245

سفرِ حرمین کیسے کریں؟

تحریر شئیر کریں

*سفرِ حرمین کیسے کریں؟*

*باب اوّل*

*سفر حرمین کی اہمیت*

*قِسط 1*

نَحمَدُہ و نُصَلّی عَلٰی رَسُولِهِ الکَریم ۔ وَ نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِن شُرُورِ اَنفُسِنا وَ مِن سَیّاٰتِ اَعمالِنا ۔ مَن یَّھدِہِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَه وَ مَن یُّضلِلهُ فَلَا هَادِیَ لَه وَ نَشھَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ نَشھَد اَنَّ مُحَمَّدً عَبدُه وَ رَسُولُه اَمَّا بَعدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیم ۔ بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
اَلحَجُّ اَشھُر مَّعلُومات ۔ فَمَن فَرَضَ فِیھِنَّ الحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِی الحَجَّ ۔ وَمَا تَفعَلُوا مِن خَیرٍ یَّعلَمہُ اللّٰہ وَ تَزَوَّدُو فَاَنَّ خَیرُا الزَّادِ التَّقویٰ ۔ وَالتَّقُونِ یَآاُولِی الاَ الباب ۔ صَدَقَ اللّٰهُ العَظِیم ۔

اللّٰہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ ہمیں آج دین کی نسبت سے بیٹھنے کا موقع ملا ہے ، اللّٰہ کی کروڑوں رحمتیں ہم سب پر ہیں کہ اُس نے ہمیں دین کی بات سننے کے لیے بٹھایا ۔۔ دین کی نسبت سے بیٹھنا اللّٰہ کی توفیق سے ہوتا ہے ۔ بندے میں اپنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی توفیق سے کوٸی نیک کام کر سکے ۔

*توفِیق باللّٰہ کا عجیب واقعہ*
حضرت ابراہیم علیہِ الصَّلوٰة السّلام نے حج کیا اور وہ حج جو حضرت ابراہیم علیہِ الصَّلوٰةُ وَالسَّلام نے کیا تھا ، اُس حج میں سکندرِ اعظم بھی شریک تھے ۔ یہاں ایک بات یہ بھی سمجھ لیں کہ سکندرِ اعظم وہی بادشاہ ہیں جِن کا ذکر قُرآن مجید میں ذُوالقرنین کے نام سے کِیا گیا ہے ۔
حج سے فراغت کے بعد ذُوالقرنین اپنے خُدّام کے ساتھ کہیں جانے لگے تو سیّدنا ابراہیم علیہِ الصَّلوٰةُ وَالسَّلام نے اُن سے پُوچھا کہ ذُوالقرنین کہاں جا رہے ہو ؟
حضرت ذُوالقَرنین نے جواب دیا کہ حضرت! میرے جُغرافیہ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ آبِ شفا کا چشمہ ایک ایک ہزار سال کے بعد کھلتا ہے ۔اور اب کُچھ ہی دیر میں فلاں مقام پر وہ چشمہ کھلنے والا ہے ۔ تو مَیں ، جغرافیہ کے ماہرین اور اپنے مصاحبِین کو اپنے ساتھ اُسی چشمے کے مقام پہ لے کے جا رہا ہوں ۔
اِس پر حضرت ابراہیم علیہِ السَّلام نے فرمایا کہ ہمیں بھی لے کے چلو ۔ اُنہوں نے کہا ، ٹھیک ہے ۔ آپ بھی چلیں ،
حضرت ابراہیم علیہِ السَّلام نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ شخص بڑے کام کا ہے ۔ اسے بھی ساتھ لے چلتے ہیں ۔۔۔ معلُوم ہُوا ، وہ شخص حضرت خضر علیہِ السَّلام تھے ۔ ذُوالقرنَین نے کہا ، جی بالکل لے چلیں ۔۔
یوں یہ سارا قافلہ اس مقام تک پہنچا اس مقام تک پہنچے اور چشمے کی جگہ تلاش کرنا شُروع کی۔ ۔ خود حضرت ذُوالقرنَین اور ان کے درباری بھی تلاش میں لگے ہُوٸے تھے کہ اچانک ایک جگہ سے زمین پھٹی اور ایک چشمہ پھوٹا ۔ اس وقت اس جگہ کے سب سے زیادہ قریب حضرت خِضر علیہِ السّلام تھے ۔۔ انہوں نے جلدی سے وہ پانی ہاتھوں میں بھرا اور پی لیا تو پتہ چلا کہ اس پانی کا ذاٸقہ کُچھ نٸی قسم کا ہے ۔ اِس سے اُن کو اندازہ ہو گیا کہ یہی آبِ شفا ہے ۔ اُنہوں نے فورًا آواز لگاٸی کہ بادشاہ سلامت! آ جاٶ ، جلدی سے آ جاٶ ، مطلُوبہ چشمہ مل گیا ہے ۔آواز سن کر بادشاہ ذُوالقرنَین بھاگ کے آٸے مگر عجیب معاملہ ہوا کہ جیسے ہی وہ چشمے کے پاس پہنچے ۔ چشمہ اُسی وقت بند ہو گیا اللہ اکبر

معلُوم ہوا ، کِسی بھی کام کا کرنا مقدّر سے ہوتا ہے ۔
اس واقعے پر بڑے بڑے بڑے بڑے شاعروں نے شاعری کی ہے ۔ جیسا کہ مولانا رُومی رحمہُ اللّٰہ اپنے فارسی کےاشعار میں یہ سارا واقعہ نقل کر کے لکھتے ہیں ، سارے حشم و خدم ، سب جگہ تلاش اور بھاگ دوڑ ذُوالقرنَین کی ہوٸی مگر توفیق ملی تو حضرت خِضر علیہِ السّلام کو ملی ۔ کہ اللّٰہ کی توفیق سے ہوتا ہے کسی اور کی توفیق سے نہیں ہوتا ۔ اللّٰہ کی توفیق سے ہوتا ہے اِنسان کی کوشش سے نہیں ہوتا ۔
اِسی طرح اللّٰہ تعالیٰ دین کی بات سُننے کی توفیق بھی عطاء فرماتے ہیں تو ہی انسان دین کی بات کر اور سن سکتا ہے
اِیں سعادت بزورِ بازُو نیست ۔
اپنے بازُو کے زور پہ کوٸی سعادت حاصِل نہیں ہوتی ۔

*جاری ہے*

(اپنا صدقہ جاریہ سمجھ کر فارورڈ کر دیں)

*ماخوذ از بیان*
رہنُماٸے شریعت ، حضرتِ اقدس مُفتی فیصل حیات صاحِب دامَت برکاتہُمُ العالیہ
*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں