اس بقرہ عید پر بقرے کے ساتھ ساتھ اپنی انا بھی قرنان کر ڈالیے جو ہر بات پہ میں میں کرتی ہے۔
ذوالہج کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔حرمت والے مہینوں کی قدرومنزلت ماقبل اسلام سے چلی آ رہی ہے جسے اسلام میں بھی مقدم رکھا گیا۔اس مہینے کی قدرومنزلت کی بڑی وجہ حج اور قربانی ہے۔اللہ رب العزت کے نزدیک حج کے ابتدائی دس دن بہت اہم ہیں ۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ان دس دنوں کی خصوصی طور قسم کھا کر مسلمانوں کو انکی اہمیت کا خاص دلایا ہے۔
۔۔۔۔
فضیلت
۔۔۔۔۔۔۔
والفجر٠والیبل عشر٠
قسم هے فجر کی اور دس راتوں کی۔
ابن کثیر مشہور مفسر ہیں جو لکھتے ہیں کہ” یہاں پر دس راتوں سے مراد ذوالهجه کے دس دن هیں۔”
۔۔۔۔
ذوالہجہ کے دس دنوں میں کیا کریں؟
۔۔۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کو یہ دس دن ہر چیز سے زیادہ پسند ہیں۔ان دس دنوں اور راتوں کو اللہ کی عبادت سے مزین کریں۔سجود سے قرب حاصل کریں۔نوافل سے مدد لیں۔تکبیرو تہلیل سے اپنی زبان کو ہمہ وقت تر رکھیں۔روزے رکھیں۔صدقہ و خیرات کریں۔اپنے قول وفعل سے کسی کو تکلیف مت پہنچائیں۔
۔۔۔۔۔۔
حج سے محروم لوگ کیا کریں؟
۔۔۔۔۔۔۔م
اس دفعہ کرونا وائرس جیسی وباکی وجہ سے حج بھی روک دیا گیا ہے۔لہذا توبہ استغفار کریں۔اللہ ایسی تمام وباؤں سےاس امت کو محفوظ رکھے۔وہ لوگ جو حج پہ جانے کے متمنی تھے۔سارے انتظامات مکمل تھے مگر پھر بھی رہ گے۔ان کے دل یقینا اس رکاوٹ سے دکھے ہوں گے۔ایسے لوگوں کے لیے حج کے دس دن اور بھی قیمتی ہیں۔اپنے ٹوٹے دلوں سے دعا و استغفار کریں۔اور امید رکھیں کہ اس دفعہ نا سہی اگلے سال وہ۔ضرور اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔
۔۔۔۔۔
جذبہ قربانی
۔۔۔۔۔۔
حج کی خصوصی عبادت قربانی ہے۔جو ہمیں حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔یہ واقعہ ہم میں سے ہر ایک نے سن رکھا ہے کہ کیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی عزیز چیز کو اللہ کے ایک اشارے میں قربان کر دیا اور پھر بدلے میں اللہ رب العزت نے اس عظیم الشان قربانی کا اجر کیسے عطا کیا۔نا صرف بیٹا لوٹایا بلکہ ہر سال اس قربانی کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مقرر فرماکر عزت و توقیر بخشی۔
۔۔۔۔۔
قربانی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔
قربانی کے فلسفے پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ اللہ کو تمہارےاپ گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ اس کے پیچھے چھپی نیت اور اخلاص پینچتا ہے۔قربان ہونےاور قربان کرنے کا جذبہ مقصود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان دیکھیے۔۔آگ میں ڈل کر خود سرخرو ہوۓ پھر اولاد جو سب سے قیمتی متاع اسے قربان کر کے عظمت کی اس معراج کو پہنچے جو قسمت کے دھنی لوگوں کو ملا کرتی ہے۔آپ ﷺ جب معراج پہ گۓ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عرش کی دیوار کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔اور رہی زمین تو تینوں الہامی مذاہب ان کو اپنا راہنما مانتے ہیں۔صرف انہی کو نہیں ان کی آل کو بھی اللہ نے چن لیا اور درودکی صورت میں اللہ خود ان پر درود بھیجتا ہے۔اا سے بڑی عزمت کیا ہوگی۔۔غور کریں یہ قدرومنزلت اور اس مقام کے پیچھے قربانیوں کی کبھی نا ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔جو سکھاتی ہیں کہ اللہ کی راہ میں سب کچھ دینے والے ہی اصل میں امیر ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ اپنی اولاد بھی۔۔۔
کیا اس بقرہ عید پہ ہم نے بھی کچھ قربان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔غصہ انا ناجائز محبت یا پھر کوئی بری عادت جو آپ کے اور اللہ کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا فراغ سینہ اور جذبہ قرنانی ہمارے نصیب میں بھی لکھ دے۔آمین
قرآن کی اس آیت کو ہمیشہ یاد رکھیں۔لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون٠تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اپنی محبوب ترین چیز قرنان نا کردو۔
واللہ اعلم بالصواب