387

رشتے ڈھونڈتی لڑکیوں کے نام

تحریر شئیر کریں

وہ بیٹیاں،بہنیں اور سہیلیاں جن کو مامی،چاچی،پھوپھو،خالہ،کزن،ہمسائی کی باتوں نے خوار کیا۔
”آج کل تو اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کر دیتے“
”اب تو لڑکوں ڈیمانڈ فیشن ایبل،نازک اندام لڑکیاں ہوتی ہیں“
”آج کل تو پچیس سے اوپر ہوجائے کوئی پوچھتا ہی نہیں،آج کل تو دبلی پتلی لڑکیوں کی ڈیمانڈ ہے موٹاپے کا شکار لڑکیوں کے رشتے نہیں ہوتے،٫“
وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ جیسی بہت سی ایسی باتیں جو نہ آپ کے رب العالمین نے کہیں،نہ آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں،نہ یہ قرآن میں درج ہیں نہ اس کا وجود احادیث میں ہے،یہ سب اللہ کے فضل و کرم سے محروم لوگوں کی باتیں ہیں جو آپ صحت مند زندگی کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کہی اور بولی جاتی ہیں۔
آپ ان بدنصیب لوگوں کی باتوں سے خوفزدہ ہوکر خود سے کوشش کرنے لگ گئ ہیں کہ ہم ان کو دکھائیں ہمارے نصیب میں کتنا اچھا،پڑھا لکھا باکمال شخص لکھا ہے،اور اس نظریے کے پیچھے لگ کر آپ نے خود سے جدوجہد شروع کردی ہے،آپ کی اگر کسی مرد سے معمولی ذہنی اہم آہنگی ہے تو آپ نے سوچ لیا ہے میں کوشش کرکے اس انسان کو اپنا نصیب بنا لیتی ہوں اور یوں آپ ”محبت“نامی عذاب میں گرفتار ہوکر خود کو تباہ کر بیٹھی ہیں۔
میں اپنی تمام بہنوں،بیٹیوں،سہیلیوں کو اس بات کا یقین دلانا چاہتی ہوں اللہ نے اگر زمین آسمان کی ذمہ داری خود اٹھائی ہے تو یقیناً یقیناً آپ کے نصیب کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔
وہ اللہ آپ کے لیے نہ تو کوئی برا فیصلہ کرے گا،نہ آپ کو کسی محرومی کے عذاب میں جلتا چھوڑے گا۔
اللہ بہترین فیصلے کرتا آیا ہے،۔
ہمارے آبا و اجداد بیٹیوں،بہنوں کے نصیب کے فیصلے بھی تو اللہ ہی نے کیے ہیں۔
کیا ان فیصلوں کا اثر ہمارے دادا،پردادا،کی بہن بیٹیوں کے نصیب پہ برا اثر پڑا؟
کیا ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہماری ماں کا نصیب برا لکھا اللہ نے؟
کیا ہماری یہ ہی مامی،پھوپھی،تائی،چاچی،خالائیں جو ہمیں اب معاشرے کے بال چلن سے ڈرا رہی ہیں ان کے نصیب خوفناک تھے؟؟
جو ہمارے نصیب خوفناک ہونگے؟
کیا ہماری اوپر مذکور رشتے دار خواتین نے جنگلوں میں چلے کاٹے تھے،؟صحراؤں میں جوتیاں گھسائی تھیں؟سمندروں کی لہروں پہ تسبیحات پڑھی تھیں؟بارش کے قطروں کو گنتے وظیفے کیے تھے جو ان کے نصیب اچھے ہوئے ہمارے نہیں ہونگے؟؟
سوچیں سوچیں،اور بہت زیادہ سوچیں یہ جو آپ کے اردگرد ہونے والی سرگوشیاں ہیں یہ محض پانی پہ لکھے نام کی طرح بے فیض باتیں ہیں جن کو رب العالمین کے ایک فیصلے کی لہر بہا لے جاتی ہے۔
نہ رویا کریں،ڈپریشن میں جایا کریں،خوفزدہ ہوکر غلط راستوں کا انتخاب مت کیا کریں ان لوگوں کی باتوں کا جن کے ہاتھ میں کسی کے نصیب بدلنے کا اختیار مچھر کے پر برابر بھی نہیں ہے۔
اللہ سے ڈریں،اللہ کی مانیں،اللہ کو سوچیں اور اللہ سے مانگیں وہ ہی دے گا آپ کو اپنے بھرے خزانوں کی عطا کیوں کہ باتیں کرنے والوں کے خزانے خالی ہیں یہ خود رب العالمین کے در کے سوالی ہیں۔
اللہ نے ان کو عطا اور جزا کا اختیار نہیں دیا آپ بھی نہ دیں اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔
سلامت رہیں آباد رہیں اللہ کی رضا میں راضی رہیں آمین۔

                      کرن سلطان ڈھلوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں