رمضان ڈائری – 25 رمضان کی روحانی کیفیت، دعا اور قرآن سے تعلقروبینہ شاہین
25 رمضان 1446ھ | 26 مارچ 2025
رمضان کی آخری راتوں کی برکتیں اور سحری کا روحانی تجربہ
رات کے آخری پہر نیند سے جاگنا، اندھیرے میں چند گھونٹ پانی پینا اور پھر رب کی طرف متوجہ ہونا، ایک ناقابلِ بیان کیفیت ہے۔ آنکھوں میں نیند کی بوجھل پرت، مگر دل میں ایک عجب سکون کہ شاید یہی وہ لمحہ ہے جب اللہ سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ آج کی سحری بھی کچھ ایسی ہی تھی—خاموش، پرنور اور شکر گزاری سے بھری ہوئی۔
کھجور، دودھ کا ایک گلاس اور چند نوالے۔ بس! باقی سب کچھ اللہ کی برکت پر چھوڑ دیا۔ رمضان کی روحانی راتیں وہ لمحات ہیں، جب دنیا کی چکاچوند مدھم پڑ جاتی ہے اور صرف دعا کی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔
فجر کی اذان – روح کی بیداری کا لمحہ
جوں ہی فجر کی اذان ہوئی، ایسا لگا جیسے کسی زنجیر کے ٹوٹنے کی آواز آئی ہو، جیسے دنیا کے شور سے نکل کر کسی اور ہی جہان میں قدم رکھا ہو۔ کچھ دیر اپنے دل کو ٹٹولا، شاید کوئی دعا جو بھول گئی ہو۔ پھر احساس ہوا کہ سب سے اہم دعا تو وہی ہے جو ہر روز مانگتی ہوں – اللہ کے قریب ہونے کی دعا۔
قرآن سے تعلق – سورۃ الفتح کی روشنی
آج کی تلاوت میں سورۃ الفتح کی یہ آیت دل پر اثر کر گئی:
*”إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا”*
*(بے شک ہم نے تمہارے لیے ایک کھلی فتح عطا کی۔)*
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ناکامی کے بعد کامیابی، رات کے بعد سحر، آزمائش کے بعد آسانی اور ہر درد کے بعد شفا اللہ ہی دیتا ہے۔ ہمیں بس صبر، دعا اور یقین کے ساتھ اس کے فیصلوں پر بھروسہ کرنا ہے۔
افطار کے لمحات – رمضان کی آخری ساعتوں کی تڑپ
افطار کا وقت ہمیشہ خوشی لاتا ہے، مگر آج دل کچھ بوجھل تھا۔ شاید یہ احساس کہ رمضان اب رخصت ہونے کو ہے۔ کھجور اٹھاتے ہوئے ایک لمحے کے لیے وقت تھم سا گیا۔ یہ رمضان کی چند آخری افطاروں میں سے ایک ہے۔
اذان ہوئی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اور دل سے ایک ہی دعا نکلی:
*”یا اللہ، جو کھو گیا، اسے لوٹا دے، جو چھن گیا، اس کا نعم البدل عطا کر، اور جو باقی ہے، اسے سنوار دے۔”*
رمضان – تبدیلی کا موقع یا بس ایک رسم؟
رمضان کے دن تیزی سے گزرتے ہیں، اور ہر دن ہمیں اس کے اختتام کے قریب لے جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رمضان نے ہمیں بدلا؟ کیا ہماری دعائیں محض الفاظ تک محدود تھیں یا دل میں بھی اتریں؟ کیا قرآن سے ہمارا رشتہ صرف تلاوت کا تھا یا ہم نے اس کے پیغام کو سمجھا؟ کیا عبادات رسم و رواج تھیں یا واقعی ہمیں اللہ کے قریب لے گئیں؟
یہی وقت ہے خود کو جانچنے کا، اپنی روح کے آئینے میں جھانکنے کا۔
رمضان کی آخری دعائیں – اللہ ہمیں قبول کر لے
اے اللہ، یہ رمضان ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی لے آئے۔ ہمیں وہ مغفرت عطا کر دے جو ہمیں ہمیشہ کے لیے پاک کر دے۔ ہمارے دلوں کی سختی کو نرمی میں بدل دے، اور ہمارے اندر وہ روشنی پیدا کر دے جو تیرے قرب کا ذریعہ بنے۔ ہمارے اعمال کو قبول کر لے اور ہمیں رمضان کے بعد بھی تیری عبادت میں استقامت عطا فرما۔
آمین، یا رب العالمین۔