امتحان گاہ ہے افسوس کہ ہم نے اسے چراگاہ بنا رکھا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ کھا پی کر زندگی گزر جائےگی ، ہر گز نہیں _ _

” اَنْ یُتْرَکُوْا اَنْ یَقُوْلُوْا آمَنَّا وَهُمْ لَا یُفْتَنُونَ “

” کہ اگر وہ کہہ دیں کہ وہ ایمان لے آئے تو ہم انہیں چھوڑ دیں گے ، ہم انکو آزمائیں گے “

” وَلَقَدْ فَتَنَّا اَلّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ “

“ہم نے ان سے پہلے والوں کو بھی آزمایا “

” فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ اَلَّذِینَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الکٰذِبِینَ”
(پ ٢٠ سورہ عنکبوت ، آیت ٢)

” اور تحقیق ہم سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز کر کے رہیں گے ، کھرے کھوٹے کی پہچان کرکے رہیں گے “

دیکھئے ہمیں نیک اعمال کے ساتھ دنیا کی زندگی گزارنی ہے ، تاکہ اپنے پروردگار کو راضی کر لیں “

رب کریم ارشاد فرماتے ہیں _

” اَلَّذِی خَلَقَ المَوتَ وَلحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً “
(پارہ ٢٩ ، سورہ ملک ، آیت ٢ )

” وہ ذات جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا یہ آزمانے کہ لئے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے “
لہٰزا ہمیں دنیا میں اپنی شخصیت کو سنوارنے ہے ، اپنے کردار کو بہتر بنانا ہے ، اپنے اندر اخلاق حمیدہ کو پیدا کرنا ہے ، صحیح معنوں میں انسان بن کر زندگی گزارنی ہے ، اور جب انسان بن کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہوں گے ، تو پھر پروردگار عالم اس کی قدردانی فرمائیں گے ، یہ دنیا تو ہمارے لئے امتحان گاہ کے مانند ہے ، اس لیے حدیث پاک میں فرمایا :

” اَلدُّنْیَا سِجْنُ المُوْمِنِ وَجَنَّةُالکَافِرِ “

” دنیا تو مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنّت “

اس کا ایک ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ دنیا میں مومن کے لئے کچھ شریعت و سنّت کی پابندیاں رکھی ہیں حدود و قیود ہیں ، زندگی گزارنی پڑتی اور کافر کے لئے تو کوئ حد یا قید نہیں ، من مانی زندگی گزارتا ہے مگر شارحین حدیث نے اس کے معنی کچھ اور لکھے ہیں ،

وہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں کتنی ہی لطف اور مزے کی زندگی اس کو کیوں نہ مل جائے جنت کے مقابلے میں پھر بھی اس کو دنیا کی زندگی قید خانہ کی طرح نظر آئےگی ، اور ایک کافر پر دنیا میں کتنی بھی مشقتیں اور مصیبتیں کیوں نہ آئیں ، کتنی ہی تکلیف کیوں نہ آجائیں لیکن جہنم کے مقابلے میں پھر بھی دنیا اس کے لئے جنت کے مانند ہے !!

اس لئے ہم اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ گزارے کے دنیا سے جانے سے پہلے ایسے اعمال کر لیں کے اللّه ہم سے راضی ہو جاۓ اور موت کے کے بعد کی زندگی میں ہمیں کوئی غم پچھتاوا نا ہو

رب کریم ہم سب کو موت سے پہلے اس کی تیاری کی توفیق عطا کرے ۔

دنیا امتحان گاہ ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں