363

رشتوں کو بچانے کا جادوئی فارمولا

تحریر شئیر کریں

رشتوں کو بچانے کا جادوئی فارمولا جانیئے قلم کتاب پر

آب حیات  پی کر اگر تاحیات جی بھی لیں تو ان لوگوں کے بغیر کیسے جی سکتے جو جینے کا سبب ہیں۔اگر آپ بھی مصنف کے اس قول سے متفق ہیں اور یقینا ہوں گے کیونکہ جن رشتوں سے آپ جڑے ہیں ان کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جینا تو بڑی دور کی بات ہے۔اسلام جو دین فطرت ہے رشتوں کے حوالے سے کیا خوبصورت بات کہتا ہے کہ  اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری لمبی عمر ہو اور رزق میں فراوانی ہو تو اپنے رشتوں سے اچھا سلوک کرو۔کیا خوبصورت بات ہے اور یقینا اہم بھی

یہ بھی پڑھیئے

نرم لہجہ کیوں اور کیسے؟

تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دن بدن اپنے رشتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں،اس کی  وجوہات پہ غور کریں تو سب سے بڑی وجہ کمیونیکیشن سکل کا نا ہونا ہے،جب ہم اپنے  جذبات کا اظہار  ٹھیک سے نہیں  کر پاتے تو  ہارے منفی اور مثبت جذبات اسی طرح ان کہے ہمارے اندر اودھم مچاتے رہتے ہیں،ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر کوئی اچھا لگ رہا یا کسی نے آپ سے اچھائی کی ہو تو آپ کو کھلے دل سے اس کا اظہار آنا چاہیئے  اور اگر کوئی برا لگ رہا تو  آپ کو بتانا چاہیئے کہ آپ کے فلاں رویئے کی وجہ سے  میرے دل میں منفی خیالات آ رہے ہیں،اس کے دو فوائد ہیں ممکن ہے جو بات آپ سمجھ رہے ہیں اس رویئے کی وہ وجہ ہو ہی نا اور اگلے بندے کو وضاحت کا موقع مل جاۓ،اور وہ معافی مانگ لے اور ہمارا دل اسی لمحے صاف ہو جاۓ،

ہمارا المیہ ہے کہ ہم  نفرتیں کدورتیں پالتے رہتے مگر کسی کو بتانے کی جرات نہیں رکھتے،رشتوں کو بچانے کا جادوئی فارمولا جانیئے اور اسے آج ہی اپلائی کیجئے،یہ نا صرف آپ کے رشتے بچاۓ گا بلکہ  آپ کو بہت سے گناہوں سے بھی بچاۓ گا جیسا کہ غیبت وغیرہ

جب دل کی باتیں دل میں ہی رہ جاتی ہیں تو وہ مختلف منفی جذبات کا روپ دھار  کر زبان کے زریعے نکلتی ہیں ،غیبت جیسے منفی رویئے کے پیچھے بھی یہی وجہ  دکھائی دے گی،اسی طرح اگر کوئی اچھا لگ رہا ہوتو تو اسے ضرور بتانا چاہیئے کہ آپ مجھے اچھے لگ رہے ہیں۔اگر نہیں کہیں گے تو یہ منافقت کے زمرے میں آئے گا۔ا

ور منافقت بذات خود ایک بیماری ہے،معمولی بیمارئ مت سمجھیئے یہ دل کی بیماری ہے،روگ ہے جو آخرت میں بھی پچھتاوے کا سبب بنے گا،رشتوں کو بچانے کا جادوئی فارمولا جانیئے اور اس پہ عمل پیرا ہو کر ہم نا صرف اپنے رشتوں کو بھی بچا سکتے اور آخروی کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں