238

” رشتوں کا بوجھ”

تحریر شئیر کریں

روبینہ شاہین

رات کا پہر تھا۔ اماں چپ چاپ باورچی خانے میں کھڑی تھیں، ہانڈی میں چمچ چلاتی، جیسے اس ہانڈی میں ابلتے شوربے کے ساتھ ان کے دل کے ارمان بھی ابل رہے تھے۔ ان کی نگاہیں بار بار دروازے کی طرف جاتی تھیں، جیسے کسی کا انتظار ہو۔ کمرے کی گھڑی نے دس بجائے اور اماں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔

“شفیق، آج پھر دیر کر دی،” اماں خود سے بولیں۔

شفیق، اماں کا اکلوتا بیٹا، اب جوان ہو چکا تھا۔ ایک اچھی نوکری، گاڑی، اور دوستوں کی محفل میں مصروف رہتا تھا۔ وہ ہر روز دیر سے آتا اور اماں کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر بغیر شکریہ ادا کیے اپنے کمرے میں چلا جاتا۔

آج بھی ایسا ہی ہوا۔ شفیق نے دروازہ کھولا، اندر آیا اور سیدھا کمرے کی طرف بڑھا۔
“بیٹا، کھانا لگا دوں؟” اماں نے آہستہ آواز میں پوچھا۔

“نہیں اماں، میں نے دوستوں کے ساتھ کھا لیا۔” شفیق نے جواب دیا اور فون پر مصروف ہو گیا۔

اماں نے کچھ دیر تک شفیق کو دیکھا، پھر سر جھکا کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ رات کو جب اماں بستر پر لیٹیں تو ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔ ان کا دل بے دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ انہیں یاد آیا کہ شفیق بچپن میں کتنا قریب تھا، ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا، بکری کے۔بچے کی طرح ہر دم پیچھے پیچھے پھرتا،ان کی باتیں سنتا، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کا شکریہ ادا کرتا۔

“وقت کیسے بدل گیا،” اماں نے سوچا۔ “اب اسے میری کوئی ضرورت نہیں رہی۔”

اگلے دن شفیق کے دفتر جانے کے بعد اماں نے قرآن پاک اٹھایا اور سورۃ الملک کی تلاوت شروع کی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے، اور دل میں ایک دعا ابھری: “یا اللہ، میرے بیٹے کو ہدایت دے، اسے میرے حقوق کا احساس دلا دے۔”

شام کو جب شفیق واپس آیا تو اماں نے ایک بار پھر اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔

“بیٹا، تم سے ایک بات کرنی ہے،” اماں نے جھجکتے ہوئے کہا۔

“ہاں اماں، کہو،” شفیق نے بے دلی سے کہا، نظر اسکرین پر ہی تھی۔

“بیٹا، میں تم سے زیادہ کچھ نہیں مانگتی۔ بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم کبھی کبھار میرے پاس بیٹھو، میری باتیں سنو، جیسے تم بچپن میں سنتے تھے۔”

شفیق نے ایک لمحے کو رک کر اماں کی طرف دیکھا، پھر بولا: “اماں، اب میں بڑا ہو گیا ہوں، ذمہ داریاں ہیں، کام ہے، وقت نہیں ملتا۔”

اماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ “بیٹا، اب میں بوڑھی ہو گئ ہوں اور تمہیں میری ضرورت نہیں رہی، جب میں اس دنیا سے چلی جاوں گی شاید تمہیں احساس ہو کہ ماں کے پاس وقت گزارنا بھی ایک فرض تھا۔”ماں نے یہ بات سوچی ضرور مگر کہہ نا سکی

شفیق کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا: “اماں، میں آپ کو سمجھتا ہوں، لیکن ابھی میری زندگی میں بہت سے مسائل ہیں۔”

اماں نے سر جھکا لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ شفیق کے دل میں ان کے لئے محبت ہے، لیکن اس محبت کو وقت کے تقاضوں نے دھندلا دیا تھا

“بہت سے حقوق عدالت سے نہیں ملتے، والدین کہاں رپورٹ درج کروائیں گے کہ اولاد قدر نہیں کرتی!”

اماں نے رات سونے سے پہلے ڈائری میں لکھا اور بیٹے کا انتظار کرتے کرتے نجانے کب سو گئ۔ہمیشہ کی ابدی نیند
انگریزی تعلیم کے دلداہ والدین بچوں کو جو سکھاتے وہ وہی کرتے ہیں ان بچوں کو کون سکھائے؟ یہ حقوق صرف تقویٰ سے ادا ہوتے ہیں، اور اللہ کے سامنے جواب دہی کےاحساس سے ادا ہوتے ہیں

رشتے  بوجھ بن جاتے ہیں اگر دین کے مطابق تعلیم وتربیت نا ہو اور نجانے کتنی بوڑھی ماہیں رشتوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکی ہیں

” رشتوں کا بوجھ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں