سارے رشتوں کا تم حوالہ ہو
برابری کا مطالبہ کرکے
مجھ کو مشکل میں ڈال دیتی ہو
ابن آدم ہوں
بنت حوا ہو
کیسے یکساں بھلا ہم دونوں ہوں
تم تو جنت کا راستہ ٹھہریں
تم تو رحمت کا واسطہ ٹھہریں
مجھ کو الفت سے ماں کی جوڑ دیا
دل کو بیٹی کی خاطر موم کیا
تم سے گھر کا سکون وابستہ
گھر بھی عورت کے دم سے ہے بستا
دل کی چھوٹی سی کائنات ہو تم
گھر کے رنگوں کی آبشار ہو تم
کیوں بھلا مشکلوں میں گھر جاؤ
زمانے سے تم کیوں لڑ جاؤ
میں تحفظ بھی دوں گا عزت بھی
میری پہچھان ہو محبت بھی
اپنے کندھوں پر بار نہ ڈالو
میری نسلوں کو پیار سے پالو
آؤ ہم کام بانٹ لیتے ہیں
رب کی باتوں کو مان لیتے ہیں
تم مجھ کو حوصلہ دینا
عزم باندھوں تو مسکرا دینا
کب ہو کمزور تم توانا ہو
سارے رشتے ہو تم زمانہ ہو
آشیاں اک نیا بسائیں گے
ساری دنیا کو یہ دکھائیں گے
پر فریبی ہے صرف نعروں کی
بات کرتے ہیں جو بہاروں کی
دشمن دیں نے جال پھیلائے
میرے گھر کے چراغ دھندلانے
مدیحہ صدیقی