ذہین عورت ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہےجو فطرت سے ضد لگا بیٹھی تھی۔
تحریر:روبینہ شاہین
وہ سارا دن بولاۓ بولاۓ پھرتی تھی جیسے کسی پل چین نا ہو۔بیٹی کی حالت دیکھ کراماں دل ہی دل میں کڑھتی رہتی تھی جانتی تھی بیٹی کا زخم ابھی تازہ ہے۔بھرنے میں وقت لگے گا۔اماں تھی ایک گھاگھڑ اور زمانہ شناس عورت۔۔۔جو وقت کوسب سے بڑا مرہم سمجھتی ہی نہیں کہتی بھی تھیں۔
بسمل اس کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔دو ہی تو بیٹیاں تھیں جو اس کے آنگن کی رونقیں تھیں۔شادی کے دس سال بعد ان کے آنے سے گھر بھر کی رونقیں دوبالا ہو گئیں تھیں۔
نمل کی شادی بی اے کے فورا بعد کر دی گئ جبکہ بسمل اپنے چچا زاد سے منسوب تھی جو جرمنی میں جاب کرتا تھا۔منگنی ہو چکی تھی۔تین سال۔بعد شادی ہونا طے پایا تھا۔شادی تو دونوں خاندانوں کی مرضی سے طے پائی تھی۔مگر بسمل دل ہی دل میں اپنے چچا زاد حدید کو پسند کرنے لگی تھی۔اس کے ہاتھ میں پڑی انگوٹھی اس بندھن کا عملی ثبوت تھی۔
پھر ایک دن چپ چاپ اماں نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی اتار دی۔اسے نا کسی نے کچھ بتایا اور نا ہی اس نے پوچھا۔پوچھنے کی ضرورت ہی ناتھی۔خاندان میں گردش کرنے والی چہ مگوئیاں سب سے پہلے اسی کے کانوں نے ہی تو سنی تھی۔حدید نے جرمنی میں ہی ایک گوری سے شادی کر لی تھی۔اس کے سارے سپنے ادھورے رہ گۓ۔آرزوئیں آہوں میں بدل گئں۔یر وقت بولنے والی بسمل کو چپ لگ گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پہروں چپ چاپ بیٹھی رہتی۔اس کے لیے زندگی ختم ہو کر رہ گئ تھی۔منگنی ٹوٹنا کوئی چھوٹا واقعہ نا تھا۔ جسےبوہ وہ دوچار روز میں بھول جاتی ۔اس کی تو دنیا ہی لٹ گی۔پھر وقت دھیرے سے آگے بڑھا مگروہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔رشتے آتے رہے پر اس نے تو ضد لگا رکھی تھی کہ شادی نہیں کرنی کبھی بھی
وقت گزرتا رہا۔وہ پڑھتی رہی۔اب ایک کالج میں لیکچرر لگ گئ۔پہلے ابا گۓ پھر اماں۔جب تک زندہ رہے بسمل کو سمجھاتے رہے بر اس کی ناں ہاں میں نا بدلی۔
کہتے ہیں جو لوگ کسی کی نہیں سنتے پھر وقت انھیں سمجھاتا ہے۔وقت نے بھی ٹھان لی تھی کہ بسمل کب تک بھاگے گی ؟پھر ایک دن اخبار پڑھتے پڑھتے وہ چونک اٹھی تھی۔
ضرورتیں اتنی بڑھی کہ اس کے مدمقابل آن کھڑی ہوئیں۔۔وہ جو سوچا کرتی تھی کہ کبھی شادی نا کرے گی۔حیرا ن رہ گئ تھی وقت کی بساط الٹنے پر۔ضرورت رشتہ کا اشتہار پڑھ کر وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔یہ کون تھا جو اس سے اس کے فیصلے بدلوا رہا تھا۔وہ کون تھا جو ضرورت بن کر اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔وہ پنتیس کی ہو چکی تھی۔جوانی سر چڑھ کر نا سہی مگر بول ضرور رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
آج اس کی آواز اس کے کانوں نے سنی تھی اور کل زمانہ سننے والا تھا۔اماں کہتی تھی بسمل میری سب سے ذہین بیٹی ہے۔یہ کبھی غلط فیصلہ نہیں کرے گی۔بسمل کے ہر آنے والے رشتے پر نکارکے بعد اماں کا یہی جواب ہوتا۔اور آج اتنے سالوں بعد جب اماں کو گزرے پانچ سال بیت گۓ تھے۔وہ آئینے کے سامنے ششد کھڑی تھی۔وہ واقعتا ذہین عورت تھی اور غیر شادی شدہ رہ کر اپنا مزید نقصان نہیں کر سکتی تھی۔اخبار لپیٹ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور آئینے کی طرف دیکھا پ وہ بھی اس کے فیصلے پہ مسکرا رہا تھا۔
۔