360

سارے رشتوں کا تم حوالہ ہو

تحریر شئیر کریں

سارے رشتوں کا تم حوالہ ہو

برابری کا مطالبہ کرکے
مجھ کو مشکل میں ڈال دیتی ہو
ابن آدم ہوں
بنت حوا ہو
کیسے یکساں بھلا ہم دونوں ہوں
تم تو جنت کا راستہ ٹھہریں
تم تو رحمت کا واسطہ ٹھہریں
مجھ کو الفت سے ماں کی جوڑ دیا
دل کو بیٹی کی خاطر موم کیا
تم سے گھر کا سکون وابستہ
گھر بھی عورت کے دم سے ہے بستا
دل کی چھوٹی سی کائنات ہو تم
گھر کے رنگوں کی آبشار ہو تم
کیوں بھلا مشکلوں میں گھر جاؤ
زمانے سے تم کیوں لڑ جاؤ
میں تحفظ بھی دوں گا عزت بھی
میری پہچھان ہو محبت بھی
اپنے کندھوں پر بار نہ ڈالو
میری نسلوں کو پیار سے پالو
آؤ ہم کام بانٹ لیتے ہیں
رب کی باتوں کو مان لیتے ہیں
تم مجھ کو حوصلہ دینا
عزم باندھوں تو مسکرا دینا
کب ہو کمزور تم توانا ہو
سارے رشتے ہو تم زمانہ ہو
آشیاں اک نیا بسائیں گے
ساری دنیا کو یہ دکھائیں گے
پر فریبی ہے صرف نعروں کی
بات کرتے ہیں جو بہاروں کی
دشمن دیں نے جال پھیلائے
میرے گھر کے چراغ دھندلانے

مدیحہ صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں